جھوٹ اور سچ کا فیصلہ

\”جنرل پرویز مشرف 2007ءمیں میرے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے تھے‘ مجھے بالواسطہ پیغام بھجوایا گیا لیکن میں نے انڈر ہینڈ ڈیل کرنے سے انکار کر دیا‘ آج آپ مکافات...

\”جنرل پرویز مشرف 2007ءمیں میرے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے تھے‘ مجھے بالواسطہ پیغام بھجوایا گیا لیکن میں نے انڈر ہینڈ ڈیل کرنے سے انکار کر دیا‘ آج آپ مکافات عمل دیکھئے‘ ہم یہاں اپنے ملک میں بیٹھے ہیں اور جنرل پرویز مشرف چاہنے کے باوجود پاکستان نہیں آ سکتے“یہ میاں نواز شریف کے الفاظ ہیں‘ یہ انکشاف وزیراعظم نے 21 مارچ کو پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کے دوران کیا‘یہ انکشاف منگل اور بدھ دو دن خبروں کا موضوع رہا‘ ٹاک شو بھی ہوئے‘ تبصرے بھی ہوئے اور یہ اگلے دن کے اخبارات کی شہ سرخی بھی بنا‘ جنرل پرویز مشرف نے بدھ کی رات وسیم بادامی کے پروگرام میں اس انکشاف کو سفید جھوٹ قرار دے دیا‘ اس کے بعد ملک میں یہ بحث چھڑ گئی جھوٹ کون بول رہا ہے اور سچ کون کہہ رہا ہے‘ یہ فیصلہ میری ذمہ داری نہیں‘ تاہم میں کچھ واقعات عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں‘ یہ واقعات بے شمار حقائق کی پرتیں کھول دیں گے اور آپ سچ اور جھوٹ کے تعین کے قابل ہو جائیں گے‘ ان حقائق کے زیادہ تر گواہ زندہ ہیں‘ آپ ان سے ان حقائق کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ہم پہلے 12 1999ءمیں جاتے ہیں‘ فوج نے 12 اکتوبر کی سہ پہر وزیراعظم ہاﺅس پر قبضہ کر لیا‘ شریف برادران گرفتار ہو گئے‘ حکومت ختم ہو گئی‘ ملک میں ایمرجنسی لگ گئی‘ وزیراعظم کو اسی رات کور ہیڈکوارٹر راولپنڈی کے میس میں شفٹ کر دیا گیاتھا‘ یہ ایک کمرے میں نظر بند ہو گئے‘ رات کے وقت جنرل محمود (یہ اس وقت دس کور کے کمانڈر تھے‘ یہ بعد ازاں آئی ایس آئی کے ڈی جی بنا دیئے گئے)‘جنرل علی محمد جان اورکزئی (یہ جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل تھے‘ یہ بعد ازاں صوبہ سرحد کے گورنر بنا دیئے گئے) اور جنرل احسان الحق (یہ اس وقت ملٹری انٹیلی جنس کے ڈی جی تھے‘ یہ بعد ازاں ڈی جی آئی ایس آئی اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنے) یہ تینوں جنرل وزیراعظم کے کمرے میں آئےاور ایک ٹائپ شدہ کاغذ ان کے سامنے رکھ وزیراعظم نے کاغذ پڑھنا شروع کر دیا‘ کاغذ پر لکھا تھا‘ میں بطور وزیراعظم قومی اسمبلی توڑنے اور حکومت کے خاتمے کا اعلان کرتا ہوں‘ وزیراعظم نے کاغذ میز پر رکھ دیا‘ جنرلز وزیراعظم سے کاغذ پر دستخط کرانا چاہتے تھے‘ نواز شریف نے انکار کر دیا‘ جنرل محمود نے پہلے انہیں پیار سے سمجھایا‘ پھر دھمکی دی‘ پھر بدتمیزی کی اور پھر پیار سے سمجھایا‘ جنرل محمود نے میاں صاحب کو پیشکش کی آپ اس کاغذ پر دستخط کریں اور آپ اپنے خاندان کے ساتھ جہاں چاہیں وہاں چلے جائیں‘وزیراعظم نے یہ آفر سن کر ”اوور مائی ڈیڈ باڈی“ کہا اور اپنی پشت کرسی کے ساتھ لگا لی‘ جنرل ناراض ہو کر چلے گئے‘ یہ ڈیل کی پہلی کوشش تھی‘ میاں نواز شریف کو مہینے بعد میس سے گورنر ہاﺅس مری شفٹ کر دیا گیا‘ یہ وہاں چار ماہ قید تنہائی میں رہے‘ یہ اس دوران اپنے خاندان کی سلامتی تک سے آگاہ نہیں تھے‘ یہ وہی قید تنہائی تھی جس کے دوران ایک دن انہیں اپنے بڑے صاحبزادے حسین نواز کی تلاوت کی آواز آئی اور یہ انہیں زندہ سلامت جان کر خوشی سے رو پڑے‘جنرل محمود کا خیال تھا یہ قید تنہائی میاں نواز شریف کو نرم کر دے گی اور یہ ان کی شرائط مان کر ان کی جان چھوڑ دیں گے‘ چار ماہ کی قید تنہائی کے بعد میاں نواز شریف کو خصوصی طیارے میں اسلام آباد سے کراچی روانہ کر دیا گیا‘ جنرل محمود بھی طیارے میں میاں صاحب کے ساتھ تھے‘ وزیراعظم کو سینڈوچ اور کافی پیش کی گئی‘ جنرل محمود اور نواز شریف سفر کے دوران آمنے سامنے بیٹھے رہے‘جنرل محمود کا خیال تھا میاں نواز شریف گفتگو سٹارٹ کریں گے اور یوں ڈائیلاگ شروع ہو جائے گا۔

