مجھے راستے میں موٹرسائیکل سے اتار کر 18 لڑکوں نے میرا یپ کیا اور پھر مجھے تالاب میں ڈبکی لگوائی گئی تاکہ میرے

بھارت میں خواتین کی عصمت دری کا جرم اس بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے کہ گویا اب کسی خاتون کی عصمت دری کوئی خبر ہی نہیں۔ اس کے...
India girl rape

بھارت میں خواتین کی عصمت دری کا جرم اس بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے کہ گویا اب کسی خاتون کی عصمت دری کوئی خبر ہی نہیں۔ اس کے باوجود وقتاً فوقتاً کوئی ایسا بھیانک واقع پیش آ جاتا ہے کہ دنیا دہل کر رہ جاتی ہے۔ ریاست جھاڑکھنڈ میں ایک ایسا ہی لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے،۔۔جاری ہے ۔

جہاں یونیورسٹی کی نوجوان طالبہ کو ڈیڑھ درجن سے زائد اوباشوں نے سڑک سے اٹھا لیا اور گھنٹوں اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ٹائمز آف انڈیا کی رپوٹ کے مطابق 20 سالہ لڑکی کو ریاست جھاڑ کھنڈ کے شہر ڈومکا کی ایک یونیورسٹی کے قریب ۔ اوباش نوجوانوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی ایک ساتھی طالب علم کے ساتھ گزشتہ روز موٹرسائیکل پر یونیورسٹی سے واپس آرہی تھی ۔۔جاری ہے ۔

کہ جب ایک سنسان سڑک پر چھ افراد نے انہیں روک لیا۔ انہوں نے لڑکی کے ساتھ موجود نوجوان پر تشدد کیا اور اس سے 5000 روپے طلب کئے یا دوسری صورت میں اسے اپنا موبائل فون دینے کو کہا۔ اسی دوران انہوں نے اپنے مزید ساتھیوں کو بھی بلالیا تھا۔ درجن بھر مزید لوگوں کے آنے پر ان غنڈوں نے لڑکی کو پکڑا اور قریب واقعی کھیت میں لے گئے۔انہوں نے پہلے لڑکی کے ساتھ موجود لڑکے کو مجبور کیا کہ وہ اسے زیادتی کا نشانہ بنائے اور سب نے باری باری لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایاجس کے بعد انہوں نے لڑکی کو زبردستی قریبی تالاب میں نہلایا تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔۔۔جاری ہے ۔

گھناﺅنے جرم کے بعد لڑکی کو نیم مردہ حالت میں چھوڑ کر ملزمان وہاں سے بآسانی فرار ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چھ ملزمان کو گرفتار کرلیاگیا ہے جبکہ باقی کی تلاش کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

Loading...
Categories
خواتین

RELATED BY