فیس بک کے لیے کمپنیاں نہیں، دوست زیادہ اہم

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters
’اب وہ آپ کے دوستوں اور رشتے داروں کی سرگرمیوں کو کمپنیوں کے مقابلے پر زیادہ وزن دیں گے‘

فیس بک اب دوستوں کی جانب سے کی گئی پوسٹوں کو نیوز فیڈ میں زیادہ مرکزی جگہ دے گا۔

سوشل نیٹ ورک نے کہا ہے کہ اس کے صارفین نے تشویش ظاہر کی تھی کہ انھیں اپنے دوستوں کی ’اہم اپ ڈیٹس‘ موصول نہیں ہوتیں۔

اس فیصلے کے بعد سے نیوز میڈیا اور برینڈز کی جانب سے کی جانے والی پوسٹس کو زیادہ جگہ دیے جانے کا رجحان کم ہو جائے گا۔

ایک ماہر نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخباروں اور نشریاتی اداروں کے مفادات عام طور پر فیس بک کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

فیس بک نے کہا ہے کہ اس نے کئی ایسے سروے کروائے ہیں جن میں صارفین نے کہا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی جانب سے پوسٹ کیے جانے والا مواد زیادہ پسند کرتے ہیں اور وہ اسی کے پیشِ نظر اپنے طریقۂ کار میں تبدیلی لا رہی ہے۔

کمپنی کے نائب صدر ایڈم موسیری نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم اس بات میں کوئی فرق روا نہیں رکھ رہے کہ دوست نے اپنے بیٹی کی تصویر پوسٹ کی ہے یا پھر حالاتِ حاضرہ کے بارے میں کسی تحریر کا لنک بھیجا ہے۔ ہم سجھتے ہیں کہ دونوں قسم کے مواد سے لوگ اپنے دوستوں سے منسلک ہوتے ہیں۔۔۔ اور یہ بات ہمارے نظام کے لیے زیادہ قدر رکھتی ہے۔

اس اقدام کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ ادارے جو بہت زیادہ ’لائیکس‘ اکٹھا کرنے پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں، انھیں پہلے کی طرح فائدہ نہیں ہو گا

انھوں نے کہا: ’یہ ممکن ہے کہ بعض ناشروں کو اپنی پہنچ میں معمولی کمی محسوس ہو، لیکن میرا نہیں خیال کہ اس سے کوئی بہت بڑی تبدیلی رونما ہو گی۔‘

اس اقدام کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ ادارے جو بہت زیادہ ’لائیکس‘ اکٹھا کرنے پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں، انھیں پہلے کی طرح فائدہ نہیں ہو گا۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی جرنلزم لیب کے جوشوا بینٹن کہتے ہیں: ’فیس بک ایک عرصے سے کمپنیوں سے کہتی رہی ہے کہ وہ جتنا زیادہ ممکن ہو سکے، اپنے مداحوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فیس بک اس (مداحوں کی تعداد) کی اہمیت میں کمی لاتی جا رہی ہے۔

’اب وہ آپ کے دوستوں اور رشتے داروں کی سرگرمیوں کو کمپنیوں کے مقابلے پر زیادہ وزن دیں گے۔‘

قالب وردپرس

Loading...