ابو سالم: چھوٹے شہر کا لڑکا ممبئی کا ڈان کیسے بن گیا

 

ممبئی کی مخصوص ٹاڈا عدالت نے 1993 میں ہونے والے دھماکوں کے معاملے میں ابو سالم کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

انڈین ریاست اتر پردیش سے نکل کر انڈر ورلڈ سے تعلقات قائم کرنے والے سالم کے نام کے ساتھ اکثر ‘انڈر ورلڈ ڈان’ کا تخلص بھی لگایا جاتا ہے۔

حالانکہ سالم کے سفر پر قریبی نظر رکھنے والوں کا دعوی ہے کہ وہ کبھی انڈرورلڈ ڈان نہیں تھے۔ بلکہ 1993 کے دھماکوں سے پہلے وہ داؤد ابراہیم کے بھائی انیس ابراہیم کے ڈرائیور کا کام کرتے تھے۔

سالم پر کتاب لکھنے والے سینیئر صحافی حسین زیدی کا دعوی ہے کہ سالم پر جیل میں رہنے کے دوران جو حملے ہوئے ان کی اہم وجہ یہ ہی ہے کہ باقی گینگسٹرز کے درمیان انہیں ڈان جیسا رتبہ حاصل نہیں ہے۔ سالم کی شروع کی زندگی کافی تنگ حالی میں گزری۔

ابو سالم کا خاندان اتر پردیش کے اعظم گڑھ ضلعے میں سرائے میر سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کے والد قیوم انساری وکیل تھے۔

ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ قیوم انصاری کے انتقال کے بعد ان کے خاندان کو انتہائی غربت میں گزارا کرنا پڑا۔ ابو سالم کی ماں نے چھوٹے موٹے کام کر کے خاندان کو پالا۔

عبدل قیوم انصاری سرائے میر سے نزدیکی شہروں کی عدالتوں میں مقدموں کے لیے جایا کرتے تھے۔ ایک بار وہ اپنی موٹر سائیکل پر جا رہے تھے جب ایک حادثے کا شکار ہو گئے۔ موقعے پر ہی ان کی موت ہو گئی۔ ابو سالم کو ان کے چچا نے پال پوس کر بڑا کیا

حسین زیدی بتاتے ہیں کہ ‘بڑا ہونے کے بعد سالم کام کی تلاش میں دلی آ گئے جہاں انھوں نے کچھ عرصے تک بائیک ریپیئر کرنے کا کام کیا۔ لیکن وہاں کچھ بات نہیں بنی اور وہ 20-22 برس کی عمر میں ممبئی آ گئے۔

زیدی کے مطابق اس وقت یعنی 1990 کے دور میں ممبئی کے ایک چھوٹے سے شاپنگ سینٹر میں سالم ایک دکان میں بیلٹ اور فیشن کی چیزیں بیچا کرتے تھے۔

سنہ 1980-1990 تک کا ماحول ایسا تھا کہ ہر کوئی شہر کا بڑا غنڈا یا بھائی بننا چاہتا تھا۔ بیشتر کے لیے داؤد ابراہیم رول ماڈل بن چکا تھا۔

شاپنگ سینٹر میں بھی کئی ایسے لوگ آتے تھے جو غنڈہ گردی کرتے تھے اور ابو سالم ان سے کافی متاثر تھے۔

اس دور میں اگر کوئی کھلے عام جاکر کسی سے کہتا تھا کہ وہ داؤد کا آدمی ہے تو اسے بری بات نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لوگوں میں اس نام کا ڈر تھا۔ حالانکہ آج کوئی اس طرح کی باتیں کھل کر نہیں کہتا ہے۔ دن میں دکان پر بیٹھنے کے بعد رات کو ابو سالم انہیں لوگوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نکل جاتے تھے۔

دیکھتے دیکھتے وہ داؤد کے چھوٹے بھائی انیس ابراہیم کے لیے سونے کی سمگلنگ کرنے لگے۔ وہ ڈلیوری کے لیے اکثر سالم کو کچھ اور لڑکوں کے ساتھ بلا لیا کرتے تھے۔ اس طرح سونے کی سمگلنگ کے بارے میں سلیم کو کافی معلومات ہو گئی۔

انیس فون پر ابو سالم کو ہدایات دیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ براہ راست داؤد سے رابطے میں نہیں تھے لیکن وہ خود کو اہم سمجھنے لگے تھے۔

