جذبات کی صداقت کی ’دھنک‘

دھنک بالی وڈ کی عام فلموں سے قدرے مختلف ہے، اس میں نہ تو کوئی بڑا سٹار ہے اور نہ ہی کوئی آئٹم نمبر

فلمساز ناگیش ککونور نے انڈیا کی فلم انڈسٹری میں اپنا ایک منفرد مقام بنا لیا ہے۔ انھوں نے اپنی فلمسازی کی شروعات 1998 میں ایک انتہائی کم بجٹ کی فلم ’حیدرآباد بلیوز‘ سے کی جو حالانکہ انگریزی زبان میں تھی اور اس کی پروڈکشن ویلیوز بھی کم خرچ ہونے کی وجہ سے عام سی تھیں، فلم بینوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب رہی۔

’حیدر آباد بلیوز‘ انڈیا کے فلم سین میں، جو اس وقت زیادہ تر بڑے سٹوڈیوز اور مسالا فلموں کا مرہونِ منت تھا، تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی تھی۔

تاہم ناگیش نے اس فلم کو صرف ایک ’سٹیپنگ سٹون‘ کے طور پر استعمال نہیں کیا اور یکدم بڑے سٹوڈیوز سے منسلک نہیں ہو گئے۔ اب جبکہ ان کی تیرھویں فلم منظرِ عام پر آئی ہے، وہ اب بھی ’انڈی‘ فلمیں ہی بناتے ہیں جن کے عموماً ہدایت کار کے علاوہ لکھاری بھی وہ خود ہی ہوتے ہیں۔

’دھنک‘ جو گذشتہ ہفتے پاکستان کے سنیماؤں میں بھی ریلیز ہوئی، بالی وڈ کی عام فلموں سے قدرے مختلف ہے۔ اس میں نہ تو کوئی بڑا سٹار ہے اور نہ ہی کوئی آئٹم نمبر۔

یہ کہانی ہے کہ دو کمسن بہن بھائیوں پری اور چھوٹو کی جو راجستھان کے ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔ چھوٹو جب تین، چار برس کا تھا تو ان کے والدین اونٹوں کی بھگدڑ میں مارے گئے اور یہ دونوں اپنے چچا چچی کے ساتھ رہنے لگے۔

پھر چھوٹو کی بینائی ناقص خوراک کی وجہ سے جاتی رہی۔ اب وہ آٹھ برس کا ہے اور پری کی واحد خواہش ہے کہ وہ چھوٹو کی نویں سالگرہ سے قبل کسی بھی طرح اس کی آنکھوں کی روشنی لوٹ آئے۔

پری کا پسندیدہ اداکار شاہ رخ خان ہے اور شاہ رخ کے آنکھوں کے عطیات کی اپیل کے پوسٹر کو دیکھ کر پری فیصلہ کر لیتی ہے کہ وہی اس کے چھوٹے بھائی کا مسیحا بنے گا۔

پہلے وہ شاہ رخ کو خط لکھتی ہے مگر کوئی جواب نہیں آتا۔ یہ معلوم ہونے پر کہ شاہ رخ خان کسی فلم کی شوٹنگ کے لیے جیسلمیر آیا ہوا ہے پری چھوٹو کو لے کر تین سو کلومیٹر کے سفر پر نکل پڑتی ہے۔

دھنک زیادہ تر ایک ’روڈ مووی‘ ہے یعنی اس سفر کی کہانی جو چھوٹو اور پری شاہ رخ خان کی تلاش میں طے کرتے ہیں۔ اس سفر میں جو ان پر بیتتی ہے اور جو عجیب و غریب کردار انھیں ملتے ہیں، وہی اس فلم کا موضوع ہے۔

انگریزی اصطلاح میں اسے ایک ’سویٹ‘ فلم کہا جا سکتا ہے جو اس کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔

اس فلم میں بالی وڈ کا روایتی میلو ڈراما نہ ہونا خوش کن ہے۔ فلم میں ایسے بہت سے ہلکے پھلکے واقعات ہیں جو ناظرین کو محظوظ کرتے ہیں۔ خاص طور پر چھوٹو کا سلمان خان سے پاگل پن کی حد تک متاثر ہونا جس کی وجہ سے بہن بھائی میں نوک جھوک چلتی رہتی ہے۔

مثلاً جب پری اور چھوٹو کو ایک ٹرک ڈرائیور لفٹ دیتا ہے جو خود شاہ رخ خان کا مداح ہوتا ہے اور وہ اور پری شاہ رخ کے گن گا رہے ہوتے ہیں تو چھوٹو کانوں پر ہاتھ رکھ لیتا ہے اور زور زور سے ’سلمان بھائی مجھے معاف کرنا‘ کا راگ الاپنا شروع کر دیتا ہے۔

لیکن دوسری طرف یہ بات بھی کچھ عجیب لگنے لگتی ہے کہ اس سارے سفر میں دس گیارہ برس کی بچی اور اس کے اندھے بھائی کے ساتھ ایک کے سوا کوئی برا واقعہ پیش نہیں آتا۔ ایک واقعہ جو پیش آتا بھی ہے وہ اتنی جلدی اور خوش اسلوبی سے نمٹایا جاتا ہے کہ اس کا اثر جاتا رہتا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انڈیا آج کل ایک بہت محفوظ جگہ ہے جہاں سب ایک دوسرے کا خیال رکھنے میں لگے ہوئے ہیں۔

دھنک ایک خوبصورتی سے فلمائی گئی فلم ہے لیکن کبھی کبھی یہ خوبصورتی بھی جعلی لگنے لگتی ہے۔

ہر کردار رنگارنگ کاسٹیوم میں ملبوس نظر آتا ہے جس پر دھول مٹی کے آثار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بات بات پر لوگ راجستھان کے روایتی گیت انتہائی سریلے انداز میں گانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ایگزوٹیسائزشن فلم کے اثر کو کمزور کرتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ہپی کا کردار تو بالکل ہی بلاضرورت ٹھونسا ہوا معلوم ہوتا ہے۔

ان کمزوریوں کے باوجود جو چیز اس فلم کو قابلِ دید بناتی ہے وہ دو بچوں پری اور چھوٹو کی اداکاری ہے۔ ہیتل گڈا (پری) اور کرش چھابریا (چھوٹو) کی پرفارمنس اتنی بےساختہ اور نیچرل ہے اور ان کے جملے اتنے پرکشش کہ فلم بین باقی سب بھول جاتے ہیں۔ مجال ہے کہ فلم میں کبھی یہ محسوس ہوا ہو کہ یہ دونوں کمسن بہن بھائی اداکاری کر رہے ہیں۔

اس کا کریڈٹ نگیش کو بطور ہدایت کار جاتا ہے۔ فلم اقبال میں بھی نگیش نے سریاش تلپاڑے سے ایک گونگے بہرے لڑکے کا کردار بخوبی کروایا تھا اور یہاں بھی یہ کہیں پتہ نہیں چلتا کہ کرش نابینا نہیں ہے۔

یہی جذباتی صداقت اس فلم کی اصل دھنک ہے۔

قالب وردپرس

Loading...