اجتماعیت یا فرقہ پرستی کا پرچار

تحریر:محمد عبید منج اسلام بھائی چارے اور دوسروں کی اصلاح کا نام ہے۔آپﷺ کا دنیا میں آنا ہی دنیا کی بھلائی ہے۔ایک غلطی کے نتیجے میں انسان جنت سے...
urdu news

تحریر:محمد عبید منج
اسلام بھائی چارے اور دوسروں کی اصلاح کا نام ہے۔آپﷺ کا دنیا میں آنا ہی دنیا کی بھلائی ہے۔ایک غلطی کے نتیجے میں انسان جنت سے دنیا میں آزمائشوں کی نظر ہو گیا۔جب بھی کوئی غلطی ہوتی ہے اسکی درستگی کے لئے ایک اصلاح کرنے والا ضرور ہوتا ہے۔دنیا کی اصلاح کے لئے ہمارے پیارے پیغمبرِ عربیﷺ کا چناؤ کیا گیا۔جس کی بہترین مثال سب انبیاء کرام نے ہمیں مانگا یہ ممکن ہوتا نظر نہ آیا تو امتی ہونے کی درخواستیں کی گئیں۔آخر وجہ کیا تھی جو ہمارے آنے سے پہلے ہی ہمیں اپنی دعاؤں اور آرزؤں کا مرکز سمجھا جا رہا تھا؟ آخر کیوں ہمیں اپنے پیارے نبی کی امت ہونے کا شرف دیا۔اگر پہلے اللہ پاک بیھج دیتا تو کونسا روک سکتے تھے! چیزوں کی قیمت وہی کر سکتا ہے جو ان کی پرکھ رکھتا ہے!۔آخر کیوں ہمیں اللہ پاک کے پیارےﷺ نے اپنے بھائی کہا ؟ کیوں کہا کہ مجھے اس دیس کی مٹی سے دین کی خوشبو آتی ہے ؟ خوشبو تو گلوں سے آتی ہے کھنڈرات سے نہیں۔موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کیا دین کسی ایک جماعت یا فرقے کی ذمہ داری ہے! کیا سنی، دیو بندی اور وہابی بن کر ہم دین کی سر بلندی کے لئے کام کر رہے ہیں؟ کیا اسلام میں داخل ہونے سے پہلے لوگ یہ پوچھے کہ سنی بنو گے یا دیو بندی اور وہابی؟ کیا گھروں کی چار دیواری اور معاشرے میں اسلامی اقدار رائج کرنے کے لئے ہم ٹائم نکالتے ہیں؟ کیا مسلمان ہونے کے لئے کلمہ طیبہ زبان پہ ہونا چاہیے ؟ کیا اپنے حقوق کے حصول کےلئے دوسروں کے حقوقوں کو پامال کیا جائے ؟ کیا نیکی کر کے اسکو جتلانا چاہیے؟کیا ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں یا دین کو آلہ کار بنا رہے ہیں ؟ ان سب سوالوں کے باوجود مسلمان ہونے کا ٹیگ ماتھے پہ سجائے اپنی لائنوں کی صف بندی کرتے ہیں۔کاش کہ 1971 میں با شعور لوگ دین کو پسے پردہ نہ ڈالتے تو آج ہم مسلمان زیادہ اور سنی،دیوبندی اور وہابی کم ہوتے۔اس سے پہلے اہل مغرب کی انتھک کاوشوں سے اس پاک سر زمین کا بال بانکا نہ ہوسکا۔لیکن مذہبی جنگ میں جھونک دینے سے انگریز سرزمین سے دور رہ کر بھی اپنے مقاصد میں کامیاب ہے۔اس کی بہت مثالیں ہیں۔ مشرف صاحب نے اسلام آباد میں جامعہ پر حملہ کروا کر پوری دنیا کو دین کا درس دیا تھا کہ مسلمان کمیونٹی کا سر شرم سے جھکایا تھا۔صبح سویرے ورزش کے لئے گھر سے نکلا تھا تو احمد صاحب بھی سڑک پر ٹہل رہے تھے جیسے شدید صدمے سے دوچار ہوں۔عارفی صاحب آپ کا ہی انتظار تھا۔رات ایک خبر نے مجھے سونے نہیں دیا۔
