دس کروڑ برس پرانے پرندوں کے پر دریافت

ڈائنوسار کے زمانے کے پرندوں کے دو پر عنبر کے اندر محفوظ حالت میں دریافت ہوئے ہیں۔

میانمار میں کی جانے والی یہ ’شاندار‘ دریافت ننھے پرندوں کی باقیات پر مشتمل ہے جو تقریباً دس کروڑ برس قبل ایک استوائی جنگل میں درختوں سے نکلنے والی لیسدار رال میں پھنس کر رہ گئے تھے۔

پرندوں کے پروں کی باریک تفصیلات عنبر میں محفوظ ہو گئی ہیں، جن میں دھاریوں اور دھبوں کے رنگ بھی شامل ہیں۔

پروں میں تیز پنجے بھی ہیں، جن سے ان ننھے پرندوں کو درختوں کی ڈالیاں پکڑنے میں مدد ملتی ہو گی۔

یہ فاسل دو سے تین سینٹی میٹر کے درمیان ہیں، اور ان کی مدد سے ڈائنوساروں سے پرندوں کے ارتقا پر روشنی پڑ سکتی ہے۔

یہ تحقیق نیچر کمیونیکیشن نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف مائیک بینٹن کا تعلق برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل سے ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’انفرادی پروں میں ہر بال اور ریشہ صاف دکھائی دیتا ہے، چاہے وہ اڑنے میں مدد دینے والے پر ہوں یا جسم پر بال۔ اور ان میں رنگوں، دھبوں اور دھاریوں کا شائبہ بھی ہے۔‘

پرندوں کی یہ نوع ڈائناساروں کے ساتھ ہی 6.6 کروڑ سال پہلے معدوم ہو گئی تھی۔

سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے قدیم حیات دان سٹیو بروسیٹ نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ شاندار (دریافت) ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ دس کروڑ برس پرانے پر عنبر میں محفوظ رہ سکتے ہیں؟

’ان کا شمار ان حیرت انگیز ترین فاسلز میں ہوتا ہے جو میں نے دیکھے ہیں۔ ہمیں کئی عشروں سے معلوم ہے کہ کئی ڈائنوساروں کے پر ہوا کرتے تھے، لیکن زیادہ تر پروں کے نشان چونے کے پتھروں پر کندہ تھے۔

عنبر میں محفوظ ان پروں کی مدد سے ایک بالکل نیا تناظر مل گیا ہے اور ان سے صاف طور پر معلوم ہوا ہے کہ پرندے ڈائنوساروں کے ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے، اور ان کے پر موجودہ پرندوں کے پروں سے بہت ملتے جلتے ہیں۔‘

عنبر کے اندر پنجوں کے کھرونچوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ پرندے عنبر میں پھنسے تو اس وقت زندہ تھے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر شی لینڈ کہتے ہیں کہ یہ پرندے چھوٹی جسامت اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے عنبر میں پھنس کر رہ گئے۔

’عنبر کے دوسرے نمونوں میں ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے پرندے اس لیس دار مادے سے بچ کر رہا کرتے تھے یا پھر اپنے آپ کو پھنسنے سے پہلے ہی نکال لیا کرتے تھے۔‘

قالب وردپرس

Loading...