انتظار کی گھڑیاں ختم، پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان آج میدان سجے گا

شائقین کرکٹ کے انتظار کی گھڑیاں ختم، انٹر نیشنل کرکٹ کا جمود ٹوٹ گیا، جذبوں کی گرج چمک کیساتھ قذافی سٹیڈیم میں آج چوکوں چھکوں کی بارش ہوگی، آزادی کپ ٹی ٹونٹی میلہ سج گیا۔ 7 ممالک کے کرکٹ سٹارز میدان میں اتریں گے۔

پاکستان کی ٹیم اور ورلڈ الیون کے مابین ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کا پہلا میچ آج شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔ دوسرا کل شام 7 بجے جبکہ تیسرا اور سیریز کا آخری میچ جمعہ 15 ستمبر کی شام کو کھیلاجائے گا۔ تینوں میچ مصنوعی روشنیوں میں ہوں گے۔

پی سی بی نے صدرمملکت، وزیراعظم اور آرمی چیف کو بھی آزادی کپ کے میچز دیکھنے کی دعوت دیدی۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے آزادی کپ ٹی 20 سیریز کو آفیشل قرار دیدیا۔ ایوارڈ یافتہ ایلیٹ پینل امپائرعلیم ڈار ہوم گرانڈ پر طویل مدت کے بعد میچ سپروائز کریں گے۔ ویسٹ انڈیز کے رچی رچرڈسن میچ ریفری کے فرائض انجام دیں گے۔

ورلڈ الیون کے دورے کے موقع پر قذافی سٹیڈیم، نشتر سپورٹس کمپلیکس، سٹیڈیم کے گرد کے علاقوں، ریسٹورنٹس اور دکانوں کو 15 ستمبر تک بند رکھا جائے گا جبکہ قذافی سٹیڈیم آنے والے تمام راستوں پر جدید کیمرے نصب کر کے سٹیڈیم کو ہائی الرٹ ایریا بنا دیا گیا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: ہم کرکٹ سے بڑھ کر کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں: فاف ڈیوپلیسی

گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے قذافی سٹیڈیم، غیر ملکی کھلاڑیوں کی قیام گاہ (ہوٹل) اور اطراف کے علاقوں کی ہیلی کاپٹر سے فضائی نگرانی شروع کر دی۔ ذرائع کے مطابق فضائی نگرانی کا سلسلہ ورلڈ الیون ٹیم کی روانگی تک جاری رہے گا۔

سیکیورٹی پر تعینات 8 ہزار پولیس اہلکار اور 2400 وارڈنز ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے۔ بائیومیٹرک تصدیق اور جامع تلاشی کے بعد شائقین کو سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت ہوگی، سیف سٹی اتھارٹی کے 200 سے زائد کیمروں کے ساتھ براہ راست مانیٹرنگ ہوگی۔

بتایا گیا ہے کہ پہلے میچ کے تمام ٹکٹ فروخت ہوچکے ہیں اور دوسرے میچوں کے ٹکٹوں کی فروخت تیزی سے جاری ہے۔ جبکہ آج ہونے والے پہلے میچ کے ٹکٹ بلیک میں فروخت ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

مزید جانئیے: آزادی کپ کیلئے ورلڈ الیون کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی

سی سی پی او لاہور نے تمام پولیس افسروں اور تھانیداروں کے ساتھ 4 گھنٹے تک میٹنگ کی اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ گزشتہ روز سپیشل برانچ کے عملے نے قذافی سٹیڈیم کے اندر اور باہر ایک بار پھر مکمل سکریننگ کی اور سکیورٹی پولیس اور رینجرز کے سپرد کر دی۔ حساس اداروں کے اہلکاروں کی بھی ڈیوٹیاں لگ گئیں۔ ماہر نشانہ باز بلند عمارتوں پر تعینات کر دئیے گئے ہیں۔

قالب وردپرس

Loading...