جس سے ٹرین نہیں چلی، اُسے وزیر داخلہ بنادیا۔ شاہد خاقان عباسی

0

جس سے ریل نہیں چلی، اُسے وزیر داخلہ بنادیا۔ شاہد خاقان عباسی

سابق وزیراعظم اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے وفاقی کابینہ میں ردوبدل پر تبصرہ کردیا۔

میڈیا سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی نے شیخ رشید کا نام لیے بغیر کہا کہ جس سے ریلوے نہیں چلی، اُسے وزارت داخلہ دے دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ:
جو بچہ سارے امتحانوں میں فیل تھا اُسے وزیر ریلوے بنادیا گیا اور اُسے وزیر خزانہ بنادیا ہے کہ جو 2 سالوں میں ملکی معیشت تباہ کرچکے ہیں۔

سابق وزیر نے کہا کہ:
ملک پر رحم کریں، کوئی پلاننگ کرلیا کریں، توانائی کے شعبے میں وزراء سیکڑوں ارب کا نقصان کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ:
جتنی جلدی خریدیں گے (ایل این جی) شپ سستی ملے گی، دسمبر میں ٹینڈر کھولیں اور جنوری میں (ایل این جی) مل جائے یہ ممکن نہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے یہ بھی کہا کہ:
غلط طریقے، تاخیر کرنے پر 15 ارب کا نقصان 9 جہازوں پر ہوا، حکومت نے (ایل این جی) کے 9 جہاز مہنگے خریدے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ:
(ایل این جی) کی سردیوں کے لیے شپمنٹ جون جولائی میں 10 فیصد برینٹ پر ملتی، اب 17 فیصد پر ملی ہیں۔

ن لیگ کے سینئر رہنما نے کہا کہ:
حکومت نے پہلے آرڈر نہ کرکے صرف دسمبر اور جنوری کی نو شپمنٹ پر پندرہ ارب کا نقصان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ:
جس کمپنی کو (پی ٹی آئی) والے چور کرپٹ کہہ رہے تھے، اُسی سے (ایل این جی) معاہدہ کیا، دنیا کا سب سے سستا (ایل این جی) معاہدہ کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ:
انہیں تعلیمی بالغان کا کورس ایک گھنٹے میں کروادوں گا، بات سیدھی سی ہے ہر مہینے (ایل این جی) کے بارہ جہاز درکار ہیں، جتنے جلدی ٹینڈر کریں گے اتنی سستی (ایل این جی) ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ:
وزارت پٹرولیم بتائے پورے سال میں ٹرمینل کو کتنی ادائیگی کرتےہیں، کئی وزرا کو تکلیف ہے کہ ٹرمینل کو زیادہ ادائیگی کی جاتی ہے، وفاقی وزیر اپنا پاور پلانٹ، ڈیزل کی جگہ (ایل این جی) پر چلنے سے بچت کا بتادیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ:
اگر وہ نہیں بتائیں گے تو دو ایک دن میں میں بتادوں گا، کیا وفاقی وزیر کا پلانٹ (ایل این جی) پر چلانے سے بچت (ایل این جی) ٹرمینل کو کل ادائیگی سے زیادہ نہیں؟

انہوں نے کہا کہ:
جتنے مرضی مقدمات درج کر لیں لاہور میں جلسہ ہوگا، آخری قدم استعفوں کا ہے، جس کے لیے ساری (پی ڈی ایم) جماعتیں تیار ہیں۔

Leave a Reply