تحریک لبیک پاکستان کا جنرل اور خواتین نشستوں پر اپنے ووٹ ضائع کرنے کا اعلان، کر دیا

0

 تحریک لبیک پاکستان کا جنرل اور خواتین نشستوں پر اپنے ووٹ ضائع کرنے کا اعلان، کر دیا
امیر تحریک لبیک سندھ علامہ غلام غوث بغدادی کی پریس کانفرنس
اربوں روپے کا کاروبار کیا جارہا ہے اور ٹکٹ جاری ہونے سے لیکر ووٹ حاصل کرنے کی جدوجہد اربوں روپے کا کھیل بن چکی ہے، تجوریاں بھری اور آئندہ بھرنے کی امید پر خالی کی جارہی ہیں
علامہ غلام غوث بغدادی
پاکستان کی سیاست پر قابض جماعتیں چاہیں وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہر ایک دوسرے کو بلیک میل کرنے یا لالچ دیکر خریدنے کی کوششوں میں مصروف ہے،
علامہ رضی حسینی
عوام کے سامنے دست و گریباں حکومت اور اپوزیشن نے اندرون خانہ بندر بانٹ کا پروگرام بھی بنا رکھا ہے،
مفتی قاسم فخری
تحریک لبیک پاکستان اپنے قائد محترم حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی صاحب کی قیادت میں اپنی جدوجہد تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت اور محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو تخت پر لانے کے لیے ہمیشہ جاری رکھے گی،
نامزد امیدوار سینٹ یشاء اللہ خان افغان