چنیوٹ کے نواحی گاؤں آسیاں میں اللہ کے گھر میں تبلیغی جماعت والوں پر حملہ کر کے انہیں مسجد میں ہی درندگی کا نشانہ بنایا۔کراچی سے آئے ہوئے یہ لوگ صفاکیت کی بھینٹ چڑھ گئے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس کام میں ملوث افراد بھی دین کے علمبردار کہلانے والے ہیں۔وحشیانے طریقے سے حملہ کیا مسجد میں ہی دو لوگ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ساتھ ساتھ مسجد کو آخرت کا گواہ بھی بناتے گئے۔آخر ان کا جرم کیا تھا؟
احمد صاحب بیٹھ گئے آنکھیں نم تھی۔عارفی صاحب کیا یہ کلمہ کی بنیاد پر حاصل کیا ہوا خطہ ہے ؟ جہاں مسلمان ہی مسلمان کو مار کر شہید اور غازی کا تغمہ لیتے ہیں! مسلمان ہوتے ہوئے بھی نماز کے لئے مسجدوں کی تقسیم کی جاتی ہے ؟ایمان کامل کی نشانی صرف ایمان کی دو صفتوں کو سمجھا جاتا ہے!اسلامی طریقوں کی پیروی مغربی ممالک میں کر کے اس سر زمین کو حقیر جاننا کیا قائد اعظم کی قربانیوں کی نفی نہیں!احمد صاحب آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں بہت افسوس ناک خبر ہے۔قابلِ ذی شعور لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ ہم دین پھیلا رہے ہیں یا روکاوٹ پیدا کر رہے ہیں !یہ معملات کم علمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔مسجدوں میں عالم ہونے کے نام پر بھی بزنس کیا جاتا ہے۔آواز سے محظوظ ہونے کی خاطر ایسے لوگ عالم چنتے ہیں جن کو دین ماں کی گود میں تو مل گیا لیکن اسکی قدر دل و دماغ میں اتری نہیں۔دنیا کی تعلیم کے لئے اس میں پروفیشنل ہونا اور تجربہ بنیادی جزو ہوتے ہیں۔لیکن
مدارس میں تعداد چندہ اکٹھا کرنے کے لئے بڑھائی جاتی ہے۔عالم ہونے کے بھی شارٹ کورسز کروائے جاتے ہیں۔ان کے علم کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں کہ معاشرے میں یہ لوگ بگاڑ پیدا کریں گے یا لوگوں کی اصلاح!
مسجد میں ان مسافر اور اللہ پاک کے گھر میں رکے ہوئے مہمانوں کو قتل کرنا کہاں کا دین اور مسلم ہونے کی دعویٰ ہے؟ بلکہ یہ ہمارا ہی قصور ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنی اصلاح کے لئے رکھ لیا جو ہمارے طریقوں اور باتوں کا پرچار کریں۔احمد صاحب صرف ایک کام کر لیا جائے کہ مدارس و مساجد رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ سرٹیفائیڈ علمائے کرام کو خدمت پر مامور کیا جائے۔جو قرآن و سنت کی صحیح نمائندگی کر سکیں۔اسلام میں ایمان کے ہونے سے ہی مسلمان کی پہچان ہے ورنہ عبداللہ بن ابیہ اور ابو جہل سے عربی،قرآن وسنت،آپﷺ کی طرزِ زندگی کو دیکھ کر بھی مسلمان ہونے سے محروم رہے۔چچا اس دور کا دانشور سمجھا جاتا تھا تو کلمہ پڑھ کر بھی عبداللہ بن ابیہ دنیا میں ہی برباد ہو گیا۔معاشرے میں بدلاؤ کے لئے مساجد کے ممبر بھی امانت کے طور پر سونپے جائیں۔جو کہ ان کی ذمہ داریوں سے آشنا ہوں۔امتی بننے پر توجہ دیں نہ کہ فرقہ پرستی کی تلقین۔اجتماعیت اور مسلمانیت ہی حق کی سر بلندی ہے خطوں کی باؤنڈریاں تو پہلے ہی انسانوں کو انسانوں سے جدا کر چکی ہیں۔

Loading...
Categories
کالم

RELATED BY