انٹرویو میں مردوں کی نسبت خواتین امیدواروں سے زیادہ کڑے سوالات

ملازمت کے لیے انٹرویو دینے جانا مرد و خواتین سب کے لیے ایک پریشان کن مرحلہ ہوتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرویو میں خواتین امیدواروں کو مردوں سے زیادہ کڑے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جرنل آف سوشل سائنسز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جب خواتین ملازمت کے لیے انٹریو دینے جاتی ہیں تو دوران انٹرویو انہیں مردوں کی نسبت بار بار ٹوکا جاتا ہے جبکہ ان سے سوالات بھی اس طرح پوچھے جاتے ہیں جیسے ان سے جرح کی جا رہی ہو۔

تحقیق کے مطابق یہ رویہ اس وقت زیادہ ہوسکتا ہے جب انٹرویو لینے والا پینل مردوں پر مشتمل ہو۔

ماہرین عمرانیات کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں کہا گیا کہ اگر کسی بڑے ادارے میں کسی اعلیٰ عہدے کے لیے، لیے جانے والے انٹرویو میں کسی خاتون کو ان کی متاثر کن سی وی اور عملی میدان میں کامیابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شارٹ لسٹ بھی کیا جاتا ہے تب بھی انہی اپنے سے کم صلاحیت کے مرد امیدواروں سے سخت مقابلہ درپیش ہوتا ہے۔

امریکا کی 2 اہم یونیورسٹیوں میں کی جانے والی اس تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ انٹرویو کے دوران خواتین امیدواروں کے جوابات سے مطمئن نہ ہوتے ہوئے انہیں بار بار اپنی صلاحیت اور ذہانت ثابت کرنے کے لیے کہا گیا جس سے وہ انٹرویو کے دوران کنفیوژن کا شکار ہوگئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرویو کے دوران روا رکھے جانے والا یہی رویہ اس وقت زیادہ تر شعبوں میں مردوں کی اجارہ داری کی وجہ ہے۔

ان کے مطابق یہ صورتحال صرف انٹرویو کے دوران ہی نظر نہیں آتی۔ عام زندگی میں بھی جب مرد کسی دفتری معاملے پر کسی خاتون سے گفتگو کررہے ہوں تو وہ مردوں سے گفتگو کے مقابلے میں خواتین کی بات زیادہ کاٹتے ہیں اور درمیان میں بول اٹھتے ہیں۔

علاوہ ازیں مرد خود آپس میں ایک دوسرے کی بات اسی وقت کاٹتے ہیں جب وہ ایک دوسرے کی کہی گئی باتوں کی تصدیق کرنا چاہ رہے ہوں۔

تحقیق میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ تعلیمی میدان میں مردوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے باوجود خواتین عملی میدان میں مردوں سے پیچھے نظر آتی ہیں جس کی وجہ ان کے لیے مواقعوں میں کمی اور ساتھی مردوں کی جانب سے صنفی امتیاز کا برتا جانا ہے۔

قالب وردپرس

Loading...