اُف میرا سسر نہیں ڈیڈی میں دروازہ نہیں کھولوں گی ایک بار میری بات سن لو مجھے پاس آنے دو

دروازہ کھول دو بیٹے میں تمہیں تمہارے مسائل کا حل بتانے آیا ہوں، تمہاری ساری پریشانیاں دور ہوجائیں گی‘۔’نہیں ڈیڈی نہیں میں دروازہ نہیں کھولوں گی‘۔’ایک بار میری بات...
Amazing Khabrain

دروازہ کھول دو بیٹے میں تمہیں تمہارے مسائل کا حل بتانے آیا ہوں، تمہاری ساری پریشانیاں دور ہوجائیں گی‘۔’نہیں ڈیڈی نہیں میں دروازہ نہیں کھولوں گی‘۔’ایک بار میری بات سن لو۔ مجھے اپنے پاس آنے دو۔ اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ کسی کو معلوم بھی نہیں ہوگا‘۔’نہیں نہیں عمران آجائیں پھر آپ کو جو کہنا ہے ان کے سامنے ہی کہیے گا‘۔یہ تھی خوف سے لرزتی کانپتی عینی جو اُس گھر کے کمرے میں اپنے ننھے بچوں کے ساتھ بند تھی جہاں وہ بڑے چاؤ سے شادی کرکے لائی گئی تھی۔۔۔جاری ہے۔

لیکن شادی کے چند برس بعد ہی اسے اپنے سسر سے خوف آنے لگا۔اس کے سسر نے کئی بار عینی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ بدنامی کا خوف عینی کی رگ رگ میں سما چکا ہے جس کی وجہ سے وہ اس موضوع پر زبان کھولتے ہوئے گھبراتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ الٹا اسی پر الزام لگا دیا جائے۔ دوسری طرف اس کے سسر کو گھر میں ایک بہت ہی مہذب اور اچھا انسان سمجھا جاتا ہے اور کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ اتنا گھناؤنا فعل کرسکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عینی اپنے سسر کے قبیح ارادوں کے متعلق کچھ بھی کہتے ہوئے ڈرتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ زبان کھولے اور مصیبتوں کا ایک اور پہاڑ اس پر ٹوٹ پڑے۔۔۔جاری ہے۔

شادی کے بعد اس کے ساتھ جو حالات و واقعات پیش آئے انہوں نے اسے ایک پر اعتماد اور ذہین لڑکی سے ایک خوفزدہ اور اعتماد کی کمی کا شکار لڑکی بنادیا۔اپنے شوہر کے والد بزرگوار کی گندی نظریں تو وہ بہت پہلے ہی پہچان گئی تھی لیکن اسے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ شخص اپنی جنسی تسکین کے لئے کس حد تک جاسکتا ہے۔ اعلٰی تعلیم، خاندانی پس منظر، دینی خیالات، معاشرتی حدود، اخلاقی اقدار کچھ بھی نظروں کے اس بھوکے شخص کا راستہ نہ روک سکا۔کئی دفعہ تنہائی میں پاکر اس نے عینی سے جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی۔ کئی بار اس کا ہاتھ پکڑنے، اپنے قریب کرنے، اس کے کمرے میں گھسنے کی حرکت پر وہ بری طرح دھتکارے گئے مگر نظروں کی گندگی میں کمی نہ آئی۔یہ واقعہ اندرون سندھ یا پنجاب یا کسی اور پسماندہ علاقے کا نہیں ہے جہاں ایسے واقعات کا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ یہ پاکستان کے ایک بڑے شہر میں پڑھے لکھے، کھاتے پیتے گھرانے کی داستان ہے۔۔۔جاری ہے۔



