بیٹیاں تو بیٹیاں ہوتی ہیں

تحریر:محمد عبید منج زمانہ جاہلیت میں انسان کی پہچان ایک خوفناک جانور جیسی تھی۔جو چیزوں کو اپنی مرضی اور طاقت کے بل بوتے پہ حاصل کرنا جانتا تھا۔چاہے تو...
columns

تحریر:محمد عبید منج
زمانہ جاہلیت میں انسان کی پہچان ایک خوفناک جانور جیسی تھی۔جو چیزوں کو اپنی مرضی اور طاقت کے بل بوتے پہ حاصل کرنا جانتا تھا۔چاہے تو وہ سلطنت ہو یا گھر کی چاردیواری کے اندر رہنے والی اسکی بیوی۔آپﷺ کی نبوت کے بعد جو درجہ اسلام نے عورت کو دیا وہ کسی اور مذہب میں نہیں دیا گیا۔”دو بیٹیوں کی پرورش پہ جنت میں ساتھ کا وعدہ کیا”.آپ ﷺ نے فرمایا کہ اولاد دل کا سکون اور آخرت کا سرمایہ ہے لیکن بیٹیاں تو بیٹیاں ہوتی ہیں۔
مرد معاشرے کا سربراہ اور جاہ وجلال کے تاج کا حق دار ہی رہا ہے۔ وقت کے بدلتے تیوروں نے عورت کو گھر کی چار دیواری کی ملکہ سے سوسائٹی کا کھیلونا بنا دیا۔سلطنت والوں نے ملکاؤں کی طرف توجہ بنائی تو گھر کی چار دیواری کی عزت لوگوں کی زبانوں پہ مٹھائی کی طرح آ گئ۔ان بدلتے حالات میں ہمارے ملک کا حال بھی مکہ کے زمانہ جاہلیت والا ہی ہے۔علم و عقل سے لبریز، تجرباتی زندگیاں اور دین کے فہم و فراست سے مزین، پاکستان کی عوام کا حال ابتر نظر آ رہا ہے۔دوسروں ملکوں میں مشرق کی عزت عورت کی عزت کرنے سے منصوب ہے۔ عارفی صاحب نے ٹی وی لگایا تو مناظر ہی کچھ دل دہلا دینے والے تھے۔ایک حوّا کی بیٹی تماشاۓ زمانہ بنی ہوئی تھی۔دوسری طرف حوّا کی ہی بیٹی اس کو تذلیل کرنے کے پے در پے تھی۔عارفی صاحب کی ہمت نا ہوئی کہ دیکھ سکیں۔شام کے کھانے کے بعد ایک دوست نے کال کی بولے فیس بک پہ ایک فائل بیھجی ہے چیک کر لیں۔ابھی اکاؤنٹ کھولا تھا کہ ایک پوسٹ پر نظر پڑی تو آنکھیں اشکبار ہو گئ۔ نواز کی ——کی اولاد ؟ آگے اس کا جواب عمران کی —— کی اولاد؟ تصویری جھلکیاں بھی ساتھ میں جیسے کسی فلم کی نمائش کے پوسٹر ہوتے ہیں۔عارفی صاحب آنکھوں کے آنسوؤں کو صاف کرتے ہُوۓ بولے سیاست کی اس بھّٹی میں جمہوریت کے نام کا ایندھن جلا کر عزتوں کے سانچے بنائے جاتے ہیں۔بازار جمہوریت میں بولی کے لئے پیش کئے جانے والے یہ سانچے چاہے وہ بینظیر مرحومہ ہوں یا فاطمہ جناح مرحومہ ؟
مریم نواز ہو یا مریم اورنگزیب ہو! شیری مزاری ہو یا عائشہ گلولئ ہو !حنا ربانی ہو یا ایّان ہو ! پھرحسنِ زبان کے متلاشیِِ ہی نظر آتے ہیں۔اس بازار کے میک اپ کرنے والے ہیرو کو ہیروئن اور ہیروئن کو ہیرو بنا کر ایسا پیش کرتے ہیں۔پھر پی آئی کی ائرہوسٹز سے ان کی جاب کے ساتھ سمگلنگ کروا لیں، دوبئ کے ہوٹلوں کی رونقوں کے لئے ایڈیشنز کے بہانے ماڈلز بنا لیں، مال و دولت کے نام پر آف شور کمپنیاں جرمن،امریکہ،یو اے ای اور انگلینڈ میں بنا کر وہ مریم اور جمائما بن جائیں، عہدوں کی صورت میں وہ کسی کی نا جائز اولاد بنا دیں، درد کی ایسی داستانوں پہ وہ آپ کو چاہے آسکر ایوارڈ دلوا کر بھی رہنے کے لئے نا گھر اور معاشرے میں نفرت کا طوق ڈالوا دیں۔! اس ری میک کہانی میں کرداروں کا تبادلہ اور کردار کا اثر و رسوخ اتنا جامع بنایا جاتا ہے کہ دیکھنے اور سننے والے فرق کرنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔ کردار کشی کے اس ڈرامے میں محبت کا مجسمہ سمجھی جانے والی عورت مرد کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کی طرح سرِتماشا نظر آتی ہے۔سیاسی تصویر میں ٹکہ ہمیشہ عورت کے نام کا ہی ہوتا ہے۔
فائل کو دیکھا تو اس میں کراچی کی ایک بیٹی کا ویڈیو پیغام تھا۔خاوند کی وفات کیا ہوئی انسانی آنکھیں ہی درندگی پہ اتر آئیں۔! سر کی چھت کیا اٹھی میرا گھر کم کوٹھا زیادہ لگ رہا ہے۔؟
ویڈیو سٹاپ کرنے ہی والا تھا کہ میری نظر اس کے معصوم گوشہ جگر پر پڑی جس کے مستقبل کے لئے وہ اپنی زندگی اور عزت کی قربانی دینے کو تیار بیٹھی تھی۔اس کی آہ و بکاہ کانوں کے پردوں کو چیرتی ہوئی گزر رہی تھی۔
دروازے کی دستک نے دھیان موہ لیا۔اکاؤئنٹ بند ہی کیا تھا نوید صاحب دروازے سے اندر آ رہے تھے۔عارفی صاحب عائشہ جھوٹی ہے یا مریم سچی! فردوس عاشق تبدیلی لائیں گی یا حنا ربانی! بے نظیر مرحومہ کے قاتل ملیں گے یا ملالہ کی صورت میں بے نظیر! جمائما دوبارہ لال سوٹ پہنے گی یا ریحام خان ! حکومت میں دو رانیاں ہوں گی یا پنجاب حکومت کی دو دعوداریاں !
نوید سانس تو لے لو —————
بیٹیاں تو بیٹیاں ہی ہوتی ہیں چاہے گھر ہو یا بازار۔ان تمام حالات میں سیاست ایک طرف ہو تو دوسری طرف بہترین باپ،بیٹا،بھائی ہونے کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔کسی کی بیٹی کو عزت دینا سنت ہے ورنہ اعمال کی پامالی میں تو کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ قومیں اپنی روایات سے یاد کی جاتی ہیں۔مسلمان ہونا بڑی بات نہیں اقدار تو غیر مسلموں کے بھی مسلمانوں والے ہیں!

Loading...
Categories
کالم

RELATED BY