بھارت: مسلمان سے شادی زبردستی نہیں ہوئی، ہندو لڑکی کا اعتراف

بھارت میں والد کی جانب سے ہندو لڑکی کی مسلمان لڑکے سے شادی ختم کرنے کی درخواست پر گواہی دینے سے انکار کرتے ہوئے لڑکی نے کہا ہے کہ...

بھارت میں والد کی جانب سے ہندو لڑکی کی مسلمان لڑکے سے شادی ختم کرنے کی درخواست پر گواہی دینے سے انکار کرتے ہوئے لڑکی نے کہا ہے کہ اس سے زبردستی اسلام قبول نہیں کرایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت 27 نومبر کو ہونی تھی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اس سے قبل بھارت کی مقامی عدالت کی جانب سے مئی میں اس شادی کو ختم کرتے ہوئے 25 سالہ عقیلہ اشوکن کو کہا تھا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ رہیں کیونکہ اس کے والدین کو عورتوں کے حقوق کی مہم چلانے والوں کی جانب سے غم و غصے کا سامنا ہے۔
مقامی عدالت کے اس فیصلے کو لڑکی کے سابق شوہر نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر عدالت نے لڑکی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر ثبوت فراہم کرنے کا کہا تھا۔
واضح رہے کہ لڑکی کے والد کی جانب سے جنوبی ریاست کیرلا کی ہائی کورٹ میں شادی کے ختم ہونے کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی بیٹی پر زبردستی کی گئی کہ وہ اسلام قبول کرے۔
بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی پورٹ کے مطابق عقیلہ اشوکن نے کہا کہ ’ میں مسلمان ہوں، مجھ پر زبردستی نہیں کی گئی اور میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں‘۔
حالیہ برسوں میں یہ مسئلہ قوم پرستوں کے لیے تشویشناک صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے جبکہ ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ’محبت جہاد‘ کے بڑھتے ہوئے خدشے کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نوجوان مسلم مرد ہندو خواتین کو تبدیل کرنے کے لیے اکساتے ہیں۔
یاد رہے کہ عقیلہ اشوکن نے اسلام قبول کرنے کے بعد گزشتہ برس دسمبر میں شادی کی تھی اور اپنا نام ہادیہ رکھا تھا تاہم مئی میں شادی ختم کیے جانے کے بعد سے انہیں اپنے والد کے گھر کو چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے کہا کہ وہ لڑکی کے شوہر شفعین جہاں کے مبینہ طور پر عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ تعلقات کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں تاہم اسے کسی جرم کی سزا نہیں دی گئی۔
اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ این آئی اے کی تحقیقات واضح کررہی ہیں کہ حکومت راشٹریا سوامسیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور دیگر گرپوں کو اس بات کی اجازت دے رہی ہے کہ وہ ریاست کے ساز و سامان استعمال کرکے بھارت میں ہندؤں کے غلبے کے ایجنڈے کو مستحکم کریں جبکہ ملک کی 13 فیصد آبادی مسلمان ہے۔

کیرلا میں حکومت کرنے والی بھارتی کمیونسٹ پارٹی مارکسی کے رکن اور وفاقی قانون ساز ایم بی راجیش نے کہا کہ این آئی اے اور آر ایس ایس یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان شادیاں زبردستی ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ این آئی ایس کی تحقیقات مذہبی منافرت کی لکیر پیدا کر رہی ہے جو کیرلا میں نریندر مودی کی جماعت کو ریاست کے انتخابات جیتنے میں مدد دے گی لیکن ہم انہیں شکست دیں گے۔
ریاست میں آر ایس ایس گروپ کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے رہنما جے ننداکمار نے کہا کہ این آئی اے کی تحقیقات نے مذہبی تبادلوں کے خلاف ہندؤوں کے حقوق کی مہم کی تصدیق کردی ہے۔
یاد رہے کہ آر ایس ایس کا قیام چھ دہائیوں قبل مودی کی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی کی جانب سے اس لیے لایا گیا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ بھارت بنیادی طور پر ہندو قوم کا ہے، اس کے علاوہ مئی 2014 میں نریندر مودی کے انتخابات میں کامیابی کے بعد آر ایس ایس نے بھارت بھر میں اپنی ممبرشپ اور اثر و رسوخ کو بڑھایا ہے۔

Loading...
Categories
انڈیا

RELATED BY