لیکن اسے لکھتے ہوئے ہوئے مجھے ٹھٹھہ کا وہ واقعہ یاد آتا ہے جس میں گلشن کھٹی نامی عورت کا سسر اس سے ناجائز تعلقات قائم کرنا چاہتا تھا- انکار کرنے پر اسے بری طرح سے مارا پیٹا جاتا، دباؤ ڈالا جاتا کہ وہ سسر کی ہوس کو پورا کرے- جب اس نے صورتحال سے اپنے شوہر کو آگاہ کیا تو اس نے ہدایت کی کہ والد کا کہنا نہ ٹالے-عینی کا مسئلہ بھی شاید اتنی گھمبیر شکل اختیار نہ کرتا اگر اس کا شوہر اس کا ساتھ دیتا۔عینی اور عمران کی شادی تقریباً چھ برس قبل ہوئی تھی اور شادی بھی کوئی ایسی ویسی نہیں، لڑکا اور لڑکی دونوں ہی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ پھر دونوں خاندان بھی راضی تھے۔ مگر شادی کے چند ہی روز بعد لڑکے کی ’مردانگی‘ اور ’غیرت‘ اس کے سارے جذبات پر حاوی آتی گئی۔ اپنی پسند کی بیوی ہی کے بارے میں اس کے خیالات بدلنے لگے۔وہ لڑکی جو اپنی پسند کے شخص سے شادی کرسکتی ہے اس کی نظروں میں نہایت نیچ تھی، نجانے کس گھٹیا خاندان کی۔ لیکن لڑکوں مردوں کے بارے میں اس کے معیار کا پیمانہ مختلف تھا۔کہا جاتا ہے کہ اولاد نرینہ عورت کا بڑا سہارا ہے لیکن ایسا بھی نہ ہوا۔ دو بیٹوں کی ماں ہونے کے باوجود وہ غیر محفوظ تھی۔ نہ تو شوہر کا پیار اور نہ گھر کا تحفظ، عینی کے حصے میں کچھ بھی نہ آسکا۔۔۔جاری ہے۔

سسر کے بارے میں زبان کھولتی تو خود ہی بدنام ہوتی۔ اس کے سسر اپنے گھر میں ایک نیک عظیم دیوتا کا درجہ رکھتے تھے جن کے بارے میں ’ایسی ویسی‘ بات کرنا بھی گناہ عظیم تھا، تو پھر وہ نیچ خاندان کی لڑکی کیسے یہ جرات کرسکتی تھی؟ دوسری طرف شوہر کی بدسلوکی ذہنی و جسمانی تشدد کی شکل اختیار کرتی جارہی تھی۔ علٰحیدگی کا سوچتی تو بچے چھن جانے کا ڈر تھا۔ سسر کا رویہ برقرار رہا۔لیکن عورت کے عدم تحفظ کی کہانی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ہماری سوچ سے بھی زیادہ۔ ایک دو واقعات منظر عام پر آجاتے ہیں لیکن یہ کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ بچپن میں ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی گندی نظروں کا جو تعاقب شروع ہوتا ہے وہ مرنے پر ہی ختم ہوتا ہے۔اسکول ہوں یا دفاتر یا پھر اپنے خاندان والے، عورت کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔ اور نظروں کے یہ حریص ہر شہر، گاؤں اور قصبے میں پائے جاتے ہیں۔ نیت میں فتور کو عموماً پسماندگی یا غربت یا تعلیم کی کمی سے منسوب کردیا جاتا ہے لیکن یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ایک دفعہ اسلام آباد کے ایک بازار میں میں ایک رپورٹ کے لئے لوگوں کی آراء لینے گئی تو میں نے دیکھا کہ ایک سات آٹھ سال کی پیاری سی بچی کچھ خریدنے آئی تھی۔ وہ اکیلی تھی۔۔جاری ہے۔

اور حریص نظروں والے دکاندار بے شمار۔ کتنے ہی دکانداروں نے اسے اپنے پاس بلا کر بہانے بہانے سے اس کی کمر تھپتھپائی، ٹافیاں دیں اور ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگے۔اسی طرح اسلام آباد ہی میں ایک فضائی کمپنی کے دفتر میں میری ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی جو کسی افسر کی سیکرٹری کی حیثیت سے وہاں ملازم تھی۔ بہت پریشان دکھائی دیتی تھی۔ مجھ سے کہنے لگی اگر آپ کے پاس چند لمحے ہیں تو میری بات سن لیں۔ اس نے بتایا کہ اس کے نگراں افسر کا رویہ اس کے ساتھ بہت ہتک آمیز ہے اور وہ جنسی طور پر ہراساں بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور ملازمت چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔جاری ہے۔



یہ تو وہ واقعات ہیں جو روز مرہ زندگی میں سامنے آتے ہیں۔ بہت سی لڑکیاں ان معاملات پر زبان کھولنے کا تصور بھی نہیں کرسکتیں۔ وہ نہیں چاہتیں کہ جنسی زیادتی کا شکار بھی بنیں اور بدنام بھی ہوں۔ یہ تو گھاٹے کا سودا ہوا۔یونیورسٹی، بازار، دفاتر، غرضیکہ شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں سے منسوب اس طرح کے واقعات میرے مشاہدے میں نہ آئے ہوں۔اور یہ بات ہے پاکستان کے دارالحکومت کی جسے پاکستان کا ماڈرن شہر کہا جاتا ہے۔ جو کچھ پسماندہ علاقوں، شہروں اور گاؤوں میں ہوتا ہے اس کا تو تصور بھی محال ہے۔

Loading...
Categories
دلچسپ و عجیب

RELATED BY