اس درمیان ابو سالم کا بالی وڈ سے کوئی رشتہ قائم تو نہیں ہوا تھا لیکن انھوں نے ‘نرموہی’ نام کی ایک فلم بنانے کی کوشش ضرور کی تھی۔ انھوں نے اس کے لیے 11 گانے بھی ریکارڈ کیے تھے اور خود ہی ہیرو بھی بنے تھے۔ لیکن آدھا ایک گھنٹے کی شوٹنگ کے بعد انھوں نے یہ فلم چھوڑ دی۔

اس کے بعد انہیں سمیرہ نام کی ایک لڑکی سے محبت ہو گئی۔ دونوں نے بھاگ کر شادی کر لی۔ سمیرہ نابالغ تھی اور اس کے گھر والوں نے ابو سالم پر مقدمہ کر دیا۔ لیکن سمیرہ کی رضامندی کی وجہ سے سالم بچ گئے اور دونوں ساتھ رہنے لگے۔

حسین زیدی کے مطابق 1993میں بالی وڈ اداکار سنجے دت نے انیس کو فون کیا اور کہا کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں اور اپنی حفاظت کے لیے انہیں ایک گن چاہیے۔

انیس نے ابو سالم کو فون کر کے کہا ‘جا کر سنجو کو مشین دے آؤ۔’ اس دن زندگی میں پہلی مرتبہ ابو سالم کی ملاقات کسی فلم سٹار سے ہوئی تھی۔

 

ممبئی دھماکوں کے بعد جو بیانات درج کیے گئے تھے ان میں ابو سالم نے قبول کیا تھا کہ وہ اپنے سامنے کسی فلم سٹار کو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے اور انھوں نے کم از کم تین مرتبہ سنجے دت کو گلے لگایا تھا۔

انڈیا میں میڈیا نے انہیں ڈان ضرور کہا لیکن ان کے خلاف کوئی بڑے معاملے نہیں تھے۔ گن پہنچانا ہی ان کا ایک بڑا جرم تھا۔ لیکن جب وہ دبئی پہنچ گئے اور وہاں سے لوگوں کو دھمکیاں دینے لگے تب وہ لوگوں کو ڈان لگنے لگے۔

اس کے بعد ابو سالم نے فلم پروڈیوسر گلشن کمار کا قتل کروا دیا۔ اس کے بعد انہیں مونیکا بیدی سے محبت ہو گئی اور انہوں نے شادی کر لی۔

جبراً وصولی کے کچھ معاملوں میں بھی سالم کو کامیابی ملی۔ لیکن پھر 1989 کے آس پاس کچھ خطرات کی وجہ سے ابو سالم گینگ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس درمیان وہ یورپ اور امریکہ میں کچھ کام کرتے رہے۔ 9 /11 کے دوران ابو سالم امریکہ میں موجود تھے۔

حسین زیدی بتاتے ہیں ‘امریکہ میں ان کا ایک پیٹرول پمپ، ایک تھئیٹر اور کچھ جائداد ہے جہاں سمیرہ آج بھی رہتی ہیں۔’

ناروے میں مونیکا بیدی کے والدین رہتے ہیں۔ اسی لیے ابو سالم یورپ گھومنے جانے لگے۔ وہ ایک ایسی جگہ کی تلاش میں تھے جہاں لوگ ہندی نہ جانتے ہوں۔ جہاں زیادہ انڈین نہ ہوں اور وہ آسانی سے چھپ سکیں۔

لسبن انہیں محفوض جگہ لگی۔ وہ وہاں بسنا چاہتے تھے۔ لیکن امریکہ اور انڈیا کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو اپنے یہاں چھپے مجرموں کے بارے میں بتائیں گے۔

جب ابو سالم نے دنیا بھر میں پیسوں کا لین دین شروع کیا تو وہ ایف بی آئی کی نظروں میں آ گئے۔ ایف بی آئی سے ملی معلومات کی مدد سے انڈیا نے 2002 میں ابو سالم کو لسبن میں پکڑ لیا۔

ابو سالم کی سپردگی کے لیے انڈیا کی طرف سے پرتگال حکومت کو لکھ کر یہ یقین دلایا گیا تھا کہ ابو سالم کو 25 برس سے زیادہ جیل نہیں ہوگی اور موت کی سزا نہیں دی جائے گی۔ ابو سالم عمر قید کی سزا سنائے جانے سے پہلے ہی جیل میں 12-13 سال گزار چکے ہیں۔

قالب وردپرس

Loading...