سرحد پر بارودی سرنگیں نصب کرنے پر میانمار فوج کو تنقید کا سامنا

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے میانمار کی فوج کو بنگلہ دیش سے متصل سرحد پر بارودی سرنگیں بچھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اب تک بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد پر نقل مکانی کرنے والے 2 روہنگیا مسلمان بارودی سرنگ کے پھٹنے سے زخمی ہوئے۔

روہنگیا مسلمانوں کی میانمار کی ریاست رخائن میں فوج اور انتہا پسند بدمت تنظیم کے ظلم و بربریت سے بچنے کے لیے بنگلہ دیش کی جانب نقل مکانی جاری ہے اور اب تک 3 لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کر چکے ہیں۔

اے پی کے مطابق بنگلہ دیش پہنچنے والے زخمی افراد میں زیادہ تر لوگ سیکیورٹی فورسز کی گولی لگنے یا کسی تیز دھار آلے سے شدید زخمی ہوئے لیکن اب حال ہی میں ایسے کیسز بھی سامنے آئے جو بارودی سرنگ سے زخمی ہوئے۔

بنگلہ دیش پہنچنے والے ایک قافلے میں ایسی خاتون بھی موجود تھی جس کی ایک ٹانگ جسم سے الگ ہو چکی تھی جبکہ دوسری ٹانگ شدید زخمی تھی، تاہم اس قافلے نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اس خاتون نے راستے میں ایک ایسی جگہ پر پاؤں رکھا جس کی وجہ سے دھماکا ہوا اور خاتون زخمی ہوئیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق میانمار، شمالی کوریا اور شام کی فوجیں اب بھی بارودی سرنگوں کا استعمال کرتی ہیں جبکہ 1997 میں ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت سرحدوں پر فوجی بارودی سرنگوں کے استعمال کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔

اس معاہدے پر بنگلہ دیش نے دستخط کیے تھے جبکہ میانمار نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے۔

بنگلہ دیش کی بارڈر فورسز کے کمانڈنگ افسر ای سیم عارف الاسلام کا کہنا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اب تک تین روہنگیا مسلمان زخمی ہوگئے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکام اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کا خیال ہے کہ مزید بارودی سرنگیں حال ہی میں لگائی گئی ہیں جن کی وجہ سے ایک بنگالی کسان بھی زخمی ہوا۔

خیال رہے کہ میانمار کے روہنگیا شدت پسندوں نے تنازع کے بعد بے گھر ہونے والے 3 لاکھ سے زائد مہاجرین اور دیگر متاثرین تک امداد پہنچانے کی غرض سے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا تھا۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ نے میانمار کی ریاست رخائن میں جاری مسلم کش فسادات کے نتیجے میں ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 7 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد امداد کی اپیلکردی۔

یاد رہے کہ میانمار کی ریاست رخائن میں فوجی بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔

میانمار کی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی ہے۔

قالب وردپرس

Loading...