ٹیلیفونک گفتگو کی تفصیلات جاری کرنے پرسعودیہ کے قطر سے مذاکرات

تین ماہ قبل شروع ہونے والے خلیج تنازع کے بعد قطر اور سعودی عرب کے رہنماؤں میں ہونے والا پہلا اعلیٰ سطح کا ٹیلیفونک رابطہ بھی نئے تنازع کا...

تین ماہ قبل شروع ہونے والے خلیج تنازع کے بعد قطر اور سعودی عرب کے رہنماؤں میں ہونے والا پہلا اعلیٰ سطح کا ٹیلیفونک رابطہ بھی نئے تنازع کا سبب بن گیا اور ریاض نے فون کال کی تفصیلات توڑ مروڑ کر عوامی کرنے پر دوحہ سے مذاکرات ‘معطل’ کرنے کا اعلان کردیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ (9 ستمبر) کی صبح قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلفونک رابطہ کیا جو خلیج تنازع کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان پہلا رابطہ تھا۔

دونوں ممالک کی حکومتوں نے سعودی ولی عہد اور قطری امیر کے درمیان اس رابطے کی تصدیق کی۔

ٹیلیفونک رابطے کے بعد سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد بحرین، مصر، متحدہ عرب امارات سمیت قطر کے بائیکاٹ میں شامل دیگر ممالک سے مشاورت کے بعد فون کال کی تفصیلات جاری کریں گے۔

تاہم قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی نے فوری طور پر دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات نشر کرنا شروع کردیں۔

قطری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ریاض اور دوحہ کے درمیان تنازع کے حل کے لیے دو سفیر بھیجنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

قطر کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ یہ ٹیلیفونک رابطہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قطری امیر شیخ تمیم کے درمیان ہونے والے رابطے کے بعد ہوا ہے۔

واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے شیخ تمیم، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ابو ظہبی کے شہزادے کے ساتھ رابطوں کا اعلان کرچکا تھا۔

قطری نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ’تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا تاکہ خلیجی ممالک کے اتحاد اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے‘۔

قطری میڈیا پر جاری ہونے والے ان بیانات پر سعودی عرب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دوسرا بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ دوحہ کے بیانات میں کوئی صداقت نہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کا کہنا تھا کہ ’ان بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ قطری انتظامیہ مذاکرات کو لے کر سنجیدہ نہیں اور اپنی پرانی پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہتی ہے‘۔

دوسرے بیان میں سخت انداز میں کہا گیا کہ ’قطر کی جانب سے اپنی پوزیشن کلیئر کیے جانے تک سعودی عرب اور قطر انتظامیہ کے درمیان مذکرات اور رابطے ’معطل‘ رہیں گے‘۔

قطر-عرب کشیدگی

یاد رہے کہ رواں برس 5 جون کو سعودی عرب، مصر، بحرین، یمن، متحدہ عرب امارات اور مالدیپ نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عائد کرتے ہوئے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

تاہم دوحہ نے عرب ممالک کی جانب سے قطر پر دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات کی تردید کی تھی۔

بعد ازاں 23 جون کو سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر نے قطر کے سامنے سفارتی و تجارتی تعلقات کی بحالی کے لیے قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی بندش سمیت 13 مطالبات پیش کیے تھے جبکہ قطر کو ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے 10 روز کی مہلت دی گئی تھی۔

تاہم قطر نے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی مطالبات کی فہرست مسترد کرتے ہوئے ان مطالبات کو نامناسب اور ناقابل عمل قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ ٹی وی چینل الجزیرہ کی بندش کے علاوہ ایران سے تعلقات میں سردمہری لانا اور قطر میں ترک فوجی بیس کو ختم کرنا بھی 13 مطالبات میں شامل تھا۔

بعد ازاں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازع کے تناظر میں قطر نے اپنے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین میں تبدیلی کا اعلان کیا تھا۔

قالب وردپرس

Loading...
Categories
انٹرنیشنل

RELATED BY