ایئر انڈیا پر اب گوشت نہیں ملے گا –

ایئر انڈیا اب اخراجات کم کرنے کے لیے اپنی ڈومیسٹک پروازوں کے دوران اکانمی کلاس کے مسافروں کو ویجیٹیریئن یا ‘ویج’ کھانوں کے علاوہ کوئی اور کھانا نہیں فراہم کرے گی۔

بھارتی حکومت قومی ایئرلائن ایئر انڈیا کو نجکاری کی جانب لے جانا چاہتی ہے اور اسی لیے وہ مقروض ائیرلائن کے خرچے کم کرنے کی کوشیش کر رہی ہے۔

تاہم ناقدین نے اس فیصلے کو ‘امتیازی’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تبدیلی سے ایئرلائن کے قرضوں کی لاگت اور مالی حالات پر اتنا ہی فرق پڑے گا جو نہ ہونے کے برابر ہو۔

ایئر انڈیا کے سربراہ نے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس پر آنے والے رد عمل پر حیران ہیں۔

لیکن اس رد عمل کا تعلق بھارت کی سیاست سے ہے کیونکہ کھانے کا معاملہ یہاں ایک انتہائی سیاسی رنگ اختیار کر چُکا ہے۔

روایتی طور پر ہندو سبزی خور ہیں اور مسلمان گوشت خور۔ ساتھ ہی ہندو مذہب میں گائے کے مقدس مقام کی وجہ سے اس پر پی جے پی دور میں کئی فسادات اور ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس سلسلے میں جارحانہ کارکنوں یا ‘گاؤ رکشکوں’ کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

منگل (گیارہ جولائی) کو انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک میں بیف کی تجارت پر پابندی کے مجوزہ قانون کو معطل کر دیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ وہ اس قانون کے ذریعے ملک میں بیف کی غیر قانونی کاروبار کو روکنا چاہتی ہے۔

کئی ناقدین کہتے ہیں کہ ایئر انڈیا کے فیصلے میں ہندو قوم پرستی ظاہر ہوتی ہے۔ بنگلور کے شیف اور کھانوں پر لکھنے والے مدھو میمن نے ٹوئٹر پر لکھا ‘ایئر انڈیا پر صرف ویج کھانا۔ اگلا قدم: فلائٹ اٹینڈنٹ صرف ہندی میں بات کریں گے۔ا س کے بعد قومی ترانے پر کھڑے ہونے کا حکم آئے گا’۔تاہم ایئر انڈیا کے چیئرمین اور ایم ڈی اشوانی لوہانی نے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے اپنے فیس بُک پر لکھا کہ اس اقدام کے کئی فائدے ہیں کیونکہ اس سے ‘ضیاع میں کمی ہوگی، خرچے میں بچت ہوگی، سروس بہتر ہوگی اور کنفیوژن کی گنجائش کم ہوگی’۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ چھوٹی پروازوں پر کھانا ایک اضافی سہولت ہے لیکن اتنا اہم پہلو نہیں جس پر اتنی زیادہ بحث ہو۔

یاد رہے کہ کئی یورپی اور امریکی ایئر لائنوں پر تو اب کھانا ٹکٹ کی قیمت میں شامل نہیں رہا ہے۔ تاہم بھارتی مارکیٹ میں ائیر انڈیا کی حریف کمپنیاں اس فیصلے کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ ایک ایسی ائیرلائن ‘وِسٹارا’ نے ٹؤئٹر پر اس بات پر زور دیا کہ ان کی پروازوں پر ویجیٹیرین یا مرغی دونوں آپشن موجود ہیں۔

ایئر انڈیا کے اس کٹوتی سے ایئر لائن کو طویل عرصے میں ہی فائدہ ہو سکے گا۔

اس وقت ائیرلائن کے قرضوں کی لاگت آٹھ ارب ڈالر ہے۔ اس لیے نجکاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ پچھلے ماہ حکومت نے اس کی اصولی منظوری دے کر اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔ کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ اس کے کتنے حصے کو فروخت کیا جانا چاہیے اور اس کے قرص کے کتنے حصے کو معاف کیا جانا چاہیے۔

ٹاٹا گروپ اور اِنڈیگو دونوں نے اس سودے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 2012 میں ایئر انڈیا کو مالی خسارے سے بچانے کے لیے پونے چھ ارب ڈالر سے زیادہ کا ‘بیل آؤٹ’ دیا گیا تھا۔

ایئر لائن قومی ٹیکسوں سے ملنے والی رقم پر انحصار کرتی ہے۔

قالب وردپرس

Loading...