کراچی( ) تحریک لبیک یارسول پاکستان سندھ کے امیر علامہ غلام غوث بغدادی،امیر کراچی علامہ رضی حسینی،
ایم پی اے مفتی قاسم فخری،
امیدوار برائے سینٹ یشاء اللہ خان، ناظم اعلی سندھ صوفی یحیی قادری، ایم پی اے یونس سومرو ، ایم پی اے ثروت فاطمہ صاحبہ نے پریس کلب میں سینٹ انتخابات کے عنوان پر پریس کانفرنس کی
علامہ غلام غوث بغدادی نے کہا
وطن عزیز پاکستان میں سینٹ انتخابات کا انعقاد کیا جارہا ہے، جسکی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، الحمد للہ تحریک لبیک پاکستان بھی قائد محترم جناب حافظ سعد حسین رضوی کی خصوصی ہدایت پر اس انتخاب میں حصہ لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میدان لگ چکا ہے ، گزری رات 12 بجے تک اعلانیہ و غیر اعلانیہ اور اسکے بعد غیر اعلانیہ جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے،حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے دوسری پارٹیوں کے ایم این ایز اور ایم پی ایز سے رابطوں کا دعویٰ ہے،اربوں روپے کا کاروبار کیا جارہا ہے اور ٹکٹ جاری ہونے سے لیکر ووٹ حاصل کرنے کی جدوجہد اربوں روپے کا کھیل بن چکی ہے، تجوریاں بھری اور آئندہ بھرنے کی امید پر خالی کی جارہی ہیں، چند روز پہلے تک عوام کے غم میں ہلکان اپوزیشن اور عوام کو سہولیات دینے کی بات آنے پر خالی خزانہ کا رونا رونے والی حکومت ہر کوئی خزانوں کا منہ کھولے بیٹھا ہے اور منڈی لگی ہوئی ہے جہاں اشرف المخلوقات انسان جو کہ عام انسان نہیں بلکہ عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندے ہیں وہ بکنے کے لیے زیادہ بولی کی راہ تک رہے ہیں،اسلامی تشخص کی دعویدار پارٹی بتوں پر دودھ چڑھانے والوں کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے،عجیب کشمکش کی صورتحال ہے۔۔۔۔سینٹ انتخابات میں اربوں روپے کی ہارس ٹریڈنگ کا بَیِّن ثبوت پچھلے دنوں پورے پاکستان نے دیکھا اور عوام کے نام نہاد نمائندے اپنے ضمیروں کا سودا کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔۔ذاتی مفادات کی جنگ اس حد تک بڑھ گئی کہ ظاہری طور پر عوام کے درد میں مگرمچھ کے آنسو بہانے والے وطنِ عزیز پاکستان کے وزیر اعظم صاحب کے بارے میں یہ خبر آئی کہ انہوں نے اس انتخاب کی وجہ سے اپنی تمام حکومتی مصروفیات ترک کردی ہیں اور ان انتخابات کے لیے اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو منانے میں مصروف عمل ہیں،اور بڑے بڑے دعوے کرنے والے وزیر اعظم صاحب کی اپنی پارٹی پر گرفت کا عالم یہ ہے کہ ایک ایک ایم این اے اور ایم پی اے فخر و غرور کا شکار وزیر اعظم صاحب کو بلیک میل کرنے میں مصروف ہے،خوف کی فضا کا عالم یہ ہے کہ گزشتہ رات سے ہی اراکین اسمبلی کے لیے ہوٹل میں کمرے بک کرالیے گئے ہیں اور انہیں پرتعیش رہائش دیکر گھر نہ جانے کی درخواست کی جارہی ہے۔۔۔۔۔پاکستان کی سیاست پر قابض جماعتیں چاہیں وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہر ایک دوسرے کو بلیک میل کرنے یا لالچ دیکر خریدنے کی کوششوں میں مصروف ہے،جیساکہ ایم کیو ایم کے بارے میں پہلے یہ پتا چلا کہ وہ اگرچہ حکومتی اتحاد میں شامل ہے مگر وہ مرکز کی سینٹ سیٹ پر اپوزیشن کو سپورٹ کرے گی،پھر چند ہی گھنٹوںمیں حکومت سے اپنی شرائط منوانے کے بعد اور نئی تنخواہ طے ہونے کے بعد حکومتی سپورٹ پر راضی ہوگئے،بلکہ خبریں یہاں تک ہیں کہ عوام کے سامنے دست و گریباں حکومت اور اپوزیشن نے اندرون خانہ بندر بانٹ کا پروگرام بھی بنا رکھا ہے اور ذرائع کے مطابق حکومت نے پی ڈی ایم کے ایک اہم لیڈر کو اسلام آباد میں سپورٹ کے بدلے بلوچستان کی چھ سیٹیں پلیٹ میں سجا کر دینے کی آفر کی ہے،الحمد للہ تحریک لبیک پاکستان نے محبوب علیہ السلام کے صدقے اس تمام گندگی سے اپنا دامن بچا رکھا ہے جسکی گواہی پچھلے دنوں ہمارے سخت نظریاتی مخالفین نے بھی ٹی وی پروگراموں میں دی ،تحریک لبیک پاکستان سندھ کابینہ اور پارلیمانی بورڈ نےطویل غور و خوض کیا کہ سینٹ کی اس دوڑ کوئی ایسا شخص دکھائی دے جسکا تعلق چاہے کسی بھی جماعت سے ہو بس وہ اسلام ، پاکستان اور عوام کا درد رکھتا ہو اور امت مسلمہ کا غم محسوس کرتا ہو تو اسے اس نیک نامی پر ووٹ دیا جائے۔۔۔۔لیکن نہایت سوچ و بچار کے بعد انتہائی افسوس ہوا کہ اس لسٹ میں کوئی ایسا نام نہیں ،،بلکہ ان میں کوئی زرداری کا نوکر اور کوئی عمران کا چاکر ہےاور کوئی نواز شریف کا چاہنے والا ہے ،،،ان میں سے کوئی ایسانہیں جو ماضی قریب یابعید میں کسی بھی طرح اسلام، پاکستان اور قوم کے لئے کوئی خدمت سر انجام دی ہوبلکہ یہ سب انہی چوروں لٹیروں کے حامی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔۔۔اور میرے آقا و مولی ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ مَشٰی مَعَ ظَالِم لِیُعِیْنَہ وَھُوَ یَعْلَمُ اَنَّہ ظَا لِم فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْاِسْلاَم(المعجم الکبیر)جو ظالم کا ساتھ دینے کے لئے چلے اسکے لئے فرمایا خرج من الاسلام ۔۔۔محبوب کریم ﷺ نے اسے کتنا سخت ناپسند فرمایا اس سے اندازہ لگائیے ۔۔۔۔چنانچہ تحر یک لبیک پاکستان سندھ کابینہ اور پارلیمانی بورڈ نے موجودہ صورتحال میں انتہائی غور ومشاورت کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے(جسکی توثیق امیر محترم نے بھی فرمادی ہے) کہ اپنا ووٹ ضائع کردینا بہتر ہے بنسبت اسکے کہ یہ پاکیزہ امانت کسی اسلام دشمن ، دینی تشخص کے مخالف اور پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹنے والے اور عوام کا خون چوسنے والوں کو دی جائے،تحریک لبیک پاکستان سندھ اسمبلی کے تینوں ارکان جناب مفتی قاسم فخری، محمد یونس سومرو اور ہماری بہن ثروت فاطمہ صاحبہ ٹیکنوکریٹ سیٹ پر اپنا حق رائے دہی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار، نظریہ پاکستان کے حامل اور حب الوطنی میں پختہ امیدوار جناب یشاء اللہ خان افغان کو ووٹ دیکراستعمال کرینگے،اور الحمد للہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ نظریہ ناقابل فروخت ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس نظریے کو خرید نہیں سکتی ،تحر یک لبیک پاکستان سندھ کابینہ اور پارلیمانی بورڈ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ تحریک لبیک پاکستان تا قیام قیامت اپنے نظریے پر قائم رہے گی اور ہمارا نظریہ اور منشور بالکل واضح ہے۔۔۔اسلام ، پاکستان اور عوام
تحریک لبیک پاکستان اپنے قائد محترم حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی صاحب کی قیادت میں اپنی جدوجہد تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت اور محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو تخت پر لانے کے لیے ہمیشہ جاری رکھے گی اور اسلام اور پاکستان کے خلاف ہونے والی قومی اور بین الاقوامی سازشوں کے خلاف سینہ سپر رہے گی۔۔

Leave a Reply