اوزون کی تہہ میں ’بحالی‘ کے آثار

محققین کا کہنا ہے کہ انھیں پہلی بار ایسے شواہد ملے ہیں کہ انٹارکٹکا کے اوپر اوزون کی کم ہوتی ہوئی تہہ میں بہتری رونما ہوئی ہے۔ سائنس دانوں...
space urdu news

محققین کا کہنا ہے کہ انھیں پہلی بار ایسے شواہد ملے ہیں کہ انٹارکٹکا کے اوپر اوزون کی کم ہوتی ہوئی تہہ میں بہتری رونما ہوئی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سنہ 2000 کے مقابلے میں ستمبر 2015 میں اوزون کا سوراخ 40 لاکھ مربع فٹ چھوٹا تھا۔ یہ رقبہ تقریباً انڈیا کے رقبے کے برابر ہے۔

یہ عمل اوزون کا تباہ کرنے والے کیمیائی مادوں کے استعمال میں طویل مدت سے کمی کے بعد ظاہر ہوئے ہیں۔

اس تحقیق سے یہ امر بھی سامنے آیا ہے کہ آتش فشاؤں سے بھی اس مسئلے میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پروفیسر سولومون اور ان کے ساتھیوں نے 2000 سے 2015 کے درمیان کرہ ہوائی میں اوزون کا تفصیلی جائزہ لیا ہے

1980 کی دہائی کے وسط میں برطانوی سائنس دانوں نے پہلی بار کرۂ ہوائی میں انٹارکٹا کے اوپر دس کلومیٹر بلندی پر اوزون کی تہہ میں ڈرامائی کمی ہوتے ہوئے دیکھا۔

اوزون اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ سورج سے مضر الٹراوائلٹ تابکاری شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

اس کی غیر موجودگی سے جلد کے سرطان اور سفید موتیا کا خطرہ ہوتا ہے اور اس سے جانوروں اور پودوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

سنہ 1986 میں امریکی محقق سوسان سولومون نے دریافت کیا کہ اوزون کی تہہ کلوروفلوروکاربنز(CFC) میں موجود کلورین اور برومین سے تباہ ہورہی ہے۔ یہ گیسیں عام طور پر بالوں کےسپرے سے لے کر ریفریجریٹروں اور ایئرکنڈیشننگ یونٹس میں پائی جاتی ہیں۔

انٹارکٹا کے اوپر اوزون کی تہہ متاثر ہونے کی وجہ وہاں سخت سرد موسمی حالات اور روشنی کی موجودگی ہے جو اوزون کو تباہ کرنے والے کلورین کے کیمیائی عمل کے لیے سازگار ہیں۔

پروفیسر سولومون اور ان کے ساتھیوں نے 2000 سے 2015 کے درمیان کراہ ہوائی میں اوزون کا تفصیلی جائزہ لیا۔
انٹارکٹا کے اوپر اوزون کی سطح متاثر ہونے کی وجہ وہاں سخت سرد موسمی حالات اور روشنی کی موجودگی ہے

ہوائی غباروں، سیٹلائٹس اور دیگر ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس دورانیے میں اوزون کی پتلی ہوتی ہوئی تہہ میں 40 لاکھ مربع کلومیٹر کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی اہم وجہ فضائی کلورین میں کمی ہے۔

پروفیسر سولومون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگرچہ سال 2000 کے قریب چین اور انڈیا سمیت تمام ممالک میں سی ایف سی گیسوں کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم ابھی بھی ماحول میں بڑی تعداد میں کلورین موجود ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کی زندگی عموماً 50 سے 100 سال تک ہوتی ہے چنانچہ یہ آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے اور اوزون میں بہتری آئے گی۔‘

پروفیسر سولومون کا کہنا تھا کہ ’ہم 2050 یا 2060 تک اس کی مکمل بحالی کی امید نہیں کر سکتے لیکن ہم نے ستمبر میں دیکھا کہ اوزون کا سوراخ اتنا خراب نہیں ہے جتنا یہ پہلے ہوا کرتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اوزون میں سوراخ کی وجہ آتش فشاں بھی ہیں جن میں لاوا اگلنے کے بعد گندھک کے ذرات پولر سٹراسفیرس کلاؤڈز بناتے ہیں جو اوزون کی تناہی کے لیے سازگار ماحول بناتے ہیں۔

Loading...
Categories
سائنس و ٹیکنالوجی

RELATED BY