’نوعمر لڑکے‘ پر دہشت گردی کا مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

بدین میں پولیس نے ایک نوعمر لڑکے پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ احمدی برادری سے تعلق رکھنے والا عمران گرگیج گذشتہ روز گھر میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے زخمی ہوگیا تھا۔

بدین کے ماڈل ٹاؤن تھانے میں عمران گرگیج کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 3، 4، 5 ، 6 اور 7 اور پی پی سی 120 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس ٹیم کو گشت کے دوران دھماکے کی آواز سنائی دی اور جب وہ گلی میں پہنچی تو لوگوں کا ہجوم جمع تھا اور ملزم عمران دوستوں کے ساتھ بھاگ رہا تھا۔

سرکار کی مدعیت میں دائر مقدمے میں عمران گرگیج کی عمر 17 سال بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ملزم کا علاج کرانے کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔

ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن ابراہیم جتوئی کا دعویٰ ہے کہ گھر میں دیسی ساخت کا ریموٹ کنٹرول بم بنایا جا رہا تھا اور اس وقت پولیس کی ایک ٹیم وہاں گشت پر تھی اسی دوران یہ بم پھٹ گیا اور پولیس نے وہاں فوری طور پر پہنچ کر لڑکے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔

اس کے علاہ قریبی رشتے داروں اور مشتبہ افراد سمیت پانچ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ جائے وقوعہ سے ایک ڈیوائس، ڈیٹونیٹر اور ریموٹ ملا ہے جو دھماکہ خیز مواد کو اڑانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن ابراہیم جتوئی کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کر رہے ہیں کہ ان کا منصوبہ کیا تھا۔

ایس ایچ او نے اس بات کی تردید کی کہ گرگیج خاندان کو احمدی برادری سے تعلق ہونے کے بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ لڑکا اس واقعے میں زخمی ہوا ہے، اس کے جسم پر نشانات ہیں اور ایک ہاتھ جھلسا ہوا ہے اس کے علاوہ گھر سے سامان برآمد ہوا ہے، دراصل یہ مجرم ہیں اور خود کو بچانے کے لیے اس طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب عمران گرگیج کے چچا اکبر گرگیج کا کہنا ہے کہ عمران کی عمر 12 سال دو ماہ ہے، وہ گرمی کی وجہ سے چھت پر بیٹھا ہوا تھا کہ کسی نے کوئی تھیلی نما چیز چھت پر پھینکی جس میں بیٹری اور پتھر موجود تھے، جس کے ساتھ ہی کم شدت کا دھماکہ ہوا۔

اکبر گرگیج کے مطابق بیٹری کی وجہ سے عمران کے ہاتھ اور پاؤں پر زخم آئے، تھوڑی دیر کے بعد ایک سفید رنگ کا ریموٹ بھی گھر میں آ کر گرا، انھوں نے سوچا کہ واقعہ معمولی نہیں اس لیے پولیس کو شکایت درج کرانے تھانے پر چلے گئے۔

’پولیس ہمارے ساتھ آئی اور اس نے تمام چیزیں قبضے میں لے لیں اور بچے کو بھی ساتھ لے گئے اور اس پر تشدد کر کے زبردستی بیان لے لیا، اس کے علاوہ مختلف علاقوں سے بچے کے والد سمیت پانچ رشتے داروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کا کوئی پتہ نہیں۔‘

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا ہے کہ اس خاندان کو کسی منصوبے کے تحت پھنسایا گیا ہے، اور اس واقعے میں گرفتار لڑکے کی عمر 12 سے 13 سال ہے۔

’اس عمر کے بچے نے کیا ڈیٹونیٹر اور کیا دھماکہ خیز مواد بنانا ہے۔ وہ کسی قسم کی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے۔‘

قالب وردپرس

Loading...