برکھا بہار آئی رے!

ہر سال بادلوں، بارشوں، گھٹاؤں کی کھڑکی توڑ کامیابی کے بعد اس سال بھی ساون کی نمائش جاری ہے۔ کیا سماں ہے! آسمان مارے گھٹاؤں کے اودا کانچ ہوا جا رہا ہے، نہر کا پانی کناروں سے چھلکا پڑتا ہے۔

کالی کالی جامنیں پٹا پٹ سرمئی سڑک پر گر رہی ہیں۔ پھل فروش صدائیں لگاتے گزر رہے ہیں: ’ثمر بہشت، انور رٹول، چونسہ، لنگڑا، شرطیہ مٹھے۔ لیچی کے خوشے، یاقوتوں کی آب کو مات کر رہے ہیں۔‘

بارش برستی ہے تو سڑکوں پہ عجب سماں طاری ہو جاتا ہے۔ من چلے سائیکلوں پر بھیگی ہوئی رت کا مزہ لینے کو نکلتے ہیں۔ بھیگے پیرہنوں اور اڑتے آنچلوں کی باہم چشمکوں کا نظارہ کرتے ہیں، کوئی گرتا ہے کوئی سنبھلتا ہے، الغرض ساون کا سماں بندھ جاتا ہے۔

اس برستے ساون میں جب ہمارے محبوب لیڈرانِ کرام گم بوٹ پہن کر نکلتے ہیں تو یقین جانیے سب نظارے ماند پڑ جاتے ہیں۔ کوٹھوں پر بارش میں بھیگتی مٹیاریں اس حسن کے آگے محجوب ہو کر سیڑھیاں اتر جاتی ہیں، اور صحن میں بھرے پانی میں ڈوب مرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن چونکہ وہ چلو بھر نہیں ہوتا اس لیے ارادہ ترک کر دیتی ہیں۔

گلیوں، بازاروں تہہ خانوں میں بارش کا پانی بھر کر عجب بہار دکھاتا ہے۔ مفت میں اصولِ ارشیمیدس سمجھ میں آ جاتا ہے کہ جس شے کا حجم اس کے وزن سے زیادہ ہو وہ پانی میں نہیں ڈوبتی۔ اسی اصول پہ عمل کرتے ہوئے دلدل میں پھنسے شخص کو لیٹنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ویسے ہم سب آج کل یہ نظارہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ دلدل میں پھنسا شخص کس طرح لیٹ کر ڈوبنے سے بچ رہا ہے، اللہ کے فضل و کرم سے۔

جب یہ پانی تادیر کھڑا رہتا ہے تو اس میں سے ایک ایسی بھینی بھینی باس اٹھتی ہے کہ اس کے آگے بقول شیکسپئیر عرب کے سارے عطر پھسپھسے محسوس ہوتے ہیں۔

بارش کی یہ نعمت، پہاڑی نالوں، برساتی روؤں اور دریاؤں کی شکل میں گنگناتی، اٹھلاتی، میدانی علاقوں میں اترتی ہے تو میدانوں کے باسی خوشی سے ناچ اٹھتے ہیں اور اپنے محبوب ترین رہنماؤں کو ڈھونڈنے کے لیے ان کی نظریں بےچینی سے بار بار آسمان کی طرف اٹھتی ہیں اور جب ہیلی کاپٹر کے پروں کی مہیب پھڑ پھڑاہٹ سنائی دیتی ہے تو ان کے دل، محبت، عقیدت اور نیاز مندی کے جذبات سے بھر جاتے ہیں اور وہ رندھے گلوں سے، لرزتے ہاتھوں اور بھیگے دامنوں کو پھیلا کر یہ دعا کرتے ہیں کہ ’اے اللہ! انصاف کر، یہ تیری نعمتیں، یہ بہتا پانی، یہ گھٹائیں، یہ سرد جھونکے، یہ لہروں کے دوش پر بہتے ہمارے مال مویشی، یہ بارش کے پانی میں غرق ہماری فصلیں، یہ سیلاب سے غرقاب ہماری بستیاں، یہ سب نظارے جو قسمت والوں کو ملتے ہیں، ان سے صرف ہمی کیوں بہرہ مند ہوں؟

اے خدائے بحر و بر! تیری رحمت کا تو نہ کوئی اور ہے اور نہ چھور، تو اپنی بڑائی کے صدقے ان بے چارے لیڈرانِ کرام کو بھی ان نعمتوں سے مالا مال فرما۔ تاکہ ان کایہ یقین مزید پختہ ہو جائے کہ بارش قدرتی نعمت ہے اور اس نعمت کی قدر، قدر دان ہی جانیں۔

بارش کا یہ پانی سیلاب لاتا، سڑکیں، پل، انفراسٹرکچر تباہ کرتا، بحیرۂ عرب میں جا گرتا ہے۔ ایسا صدیوں سے ہوتا رہا ہے اور صدیوں تک ہوتا رہے گا۔ ہم سب قانونِ فطرت کو مانتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ انسان اس دشتِ حیرت میں، جس کا نام دنیا ہے، ایک ذرۂ بے نشاں ہے، بھلا فطرت سے بھی کوئی ٹکر لے سکا ہے؟

اب ایسا ہے کہ بارش برس رہی ہے، عناصر انسان کو شکست دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ دانا لوگ بلند مقامات کا رخ کر رہے ہیں اور نادانوں کے مقدر میں تو ظاہر ہے جو لکھا ہے، پیش آئے گا۔

خوشی اس بات کی ہے اور دل یوں بلّیوں اچھل رہا ہے کہ کچھ ہی دیر میں ہمارے محبوب رہنما ایک بار پھر گم بوٹ پہنے اپنی تمام تر وجاہتوں سمیت (جوتوں سمیت آنکھوں میں گھس آنا ایک متروک محاورہ ہے) آنکھوں میں سمائے جا رہے ہو ں گے اور زنانِ لاہور اپنی انگلیاں کاٹے دے رہی گی۔ کیا سہانا سماں ہے ساون کا!

قالب وردپرس

Loading...