لیکن میاں نواز شریف سارا راستہ خاموش بیٹھے رہے‘ وزیراعظم کو کراچیی میں لانڈھی جیل میں بند کر دیا گیا یوں ڈیل کا دوسرا موقع بھی ضائع ہو گیا۔میاں نواز شریف کو خاندان سمیت سعودی عرب بھجوانے کا آئیڈیا شوکت عزیز کا تھا‘ یہ 30 سال سٹ بینک کی اعلیٰ ترین پوزیشنز پر تعینات رہے تھے‘ ان کے عرب دنیا کے تمام امرائ‘ شاہی خاندانوں اور بزنس کمیونٹی سے قریبی تعلقات تھے‘ یہ نومبر 1999ءمیں جنرل مشرف کے وزیر خزانہ بن گئے‘ پاکستان کا خزانہ اس وقت خالی تھا‘ شوکت عزیز نے جنرل پرویز مشرف کو سمجھایا ہم میاں نواز شریف کو سعودی عرب کے حوالے کر کے عربوں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنا سکتے ہیں‘یہ تعلقات ہماری اکانومی کےلئے اچھے ثابت ہوں گے‘ جنرل مشرف کو شروع میں یہ آئیڈیا پسند نہ آیا لیکن پھر یہ بین الاقوامی تنہائی‘ معاشی مشکلات اور بیگم کلثوم نواز کی ”تحریک نجات“ کے دباﺅ میں آ گئے‘ شوکت عزیز کے لبنان کی الحریری فیملی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے اور سعد الحریری سعودی عرب کے ولی عہد پرنس عبداللہ کے بہت قریب تھے‘ شوکت عزیز نے سعد الحریری سے رابطہ کیا اور سعد الحریری نے پرنس عبداللہ سے بات جنرل پرویز مشرف ستمبر 2000ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کےلئے نیویارک گئے‘ پرنس عبداللہ بھی اس وقت نیویارک میں تھے‘جنرل مشرف اور پرنس عبداللہ کی ملاقات ہوئی‘ سعد الحریری نے ترجمان کا فریضہ ادا کیا اور شریف فیملی کو جدہ بھجوانے کا فیصلہ ہو گیا‘ سعد الحریری پاکستان آئے‘ یہ حسین نواز شریف اور میاں نواز شریف سے ملے اور معاملات طے پا گئے‘ شجاعت عظیم سعدالحریری کے پائلٹ تھے‘شوکت عزیز نے بعد ازاں سعد الحریری کی سفارش پر شجاعت عظیم کے بڑے بھائی طارق عظیم کو اطلاعات کا وزیر مملکت بنایا‘ میاں نواز شریف کو10 دسمبر 2000ءکو خاندان سمیت سعودی عرب جلاوطن کر دیا گیا‘ اس ڈیل کے محرک شوکت عزیز اور ضامن سعد الحریری تھے۔میاں نواز شریف فیملی سعودی عرب تک محدود تھی‘ 2002ءکے آخر میں میاں شہباز شریف کی بڑی آنت میں کینسر نکل آیا‘ سعودی حکومت نے انہیں جنوری 2003ءمیں امریکا جانے کی اجازت دے دی‘ جنرل مشرف اس فیصلے پر نہ صرف خاموش رہے بلکہ انہوں نے مجید نظامی مرحوم کو اپنا پیغام بر بنا کر جدہ بھجوا دیا‘ مجید نظامی صاحب نے میاں نواز شریف کو بتایا ”جنرل مشرف چاہتے ہیں آپ راجہ ظفر الحق کو پاکستان مسلم لیگ ن کا سربراہ بنا دیں اور اس کے بعد لندن یا نیویارک جہاں چاہیں چلے جائیں“میاں نواز شریف نے انکار کر دیا‘ ان کا کہنا تھا ” میرا موقف اصولی ہے‘ میں ڈیل کےلئے تیار نہیں ہوں“ یوں ڈیل کی یہ کوشش بھی ضائع ہوگئی‘ اکتوبر 2004ءمیں میاں شریف کا انتقال ہو گیا‘ مرزا عبدالعزیز اس وقت سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر تھے‘ یہ میاں نواز شریف کو ملے اور انہیں جنرل مشرف کایہ پیغام دیا ”آپ‘ میاں شہباز شریف اور بیگم کلثوم کے علاوہ خاندان کے تمام افراد تدفین کےلئے پاکستان جا سکتے ہیں“ میاں نواز شریف نے یہ پیش کش مسترد کر دی‘جنرل مشرف نے 21 نومبر 2004ءکو تعزیت کےلئے میاں نواز شریف کو فون کیا‘ جنرل کا خیال تھا یہ کوئی مطالبہ کریں گے اور یوں دونوں کے درمیان ڈائیلاگ شروع ہو جائے گا لیکن میاں نواز شریف صرف تعزیت تک محدود رہے یوں ڈیل کی یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی‘۔

