آزادی، انقلاب مارچ اور متاثرین

ٹی وی کی سکرین پر سیاست دانوں کے قبضے کی وجہ سے شاید فوجی آپریشن اور متاثرین کے مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں لاہور سے اسلام آباد...
ٹی وی کی سکرین پر سیاست دانوں کے قبضے کی وجہ سے شاید فوجی آپریشن اور متاثرین کے مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں

لاہور سے اسلام آباد تک آزادی اور انقلاب مارچ اور دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے مسائل اب پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

54 ہزار خاندان کن حالات میں ہیں، اس بارے میں حکومت، حزب اختلاف میں شامل تمام جماعتوں کے رہنما اور ذرائع ابلاغ سب خاموش نظر آتے ہیں۔

آزادی اور انقلاب مارچ سے پہلے سیاست دان اور سیاسی جماعتوں کے رہنما شمالی وزیرستان کے سرحد کے قریب واقع شہر بنوں کے دورے کر رہے تھے جس وجہ سے متاثرین کے مطابق ان کے مسائل کسی حد تک حل ہو رہے تھے۔

بنوں کے ایک کرائے کے مکان میں مقیم متاثرہ شخص میر قلم خان نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کے حکام ویسے تو ان کے رابطے میں نہیں آتے لیکن جب اعلیٰ حکومتی ارکان یا بڑی جماعتوں کے رہنما علاقے کا دورہ کرتے تھے تو چھاؤنی کے علاقے میں ان کی ملاقات متاثرہ افراد سے کرائی جاتی تھی جس میں انھیں متاثرین اپنے مسائل سے آگاہ کرتے تھے۔

اس سے ان کے کچھ مسائل حل ہو جاتے تھے لیکن اب صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے عید متاثرہ افراد کے ساتھ بنوں میں منائی تو دوسرے ہی روز مسلم لیگ نواز کے رہنما وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بنوں پہنچ گئے تھے۔ اسی طرح وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی سطح پر وزیر اعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا بنوں کے متعدد دورے کر چکے ہیں۔

ان دوروں کے دوران متاثرین کی مدد کے علاوہ ان کے لیے بڑے منصوبوں کے اعلانات بھی کیے گئے۔

متاثرہ افراد کا کہنا تھا کہ راشن تقسیم کرنے کے مقام پر اب لوگوں کی قطاریں ہوتی ہیں لیکن کام انتہائی سست روی سے ہوتا ہے جس وجہ سے اکثر لوگ خالی ہاتھ واپس چلے جاتے ہیں اور انھیں پھر دوسرے روز قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
دس لاکھ افراد کن حالات میں ہیں، کسی کو کچھ پتہ نہیں
’اون گول‘ کے بعد واپسی کا راستہ کیا ہے
ہاشم خان: سکواش میں پاکستان کا پہلا تعارف

ایک متاثرہ شخص بیت اللہ خان نے کہا کہ ان سیاسی سرگرمیوں سے پہلے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بنوں میں ڈیرے ڈال رکھے تھے اور متاثرہ افراد کی خبریں سارا دن ذرائع ابلاغ کو جاری کی جاتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے مسائل حل ہو رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاست دان کیا غائب ہوئے، ملکی اور بین الاقوامی میڈیا بھی یہاں سے چلا گیا ہے اور میڈیا پر اب متاثرہ افراد کہیں نظر نہیں آ رہے۔

شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی سے ایک معذور شخص شیر داد نے بتایا کہ اس کے دس بچے ہیں۔ شیر داد میر علی میں ڈرائیور تھے لیکن ایک حادثے میں ان کی ایک ٹانگ کٹ گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ انھیں ایک ماہ سے کوئی امداد نہیں دی گئی اور انھیں بتایا گیا کہ ان کے شناختی کارڈ میں فرق ہے اس لیے اب انھیں کبھی کہیں اور کبھی کہیں بھیج دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا: ’کوئی نادرا کے دفتر تو کوئی ایف ڈی ایم اے کے پاس جانے کو کہتا ہے، کوئی مدد نہیں کی جا رہی۔‘ انھوں نے کہا کہ انھوں نے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے سبزی کی ریڑھی لگا رکھی ہے۔

سیاحوں کو لبھانے میں بھارت کو مشکلات کا سامنا

شیر داد کی طرح بڑی تعداد میں متاثرین کے مسائل ہیں جو حل نہیں ہو رہے۔

صرف سیاست دان اور ذرائع ابلاغ نہیں گذشتہ ایک ہفتے سے فوج کے تعلقاتِ عامہ کے ادارے کی جانب سے بھی آپریشن ضرب عضب کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ شمالی وزیرستان آپریشن کی بیشتر اطلاعات فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے کی جانب سے ہی جاری کی جاتی ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق انھیں بھی کوئی ایسی اطلاعات موصول نہیں ہو رہیں کہ علاقے میں کوئی بڑی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹی وی کی سکرین پر سیاست دانوں کے قبضے کی وجہ سے شاید فوجی آپریشن اور متاثرین کے مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

قالب وردپرس

Loading...
Categories
منظرنامہ

RELATED BY