‘شدت پسندی کےخلاف جنگ عقائد کے مابین جنگ نہیں ہے’

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اہلیہ کے ہمراہ سعودی عرب پہنچ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دورے کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ عقائد کے خلاف جنگ نہیں ہے بلکہ یہ ’نیکی اور بدی‘ کی جنگ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جنھوں نے مسند صدارت پر بیٹھنے کے بعد اپنے پہلے عالمی دورے کے لیے سعودی عرب کو چنا ہے، ریاض میں عرب اسلامک امریکن سربراہی اجلاس میں خطاب کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سنیچر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیثیت صدر اپنے پہلے غیر ملکی دورے کا آغاز سعودی عرب کے ساتھ ساڑھے تین سو ارب ڈالر کے معاہدوں سے کیا ہے۔

ان معاہدوں میں ایک سو پچاس ارب ڈالر کا اسلحے سے متعلق معاہدہ بھی شامل ہے جو کہ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی اسلام کے بارے میں تقریر کے مصنف صدر کے مشیر سٹیون ملر ہیں جنھوں نے صدر ٹرمپ کا چند مسلمان اکثریتی ممالک سے تارکینِ وطن کی آمد پر پابندی تیار کی تھی۔

ماضی میں صدر ٹرمپ اسلام کے حوالے سے متنازع بیانات دے چکے ہیں جیسے کہ وہ امریکہ میں مسلمانوں کی ڈیٹا بیس بنانے پر غور کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سنیچر کو ریاض پہنچے۔ ہوائی اڈے پر صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کا استقبال سعودی شاہ سلمان نے کیا۔

اس آٹھ روزہ دورے میں صدر ٹرمپ اسرائیل، فلسطینی علاقے، برسلز، ویٹیکن اور سسلی بھی جائیں گے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ٹِلرسن نے ریاض میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی معاہدوں کا مقصد ایران کے ضرررساں اثرورسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دفاعی سازو سامان اور سروسز سے سعودی عرب اور پورے خلیجی خطے کو طویل مدت تک سکیورٹی کی مد میں معاونت ملے گی۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کی برطرفی کے معاملے پر انھیں اپنے ملک میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔

ٹرمپ کے ساتھ ان کی صاحبزادی ایوانکا اور داماد جیرڈ کشنر بھی ہیں۔ ایوانکا صدر کی مشیر ہیں جب کہ کشنر کابینہ کے اہم رکن ہیں۔

مسز ٹرمپ اور ایوانکا نے سر پر سکارف نہیں پہنے۔ جنوری 2015 میں جب سابق خاتونِ اول مشیل اوباما سعودی عرب گئی تھیں تو انھوں نے بھی سکارف نہیں پہنا تھا جس پر ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ مشیل نے اپنے میزبانوں کی توہین کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

صدر ٹرمپ کی ریاض آمد سے چند گھنٹے قبل ہی سعودی عرب نے کہا کہ سعودی ایئر ڈیفنس نے یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹ کو دارالحکومت ریاض کے جنوب میں مار گرایا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حملے کے بعد سعودی فضائیہ نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے قریب حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روانگی سے قبل سعودی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ اور مغرب، اسلامی دنیا کے دشمن نہیں ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی عرب روانگی سے قبل وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبير کا کہنا تھا کہ ‘یہ اسلامی دنیا کے لیے بہت بھرپور پیغام ہے کہ امریکہ اور مغرب آپ کے دشمن نہیں ہیں۔ یہ مغرب کے لیے بھی بھرپور پیغام ہے کہ اسلام آپ کا دشمن نہیں ہے۔’

صدر ٹرمپ کو حال ہی میں چھ مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے امریکہ آنے پر سفری پابندیاں لگانے کی کوششوں کی وجہ سے اسلام مخالف کہا جا رہا تھا، وہ اپنا اولین دورہ کسی مسلم ملک کا کر رہے ہیں۔

سعودی وزیرِ خارجہ عادل بن احمد الجبير کہتے ہیں: ‘اس دورے سے اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان عموماً اور امریکہ کے درمیان خصوصاً مکالمہ بدل جائے گا۔ یہ شدت پسندوں کو تنہا کر دے گا، چاہے وہ ایران ہو، دولتِ اسلامیہ ہو یا القاعدہ ہو، جو کہتے ہیں کہ مغرب ہمارا دشمن ہے۔’

عرب اسلامک امیریکن اجلاس میں پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف بھی ہوں گے جن کی فوج کے سابق سپہ سالار اب سعودی سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی فوج کے سپہ سالار بھی ہیں۔

اس اجلاس کے سائڈ لائن پر وزیر اعظم نواز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے حوالے سے کافی چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عرب اسلامک امیریکن اجلاس کا ایجنڈا کافی مصروف ہونے کے باعث سائیڈ لائن پر ملاقاتیں ہونا مشکل ہے۔

دوسری جانب سوڈان کے صدر عمر البشیر نے اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ سعودی عرب نے سوڈان کے صدر کو اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا جس پر امریکہ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ واضح رہے کہ صدر عمر البشیر انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو جنگی جرائم کے الزام میں مطلوب ہیں۔

قالب وردپرس

Loading...