میاں نواز شریف 29 نومبر 2006ءکو سعودی عرب سے لندن منتقل ہو گئے‘ یہ اجازت سعودی حکومت نے دی تھی اور یہ بلامشروط تھی‘ جنرل مشرف نے اس اجازت پر کنگ عبداللہ سے باقاعدہ احتجاج کیا لیکن سعودی عرب نے اس احتجاج پر توجہ نہیں دی‘2007ءمیں تین بڑے واقعات پیش آئے‘ امریکا اور اس کے یورپی اتحادی جنرل مشرف سے ناراض ہو گئے‘ افتخار محمد چودھری اور لال مسجد کا ایشو بن گیا اور میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو میثاق جمہوریت کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آ گئے‘ یہ سارے واقعات دباﺅ بنے اور جنرل مشرف بے نظیر بھٹو کے ساتھ این آر او پر مجبور ہو گئے‘ میاں نواز شریف نے 10 ستمبر 2007ءکو واپس آنے کی کوشش کی لیکن انہیں زبردستی سعودی عرب ڈی پورٹ کر دیا گیا‘بے نظیر بھٹو 18 اکتوبر 2007ءکو جنرل مشرف کی مرضی سے واپس آئیں اور ملک میں الیکشن مہم شروع کر دی‘ سعودی عرب محترمہ سے خوش نہیں تھا چنانچہ پرنس مقرن بن عبدالعزیز پاکستان آئے اور جنرل مشرف کو کنگ کا یہ پیغام دیا ”بے نظیر پاکستان میں ہو ںگی تو نواز شریف بھی ہو گا“ یہ پیغام ملنے کے بعد جنرل مشرف نے بریگیڈیئر نیاز کو سعودی عرب بھجوادیا‘ بریگیڈیئر نیاز میاں شہباز شریف اور جنرل مشرف دونوں کے مشترکہ دوست تھے‘ یہ سعودی عرب میں میاں برادران سے ملے‘ بریگیڈیئر نیاز کی موجودگی میں آئی ایس آئی کے ڈی جی جنرل ندیم تاج سعودی عرب گئے اور ایک غیر ملکی معزز شخص کے ذریعے میاں نواز شریف سے ملنے کی کوشش کی‘جنرل ندیم تاج بیگم کلثوم نواز کے دور کے رشتے دار تھے‘ یہ بے نظیر بھٹو کا راستہ روکنے کےلئے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان مسلم لیگ ق کے درمیان ”سیٹ ٹو سیٹ“ ایڈجسٹ منٹ کا ایک فارمولہ لے کر سعودی عرب گئے تھے‘ میاں نواز شریف کے عزیز ترین دوستوں نے پورا زور لگایا لیکن میاں نواز شریف جنرل ندیم تاج سے ملاقات کےلئے تیار نہ ہوئے‘ یہ جنرل مشرف کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کرنا چاہتے تھے۔آپ اگر سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نومبر 2007ءکا ریکارڈ نکال کر دیکھ لیجئے آپ کو جنرل ندیم تاج سعودی عرب میں ملیں گے‘ یہ اگر ڈیل لے کر نہیں گئے تھے تو یہ وہاں کیا کر رہے تھے اور یہ وہاں بریگیڈئیر نیاز سے کیوں رابطے میں تھے؟ یہ وہ ملین ڈالر سوال ہے جس کا جواب جھوٹ اور سچ کا فیصلہ کر دے گا‘ یہ جواب تاریخ کا سارا دھارا بھی سیدھا کر دے گا‘ میرا جنرل پرویز مشرف اور میاں نواز شریف کو مشورہ ہے آپ جنرل ندیم تاج کو فون کریں اوراپنی ساری کنفیوژن دور کرلیں‘آپ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کر لیں۔

Loading...
Categories
کالم

RELATED BY