جھوٹے کو گھر تک پہنچانے کے نہایت آسان طریقے

جھوٹ بولنا آج کل کے دور میں نہایت عام ہوگیا ہے اور بعض اوقات جھوٹے اور سچے افراد کے درمیان یقین کرنا نہایت مشکل ہوجاتا ہے کونکہ لوگ بہت...

جھوٹ بولنا آج کل کے دور میں نہایت عام ہوگیا ہے اور بعض اوقات جھوٹے اور سچے افراد کے درمیان یقین کرنا نہایت مشکل ہوجاتا ہے کونکہ لوگ بہت ڈھٹائی اور خود اعتمادی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں۔

لیکن ابھی بھی جھوٹے کو پہچاننے کے کچھ نہایت آسان اور مؤثر طریقے ہیں جن کے ذریعے آپ باآسانی سامنے والے شخص کے الفاظ کا جھوٹ یا سچ ہونے کا اندازہ کرسکتے ہیں۔

آج ہم وہی طریقے آپ کو بتانے جارہے ہیں۔


جھوٹے شخص سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جائے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ اپنا نام نہ لے، اس کی جگہ وہ چیزوں کو ایسے بیان کرتا ہے جیسے وہ اتفاقاً ہوگئیں یا کسی اور نے انہیں انجام دیا۔

مثال

کچن میں کوئی برتن ٹوٹ جائے اور جو شخص اس پر سب سے زیادہ شور شرابہ کرے، کہ ’یہ ٹوٹ گیا ہے، اسے کس نے توڑا‘، یا ’مجھے یہ برتن ٹوٹا ہوا ملا‘تو یقیناً برتن اسی کے ہاتھوں ٹوٹا ہے۔

سچ بولنے والا شخص معذرت خواہانہ انداز میں اعتراف کرلے گا کہ یہ برتن اس کے ہاتھ سے ٹوٹا۔


جھوٹا شخص کسی غلطی کے لیے جھوٹی اور تلخ تاویلیں دے گا۔

مزید پڑھیں:لاہور میں تین روزہ پی ایف ڈی سی فیشن ویک کا آغاز

مزید پڑھیں:جنیوا کی سڑکوں پر کہانیاں سناتی دیو ہیکل دادی اماں

مزیدپڑھیں: فطرت کے اتنے خوبصورت رنگ آپ نے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے

مثال

اگر کسی شخص کو کسی جگہ پر دیر سے پہنچنے کی وجہ سے فون کیا جائے اور وہ غصے میں کہے، ’میں یہاں کچھ بیوقوفوں کی وجہ سے واہیات ٹریفک جام میں پھنسا ہوا ہوں‘، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ صرف اس کا بہانہ ہے۔

سچ بولنے والا شخص دھیمے لہجے میں بتا دے گا کہ وہ ٹریفک جام میں پھنسا ہوا ہے اور ساتھ ہی دیر سے پہنچنے پر معذرت بھی کرلے گا۔


جھوٹا شخص دوسروں کو گمراہ کرنے کے لیے الجھانے والے لفظ ادا کرے گا اور بات کو بنا کر خود کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرے گا، لیکن سچا شخص باآسانی حقیقت کا اعتراف کرلے گا۔

مثال

کسی مجرم کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی شخص مجرم کو دیکھتے ہی غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہے، ’میں انہیں نہیں جانتا، کیا آپ کو لگتا ہے میں ان جیسے جرائم پیشہ افراد کو جانتا ہوں گا؟‘ تو قوی امکان ہے کہ وہ مجرموں کو پہچانتا ہو۔

اس کے برعکس سچا شخص معمول کے سے انداز میں کہہ دے گا کہ وہ ان مجرمان کو نہیں جانتا۔


جھوٹا شخص کسی آسان سے معاملے کے بارے میں ’میں نہیں جانتا‘ کہہ کر اپنی جان چھڑا لے گا۔ سچا شخص کھلے دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کرلے گا۔

مثال

ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام ہوجانے والے اکثر کھلاڑی ٹیسٹ کو غیر معیاری کہتے ہیں، یا ان کے مطابق ان کی لاعلمی میں انہیں طاقت ور ادویات کھلائی جاتی ہیں جس کی ذمہ داری قبول کرنے سے وہ انکار کردیتے ہیں۔

ان کی جگہ سچا انسان اپنی غلطی کا اعتراف کر کے معافی کا طلبگار ہوگا۔


سچ بولنے والے انسان کی آنکھیں اپنے معمول کے سائز پر رہیں گی، جبکہ جھوٹے انسان کی آنکھ کی پتلیاں اس وقت پھیل جائیں گی جب وہ جھوٹ بول رہا ہوگا۔

یہی نہیں بعض جھوٹے افراد جھوٹ بولتے ہوئے ہکلانے لگتے ہیں، ان کی سانس تیز ہوجاتی ہے یا انہیں پسینہ بھی آنے لگتا ہے۔

مضمون و تصاویر بشکریہ: برائٹ سائیڈ

Loading...
Categories
لائف-اسٹائل

RELATED BY