ریپ ہونے والی خاتون کے کردار پر عدالت کی تنقید

انڈیا میں ایک عدالت نے حال ہی میں گینگ ریپ اور دھوکہ دہی کے جرم میں سزا پانے والے تین نابالغ افراد کی قید کی سزا کو معطل کرتے...
انڈیا میں ایک عدالت نے حال ہی میں گینگ ریپ اور دھوکہ دہی کے جرم میں سزا پانے والے تین نابالغ افراد کی قید کی سزا کو معطل کرتے ہوئے انھیں ضمانت پر رہا کیا ہے۔ انڈیا میں اس فیصلے پر کافی تنقید کی جا رہی ہے۔

انڈیا کے صوبے پنجاب میں ہریانہ کی ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لا کالج میں زیر تعلیم تین طالب علموں کو اپنی ساتھی طلبہ کے ساتھ گینگ ریپ اور دھوکہ دہی کے جرم میں ضمانت پر رہا کر دیا۔

رواں سال مارچ میں ایک ذیلی عدالت نے ان ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے سزائیں سنائی تھیں۔

ہردیک سکری اور کرن چابارہ کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اُن کے دوست وکاس گراج کو سات سال کی سزا دی گئی تھی۔ ان تینوں افراد کو دیگر جرائم میں بھی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق نومبر 2013 میں سکری کی ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ دوستی تھی جو ایک مہینے کے بعد ختم ہو گئی لیکن سکری نے ڈیڑھ سال تک اُس لڑکی کو برہنہ تصاویر کے ذریعے بلیک میل کیا اور نہ صرف اُسے ریپ کیا بلکہ اُسے مجبور کیا کہ وہ اُس کے دو دوستوں کے ساتھ بھی ہم بستری کرے۔

ملزمان نے ذیلی عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی اور عدالت سے استدعا کی کہ جب تک مقدمے کی سماعت جاری ہے انھیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔ جس کے بعد عدالت نے اُن کی استدعا منظور کرتے ہوئے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں ہزاروں افراد چھوٹے جرائم کے مرتکب قرار دیے جانے پر جیلوں میں قید ہیں اور عرصہ دراز سے اُن کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، یہ بات کافی حیران کن ہے کہ گینگ ریپ اور دھوکہ دہی جیسے سنگین مقدمات میں ملوث افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

اس مقدمے میں سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ 12 صفحات پر مبنی عدالتی حکم نامہ اُن بیانات پر مبنی ہے، جس میں انڈین ذرائع ابلاغ میں متاثرہ خواتین کو بدترین طریقے سے رسوا کیا گیا۔

خاتون کو شراب پینے، سگریٹ نوشی اور منیشیات استعمال کرنے، اپنے کمرے میں کونڈم رکھنے کے ساتھ ساتھ اس زیادتی کو اپنے والدین سے چھپانے پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ‘متاثرہ خاتون کے خدشات، سوسائٹی کے مطالبات، قانون اور اصلاح اور بحالی کے قوانین کو یکجا کر کے فیصلہ کریں۔’

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

فیصلے کے مطابق ‘تین نو عمر افراد کو طویل عرصے کے لیے جیل میں بند کرنا اُن کی شخصیت کو مزید خراب کر دے گا۔ قید میں وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے ہیں جس کے وجہ سے وہ عام افراد کی طرح سوسائٹی کا حصہ نہیں بن پائیں گے۔’

ممکنہ طور پرعدالتی فیصلے پر انڈیا میں شدید احتجاج کیا جائے گا اور سوشل میڈیا اس پر کافی غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ متاثرہ خاتون کے دوستوں نے آن لائن پٹیشن کے ذریعے اس فیصلے کی بھرپور مذمت کی ہے۔

سپریم کورٹ کی وکیل کرونا نیندے نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی ایسا جواز نہیں تھا کہ اُس خاتون کو ریپ نہ کیا جائے۔’

انھوں نے کہا کہ ‘اس طرح کے فیصلوں سےخواتین کے لیے مساوی حقوق کی جدوجہد مزید مشکل ہو گئی ہے۔’

مس ننیدے نے کہا کہ اس عدالتی حکم میں رضامندی کی قانونی تعریف نہیں کی گئی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بالکل واضح ہے کہ ‘ایسی خاتون جو پہلے رضامند ‘ ہو وہ بھی اس بارے میں اپنی رضامندی واپس لے سکتی ہے اور اُس کے بعد جنسی تعلق ریپ کہلائے گا۔

معاشرے میں ریپ اور جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین پر الزامات عائد کرنا غیر معمولی بات نہیں ہے۔ متاثرہ خواتین پر اکثر مردوں سے دوستی، رات دیر گئے تک گھر سے باہر رہنے اور جینز پہنے، موبائل فون پر بات کرنے جیسے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

سنہ 2003 سے پہلے انڈیا میں قانون بھی متاثرہ خواتین کو رسوا کرنے کی اجازت دیتا تھا۔

انڈیا میں گواہی کا ایکٹ 1872 کے شق 155 کے مطابق بنیادی طور ریپ کے مقدمات میں ملزم یہ ثابت کر سکتا تھا کہ متاثرہ خاتون ‘غیر اخلاقی کردار کی مالک ہے۔’

سنہ 1980 میں لا کمیشن نے اس قانون میں ترمیم کی تجویز دی اور سنہ 2000 میں کمیشن نے اس شق کو نکالنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس سے متاثرہ خاتون کی ‘عزتِ نفس اور ساکھ’ تباہ ہو رہی ہے۔

دہائیوں کے بعد اب بھی متاثرہ خاتون کو رسوا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

قالب وردپرس

Loading...
Categories
انڈیا

RELATED BY