ہاشم خان: سکواش میں پاکستان کا پہلا تعارف

ہاشم خان نے سنہ 1951 میں پہلی بار برٹش اوپن جیتی ہاکی کے پہلے اولمپک گولڈ میڈل سے بھی بہت پہلے پاکستان نے جس کھیل میں عالمی چیمپیئن ہونے...

ہاشم خان نے سنہ 1951 میں پہلی بار برٹش اوپن جیتی

ہاکی کے پہلے اولمپک گولڈ میڈل سے بھی بہت پہلے پاکستان نے جس کھیل میں عالمی چیمپیئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا وہ سکواش ہے اور جس کھلاڑی نے اسے فاتح عالم بنایا وہ ہاشم خان تھے۔
ہاشم خان بین الاقوامی سکواش میں پاکستان کا پہلا تعارف تھے۔

ورلڈ اوپن کے آغاز تک برٹش اوپن کو سکواش کی عالمی چیمپیئن شپ کا درجہ حاصل تھا۔ ہاشم خان نے سنہ 1951 میں پہلی بار برٹش اوپن جیتی۔

ان کی یہ کامیابی دراصل سکواش کورٹ میں پاکستان کی برتری کی ابتدا اور مصری بالادستی کےخاتمے کا اعلان تھی۔

میں نہیں چاہتا تھا کہ بڑے بھائی سے جیتوں۔ان کا احترام ضروری تھا۔ ہمارے درمیان اچھے میچ ہوتے تھے لیکن سب لوگ یہی کہتے تھے کہ دونوں بھائی کھیل رہے ہیں اور نتیجہ سب کو معلوم ہے۔

اعظم خان: ہاشم خان نے پہلی کامیابی 37 سال کی عمر میں حاصل کی اور اس عمر میں بھی کمال کی فٹنس اور مہارت کا ثبوت دیکھتے ہوئے مصری کھلاڑی محمود الکریم کو آؤٹ کلاس کر دیا تھا جو اپنے دور کے بہت بڑے کھلاڑی سمجھے جاتے تھے۔

ہاشم خان کی اس جیت سے سکواش میں پاکستان کی شاندار روایت کا آغاز ہوا جسے دنیا نے ’نواکلی کے طوفان‘ کا نام دیا کیونکہ ہاشم خان اور سکواش کے اس وقت کے تمام کھلاڑیوں کا تعلق پشاور کے گاؤں نواکلی سے ہی تھا۔

ہاشم خان نے آٹھ سال کے عرصے میں برٹش اوپن سات بار جیتی، ایک فائنل جو وہ نہ جیت سکے وہ روشن خان کے خلاف تھا۔

ہاشم خان نے اپنی قائم کردہ سلطنت اپنی ذات پر ہی ختم کرنے کے بجائے اسے اپنے چھوٹے بھائی اعظم خان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا جو پشاور میں ٹینس کے کھلاڑی تھے لیکن ہاشم خان نے انھیں نہ صرف سکواش کی جانب مائل کیا بلکہ انھیں اپنے ساتھ انگلینڈ لے گئے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب سکواش ٹورنامنٹس کے تقریباً تمام ہی فائنلوں میں یہ دونوں بھائی ہی مدمقابل ہوتے تھے اور ذرائع ابلاغ میں یہ مقابلے ’فیملی افیئر‘ کے طور پر مشہور تھے۔

میری یہ خوش قسمتی ہے کہ میں ہاشم خان اور اعظم خان سے متعدد بار ملا۔ دونوں بھائی بذلہ سنجی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رہے۔

میں نے اعظم خان سے اپنے بڑے بھائی کو نہ ہرانے کی وجہ پوچھی تھی کہ یہ ان کا احترام تھا یا ہاشم خان واقعی زبردست کھلاڑی تھے؟ تو اعظم خان نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا: ’میں نہیں چاہتا تھا کہ بڑے بھائی سے جیتوں۔ ان کا احترام ضروری تھا۔ ہمارے درمیان اچھے میچز ہوتے تھے لیکن سب لوگ یہی کہتے تھے کہ دونوں بھائی کھیل رہے ہیں اور نتیجہ سب کو معلوم ہے۔‘

اعظم خان نے صرف ایک مرتبہ ہاشم خان کو ہرایا تھا اور وہ بھی اس طرح کہ ہاشم خان کا پیر زخمی تھا اور اعظم خان نے ان سے کہا تھا کہ اگر وہ انھیں ہرا کر فائنل میں بھی پہنچ گئے تو روشن خان کو اس حالت میں نہیں ہراسکیں گے لہذا وہ سیمی فائنل اعظم خان نے جیتا اور پھر فائنل میں انھوں نے روشن خان کو شکست دی۔

اعظم خان لندن میں مقیم ہیں اور ان کی عمر اس وقت 95 برس ہے۔
ہاشم خان سے ایک ملاقات کے دوران میں نے ان سے برٹش اوپن جیتنے پر ملنے والی انعامی رقم کے بارے میں پوچھا تھا تو مجھے ہنستے ہوئے ان کا جواب آج تک یاد ہے ’50 پاؤنڈ ۔‘

میں نے ان سے سوال کیا تھا کہ وہ کیا یہ نہیں سوچتے کہ کاش وہ آج کے دور میں ہوتے جس میں سکواش کھلاڑی کو بہت زیادہ پیسے ملتے ہیں تو ہاشم خان نے صاف گوئی سے نفی میں جواب دیا تھا: ’اپنا وقت بھی اچھا تھا جو گزرگیا اور آج کا دور بھی اچھا ہے جس میں کھلاڑیوں کو اچھے پیسے مل رہے ہیں جس کی مجھے بہت خوشی ہے۔‘

سکواش کا عظیم ترین کھلاڑی کون؟
اس کا سیدھا سادہ جواب ہے جہانگیر خان۔ اس بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں، لیکن جس طرح کرکٹ میں سچن تندولکر کے ہونے کے باوجود معتبری کا پیمانہ سرڈان بریڈمین کی شخصیت سے مقرر ہو چکا ہے اسی طرح سکواش میں یہ مقام ہاشم خان سے کوئی بھی نہیں لے سکتا۔

Loading...
Categories
منظرنامہ

RELATED BY