سبزیاں کھانے والوں کا عالمی دن

کیا آپ جانتے ہیں آج سبزیاں کھانے والوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کومنانے کا مقصد زراعت کو فروغ دے کر زمین کی زرخیزی میں اضافہ...

کیا آپ جانتے ہیں آج سبزیاں کھانے والوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کومنانے کا مقصد زراعت کو فروغ دے کر زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرنا اور گوشت کی وجہ سے زمین پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کی طرف آگاہی دلانا ہے۔

آپ نے اکثر افراد کے بارے میں سنا ہوگا کہ یہ ویجی ٹیرین ہیں یعنی صرف سبزیاں کھاتے ہیں، گوشت نہیں کھاتے۔ ایسے افراد عمر کے آخری حصے تک جوان اور فٹ نظر آتے ہیں جبکہ یہ گوشت کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔


ایک تحقیق کے مطابق ہفتے میں 3 یا 3 سے زائد بار گوشت کھانے والے افراد میں مختلف کینسر بشمول بریسٹ کینسر کا امکان دوگنا بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گوشت میں شامل ہارمونز ہمارے جسم میں موجود ان ہارمونز کی طاقت میں اضافہ کردیتے ہیں جو مختلف اقسام کے کینسر یا ٹیومرز کے خلیات کو نمو دینے میں مدد کرتے ہیں۔

اس کے برعکس سبزیاں ہمیں کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتیں۔

خوراک میں سبزیوں کا زیادہ استعمال نہ صرف آپ کو جسمانی طور پر صحت مند رکھتا ہے بلکہ بے شمار بیماریوں جیسے ذیابیطس، بلند فشار خون، کولیسٹرول، موٹاپے وغیرہ سے تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔

سبزیوں کا استعمال خون کی شریانوں کو بھی صاف رکھتا ہے جس سے خون کی روانی میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا ہوتی۔

آسٹریلیا کی کوئینز لینڈ یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق سبزیاں کھانا نفسیاتی طور پر بھی فائدہ مند ہے۔ یہ آپ کے دماغ کو پرسکون رکھتی ہیں جبکہ تحقیق کے مطابق 2 سال تک سبزیوں کا مستقل استعمال جذباتی اور نفسیاتی طور پر زیادہ مستحکم بنا سکتا ہے۔


کیا آپ جانتے ہیں گوشت کے حصول کا سبب بننے والے جانور زمین کے لیے کس قدر نقصان دہ ہیں؟

جنوبی امریکی ملک برازیل اس وقت دنیا کا گوشت برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اپنی اس تجارتی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے برازیل اب زیادہ سے زیادہ مویشی پال رہا ہے۔

یہ کاروبار پورے برازیل میں اس قدر وسیع ہوچکا ہے کہ ملک میں قابل رہائش زمینیں کم پڑچکی ہیں اور اب مویشیوں کو رکھنے کے ایمازون کے قیمتی جنگلات کو کاٹا جارہا ہے۔

گوشت کا سب سے بڑا خریدار امریکا ہے اور یہ برازیل اور دیگر جنوبی امریکی ممالک سے ہر سال 20 کروڑ پاؤنڈز کا گوشت درآمد کرتا ہے۔

یہاں یہ بات یاد رکھنی بھی ضروری ہے کہ مویشی میتھین گیس کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں جو فضا میں جا کر فضائی آلودگی اور موسم کو گرم کرنے کا سبب بنتی ہے۔

دنیا بھر کے درجہ حرارت میں شدید اضافے کا ذمہ دار یہ منافع بخش کاروبار صرف جنگلات کے خاتمے کا ہی سبب نہیں۔ روز افزوں اضافہ ہوتی مویشیوں کی اس آبادی کی دیگر ضروریات بھی ہیں۔

رہائش کے ساتھ ان مویشیوں کو پینے کے لیے پانی، گھاس اور دیگر اناج بھی درکار ہے۔ گوشت کی کسی دکان پر موجود ایک پاؤنڈ کا گوشت، 35 پاؤنڈ زمینی مٹی، ڈھائی ہزار گیلن پانی اور 12 پاؤنڈز اناج صرف کیے جانے کے بعد دستیاب ہوتا ہے۔

یعنی ایک برگر میں شامل گوشت کی پیداوار کے لیے جتنا پانی استعمال ہوا، وہ کسی انسان کے پورے سال کے غسل کے پانی کے برابر ہے۔

مویشیوں کی خوراک میں کئی قسم کے اناج شامل ہیں جنہیں اگانے کے لیے ہر سال 17 ارب پاؤنڈز کی مصنوعی کھاد اور کیڑے مار ادویات استعمال کی جاتی ہیں اور یہ دونوں ہی ماحول اور زراعت کو سخت نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔

دوسری جانب سبزیاں نہ صرف زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ سبزیوں کے پودے اور درخت ہماری فضا کو بھی آلودگی سے محفوظ رکھتے ہیں۔

صاف ستھری سبزیاں حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ کچن گارڈننگ ہے۔

اس میں آپ اپنے گھر کی کسی بھی خالی جگہ، یا کسی چھوٹے موٹے گملے میں مختلف اقسام کی سبزیاں اگا سکتے ہیں جو نہ صرف آپ کے گھر کی فضا کو صاف کرنے کا سبب بنیں گی بلکہ کھانے کی مد میں ہونے والے آپ کے اخراجات میں بھی کمی لائے گی۔

ماہرین کے مطابق اس عمل کو مزید بڑے پیمانے پر پھیلا کر شہری زراعت یعنی اربن فارمنگ شروع کی جائے جس میں شہروں کے بیچ میں زراعت کی جاسکتی ہے۔ یہ سڑکوں کے غیر مصروف حصوں، عمارتوں کی چھتوں، بالکونیوں اور خالی جگہوں پر کی جاسکتی ہے۔

اس زراعت کا مقصد دراصل دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنا ہے۔ دنیا میں موجود قابل زراعت زمینیں اس وقت دنیا کی تیزی سے اضافہ ہوتی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہیں۔

دوسری جانب جن زمینوں پر زراعت کی جارہی ہے ان کی تعداد میں تیزی سے کمی آرہی ہے اور ان کی جگہ بڑی بڑی عمارتیں، گھر اور اسکول وغیرہ بنائے جارہے ہیں۔

ماہرین کی تجویز ہے کہ شہری زراعت کے ذریعہ شہر کی زیادہ سے زیادہ عمارتوں کی چھتوں کو گارڈن کی شکل میں تبدیل کردیا جائے اور وہاں پھل اور سبزیاں اگائی جائیں۔

یہی نہیں یہ سر سبز چھتیں شہر سے آلودگی کو بھی کم کریں گی جبکہ شدید گرمیوں کے موسم میں یہ ٹھنڈک فراہم کریں گی اور وہی کام کریں گی جو درخت سر انجام دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق شہری زراعت کے طریقے کو اپنا کر اگر کوئی ایک شہر بھی اپنی غذائی ضروریات میں خود کفیل ہوجائے تو اس سے ملکی معیشت کو کافی سہارا ہوسکتا ہے اور کسی ملک کی مجموعی زراعت پر پڑنے والا دباؤ بھی کم ہوسکتا ہے۔

Loading...
Categories
ماحولیات

RELATED BY