’اون گول‘ کے بعد واپسی کا راستہ کیا ہے

تقریباً تین ماہ قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیر اعظم کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کرکے خطے میں اپنی ترجیحات کو واضح کیا...
تقریباً تین ماہ قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیر اعظم کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کرکے خطے میں اپنی ترجیحات کو واضح کیا تھا

انڈیا نے پاکستان کے ساتھ سیکریٹری سطح کے مذاکرات تو منسوخ کر دیے لیکن جس دشوارگزار سفارتی راستے پر وزیر اعظم نریندر مودی آگے بڑھے ہیں اس سے واپسی کا راستہ کیا ہے؟

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ ایک ’سیلف گول‘ ہے اور جامع مذاکرات کے عمل کو ’لائف سپورٹ‘ سے ہٹا کر دم توڑنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

ماضی میں کیا ہوا؟
صرف گذشتہ 15 برسوں پر اگر نظر ڈالی جائے تو ایک صاف تصویر ابھرتی ہے۔ بڑے سے بڑا واقعہ پیش آیا لیکن کچھ ہی دنوں بعد بات چیت پھر شروع ہوگئی۔

دونوں ملکوں کے ایٹمی دھماکوں کے چند ہی ماہ بعد 1999 میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے بس میں بیٹھ کر سرحد پار کی اور پاکستان کی سرزمین پر نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہو کر لاہور اعلانیہ جاری کیا۔

اس کے بعد کارگل کی لڑائی ہوئی، جنرل مشرف نے پاکستان میں اقتدار پر قبضہ کیا اور حکومت ہند نے اعلان کیا کہ وہ ایک فوجی آمر سے بات چیت نہیں کرے گی۔ لیکن صرف دو سال کے اندر آگرہ کے سربراہ اجلاس میں جنرل مشرف اور وزیر اعظم واجپئی آمنے سامنے بیٹھے تھے۔

بات چیت ناکام رہی اور چند ہی مہینوں بعد دسمبر سنہ 2001 میں بھارتی پارلیمان پر حملہ کیا گیا اور دونوں ملک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے۔ لیکن کچھ پس پردہ سفارت کاری اور کچھ بین الاقوامی ثالثی کی وجہ سے جنگ کی نوبت نہیں آئی۔

لیکن صرف دو سال کے اندر دونوں ملکوں نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے دس سال تک سرحدی علاقوں میں بڑی حد تک خاموشی چھائی رہی اور ’بلا اشتعال فائرنگ‘ کے دعوے تاریخ کا حصہ بن گئے۔

جامع مذاکرات کا عمل اسی کے بعد جنوری سنہ 2004 میں شروع ہوا تھا اور تجزیہ نگار پروین سوامی کے مطابق اب اس کا ’لائف سپورٹ سسٹم‘ بند کر دیا گیا ہے۔

سنہ 2004 سے 2008 کےدرمیان بات چیت کا سلسلہ بھی جاری رہا اور حملوں کا بھی۔ پانی پت میں سمجھوتہ ایکسپریس کو نشانہ بنایا گیا، کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملہ ہوا جس کے لیے بھارتی حکومت آئی ایس آئی کو ذمہ دار مانتی ہے۔ لیکن اسی دوران باہمی تجارت کو فروغ دینے پر بھی اتفاق ہوا اور تجارت کے لیے نئے راستے بھی کھولے گئے۔

پھر نومبر 2008 میں ممبئی پر حملے ہوئے اور بھارت میں جوابی کارروائی کے مطالبات کے باوجود حکومت نے ضبط سے کام لیا لیکن بات چیت کا سلسلہ روک دیا گیا۔ نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں سارک ممالک کے سربراہان کو دعوت دی گئی تھی

ہاشم خان: سکواش میں پاکستان کا پہلا تعارف

سیاحوں کو لبھانے میں بھارت کو مشکلات کا سامنا

اس حملے کے صرف ایک سال کے اندر شرم الشیخ اعلانیہ جاری کیا گیا جس میں بات چیت کے دوبارہ آغاز کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس اعلانیہ کی بھارت میں بھی سخت مخالفت ہوئی لیکن پس پردہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہا اور جنوری 2011 میں دونوں ملکوں نے ’تمام مسائل‘ پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس وقت کہا گیا تھا کہ دوسرے نام ہی سے سہی، دونوں ممالک جامع مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔

لیکن دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ کی ملاقاتوں کے باوجود بات چیت پوری طرح پٹری پر نہیں آسکی اور اب شاید اسے بحال کرنا بہت مشکل ثابت ہوگا۔

تجزیہ نگار اجے ساہنی نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حریت کے رہنماؤں سے ملاقات کو بات چیت سے جوڑنے کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستانی لائن آف کنٹرول پر ہمارے جوانوں کو نشانہ بنائیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر وہ حریت کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے تو برداشت نہیں کیاجائے گا۔‘

ممبئی حملے کے بعد مذاکرات میں تعطل آ گیا تھا تاہم من موہن سنگھ کے شرم الشیخ اعلامیہ کے بعد یہ پھر بحال ہو گئے تھے

یہ تو سب مانتے ہیں کہ بات چیت تو کسی نہ کسی مرحلے پر دوبارہ شروع کرنا ہی ہوگی، لیکن سوال یہ ہے کہ پہلے پلکیں کون جھپکےگا؟ بھارتی حکومت کے لیے اب اس موقف سے پیچھے ہٹنا بہت مشکل ہوگا کہ یا تو ہم سے بات کرو یا حریت سے۔

پاکستانی رہنماؤں اور سفارت کاروں کی حریت سے ملاقات دونوں ملکوں کی کشمیر لابی کے لیے ایک علامتی پیغام ہے کہ ’ہم نے کشمیر کے مسئلے کو بیک برنر پر نہیں رکھا ہے۔۔۔‘ اور اس کے لیے بھی حریت کے رہنماؤں سے ان روایتی ملاقاتوں کا سلسلہ بند کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔

سوال یہ ہےکہ اگر ایل او سی پر پھر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو بھارتی حکومت کیا موقف اختیار کرے گی؟

جنرل پرویز مشرف اور اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہیں رہے

تجزیہ نگاروں کے مطابق محدود پیمانے پر ہی سہی، فوجی کارروائی کا آپشن میز پر نہیں ہے کیونکہ بات پلک جھپکتے ہی بگڑ سکتی ہے اور اس وقت شاید حکومت کو احساس ہوگا کہ ممبئی پر حملوں کے ایک سال کے اندر ہی من موہن سنگھ نے شرم الشیخ اعلانیے پر دستخط کیوں کیے تھے۔

اس پیچیدہ رشتے کو بحال کرنے کے جتنے بھی راستے ہیں وہ بات چیت کی میز سے ہوکر ہی گزرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے میز تک پہنچنے کا راستہ اب کیسے بحال ہوگا؟

قالب وردپرس

Loading...
Categories
منظرنامہ
No Comment

Leave a Reply

RELATED BY