کیا انڈیا نے تبت کے معاملے میں غلطی کی؟

نتھولا درہ پر نگرانی کرتے چینی فوجی (تصویر: تاریخ 3 اکتوبر، 1967)

ایک ایسے وقت پر جب سرحد پر انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی ہے تو ملک کے اندر چین پر انڈیا کی پالیسیوں پر بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں۔

بدھ کو لوک سبھا میں ملائم سنگھ نے کہا کہ بھارت نے تبت کو چین کا حصہ مان کر بڑی بھول کی تھی۔

ملائم سنگھ نے یہاں تک کہہ دیا کہ چین نے بھارت پر حملے کی تیاری کر لی ہے۔

کیا بھارت نے تبت کو چین کا حصہ تسلیم کر کے واقعی غلطی کی تھی؟

ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے میگزین ’آرگنائزر‘ کے سابق ایڈیٹر شیشادری چاری بھی ملائم سنگھ کی باتوں سے اتفاق کرتے ہیں کہ انڈیا نے تبت کو چین کا حصہ تسلیم کر کے بہت بڑی غلطی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار 2003 میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے تبت کو چین کا حصہ تسلیم کیا اور چین نے سکم کو بھارت کا حصہ۔
1954 میں چین کے دورے کے دوران نہرو کی ماؤ سے ملاقات
تبت پر ہندوستان کا موقف

اگرچہ شیشادری چاری کہتے ہیں کہ یہ انڈیا کا دور اندیشی پر مبنی قدم نہیں تھا۔ وزیر اعظم بننے سے پہلے واجپئی تبت کو ایک آزاد ملک کے طور پر دیکھتے تھے۔

ایسے میں وزیر اعظم بننے کے بعد واجپئی کے اس اقدام نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ شیشادری چاری بھی واجپئی کے اس اقدام پر حیران تھے۔

آخر واجپئی کے سامنے ایسی کیا مجبوری تھی کہ انہوں نے وزیر اعظم بننے کے بعد تبت پر اپنا موقف بدل لیا؟

شیشادری چاری کہتے ہیں ‘وہ ہماری سٹریٹجک غلطی تھی اور ہم نے بہت جلد بازی میں ایسا کیا تھا۔ ہمیں تبت کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے تھا۔ ہمیں شروع ہی سے ایک موقف پر قائم رہنا چاہیے تھا۔ ہمیں بالکل صاف کہنا چاہیے تھا کہ چین نے تبت پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے اور یہ قبول نہیں کیا جائے گا۔’
نئی دہلی میں چین کے خلاف مظاہرہ کرتے تبتی مظاہرین (تصویر: 20 اگست، 1985)

دلائی لامہ سے منظوری

چاری بتاتے ہیں ‘واجپائی حکومت کو سٹریٹجک طور پر اسے ٹالنا چاہیے تھا۔ اس وقت ہم نے تبت پر سکم کو ترجیح دی تھی۔ چین نے سکم کو منظوری نہیں دی تھی لیکن جب ہم نے تبت کو اس کا حصہ مانا تو اس نے بھی سکم کو بھارت کا حصہ مان لیا۔’

ان کا کہنا ہے کہ ‘اس کے بعد ہی نتھلا میں سرحد پر تجارت کی منظوری دی گئی۔ نتھلا کے ذریعے اتنی زیادہ تجارت نہیں ہوتی تھی کہ اس کی اتنی بڑی قیمت چکائی جائے۔ تب ایسا لگتا تھا کہ یہ ایک عارضی فیصلہ ہے اور بعد میں صورتحال بدلے گی۔ اس وقت بھارت نے دلائی لامہ سے بھی بات کی تھی اور انہوں نے اس کی منظوری دے دی تھی۔’

1914 کا شملہ معاہدہ

شیشادری چاری نے کہا کہ ‘جب بھی کوئی سٹریٹجک فیصلہ ہوتا ہے تو آنے والے وقت میں غلط ثابت ہونے کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔ ایسا پنڈت نہرو کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ چین کی جارحیت کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ بھوٹان کو دوسرا تبت بنا دے گا۔’

جے این یو میں سینٹر فار چائنیز اینڈ ساؤتھ ایسٹ ایشیا سٹڈیز کے پروفیسر بی آر دیپک کا خیال ہے کہ ‘تبت کے معاملے میں بھارت کی بڑی نرم پالیسی رہی ہے۔ سنہ 1914 میں شملہ معاہدے کے تحت میكمہون لائن کو بین الاقوامی سرحد مانا گیا لیکن 1954 میں نہرو نے تبت کو ایک معاہدے کے تحت چین کا حصہ تسلیم کر لیا تھا۔’

میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے تبت کو چین کا حصہ مانا اور چین نے سکم کو بھارت کا حصہ

واجپئی اور نہرو

پروفیسر بی آر دیپک کہتے ہیں ‘واجپئی اور نہرو میں فرق تھا۔ نہرو نے آٹھ سال کے لیے تبت کو چین کا حصہ تسلیم کیا تھا لیکن واجپئی نے وقت کی کوئی حد طے نہیں کی تھی۔’

‘مارچ 1962 میں نہرو کا چین کے ساتھ تبت پر معاہدہ ختم ہو گیا تھا اور اس پر 2003 تک جمود رہا۔ 2003 میں جب واجپئی چین کے دورے پر گئے تو انہوں نے تبت پر سمجھوتہ کر لیا۔’

پروفیسر دیپک کا خیال ہے کہ چین اور تبت پر بھارت کی پالیسی تضادات سے بھری پڑی ہے۔ ان کے مطابق ایک طرف بھارت میكمہون لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتا ہے اور دوسری جانب تبت کو چین کا حصہ بھی۔

وہ کہتے ہیں کہ دونوں چیزیں ایک ساتھ کس طرح ہو سکتی ہیں۔

‘اگر بھارت کا تبت پر ایک ہی موقف رہتا تو اچھا ہوتا۔’

قالب وردپرس

Loading...