محبت‘ توجہ اور وقت

کرسٹینا سٹڈ سویڈن کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے‘ یہ قصبہ کوپن ہیگن سے ایک سو دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے لہٰذا لوگ یہاں پہنچنے کیلئے سٹاک...
mashoor column

کرسٹینا سٹڈ سویڈن کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے‘ یہ قصبہ کوپن ہیگن سے ایک سو دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے لہٰذا لوگ یہاں پہنچنے کیلئے سٹاک ہوم کے بجائے کوپن ہیگن کا ائیرپورٹ استعمال کرتے ہیں‘ میرے دوست مخدوم عباس نے تین سال پہلے چودھری جہانزیب کے ساتھ مل کر یہاں چاولوں کی صفائی اور پیکنگ کی فیکٹری لگائی‘ یہ تجربہ کامیاب ہوگیا چنانچہ میرے دوست پورے یورپ کو باسمتی چاول سپلائی کرنے لگے‘ یہ لوگ اب پولینڈ میں کئی گنا بڑا کارخانہ لگا رہے ہیں‘ میں شیخ مبشر کے ساتھ 12 مارچ کو وہاں پہنچا‘ کرسٹیا سٹڈ میں ابھی تک سردی کے آثار باقی تھے‘ سڑکوں کے کناروں پر برف کی اکا دکا ڈھیریاں بھی مل جاتی تھیں‘ قصبے کی گلیاں‘ بازار اور کافی شاپس سرشام بند ہوجاتی تھیں اور لوگ اندھیرا پھیلنے سے پہلے گھروں

پہلے گھروں میں محبوس ہوجاتے تھے‘ ہم لوگ ایک ویلا موٹل میں ٹھہرے تھے‘ موٹل میں بھی ہمارے سوا کوئی گاہک نہیں تھا جبکہ کرسٹینا سٹڈ اور آحس کا ساحل بھی ویران اور سنسان تھا‘
ہم لوگ لندن اور پیرس کی رونقوں سے وہاں پہنچے تھے لہٰذا ہمیں کرسٹینا سٹڈ کے ٹھہراؤ اور سستی نے پریشان کردیا لیکن دوسرا دن نسبتاً بہتر تھا اور ہمیں محسوس ہوا کرسٹینا سٹڈ کا ٹھہراؤ اور سستی بنیادی طور پر اس کا سکون تھا‘ یہ ایک دھیما اور پرسکون قصبہ ہے‘ یہاں کے لوگ ہلے گلے اور شور شرابے کی بجائے پرسکون فیملی لائف گزارتے ہیں‘ میرا دوست مخدوم عباس قدرتی اور فطرتاً بزنس مین ہے‘ اسے اللہ تعالیٰ نے بے تہاشہ ’’بزنس سینس‘‘ دے رکھی ہے‘ وہ مجھ سے دو برس چھوٹا ہے لیکن اس نے چند برس میں ملٹی ملین ڈالرز کی بزنس ایمپائر کھڑی کردی‘ لوگ اس کی ترقی پر حیران ہیں‘ مجھے اس کی گروتھ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے وہ چند برس بعد بیسٹ وے کے انور پرویز ‘ وائز کام کے طارق بھٹی اور برطانوی رکن اسمبلی چودھری سرور کے لیول تک پہنچ جائے گا۔

مخدوم عباس‘ مبشر شیخ اور میں 13 مارچ کی شام کرسٹینا سٹڈ کے ایک ریستوران میں کافی پینے کیلئے گئے‘ مخدوم نے ایک برطانوی جوڑے کو بھی بلوا لیا‘ فرینک اور اس کی پولش بیوی مارکیٹنگ کنسلٹنٹ تھے‘ دونوں کی عمریں ساٹھ برس سے زائد تھیں‘ ہم لوگ گھنٹہ بھر گپ شپ کرتے رہے‘ شام کے چھ بج گئے تو فرینک کی بیوی نے گھڑی دیکھی اور اپنے شوہر کو اٹھنے کا اشارہ کردیا‘ فرینک نے معذرت خواہانہ انداز سے ہماری طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا ’’ہم دونوں نے چیرٹی کیلئے جانا ہے ‘ آپ لوگ مہربانی فرما کر ہمیں اجازت دے دیں‘‘ میں نے مسکرا کر پوچھا ’’آپ لوگ کیا چیرٹی کرتے ہیں‘‘ فرینک کی بیوی بولی ’’ہم ہفتے میں دو دن چرچ کے اولڈ پیپل ہوم جاتے ہیں‘ اس ہوم میں لاوارث اور لاچار بوڑھے رہتے ہیں‘ ہم دونوں ان کے ساتھ بیٹھ کر دو گھنٹے گپ لگاتے ہیں‘‘ لیڈی فرینک نے یہ بتایا اور اٹھ کر کھڑی ہوگئی‘ فرینک نے اسے کوٹ پہنایا اور دونوں ہمارے ساتھ ہاتھ ملا کر رخصت ہوگئے‘ ان کے جانے کے بعد مخدوم نے مجھ سے پوچھا

’’کیا یہ لوگ دوزخ میں جاسکتے ہیں‘‘ میں مخدوم کے سوال پر خاموش رہا‘ مخدوم کے سوال کا جواب کوئی عالم دین ہی دے سکتا تھا لیکن جہاں تک چیرٹی کا تعلق ہے میں ان دونوں میاں بیوی کی اپروچ پر حیران رہ گیا‘ دنیا کا ہر شخص پیسے کی خیرات کرتا ہے‘ ہم سب لوگ کسی نہ کسی شکل میں محروموں ‘ محتاجوں اور ضرورت مندوں کی مالی مدد کرتے رہتے ہیں لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ کسی کو وقت دیتے ہوں گے‘ ہم کسی کے پاس بیٹھتے ہوں گے‘ہم کسی کی بات غور سے سنتے ہوں گے اورہم کسی کو بڑی محبت سے تازہ ترین حالات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوں گے‘ مجھے لیڈی فرینک کی بات سن کر اندازہ ہوا دنیا کی سب سے بڑی خیرات ‘ صدقہ اور چیرٹی کسی کا ساتھ ‘کمپنی یاکسی کو اپنے قیمتی وقت میں شامل کرنا ہوتا ہے اور انسان کو بڑھاپے‘ بیماری اور بے چارگی میں روٹی اور کپڑے سے زیادہ کمپنی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم لوگوں نے چیرٹی یا خیرات کو صرف روپے پیسے تک محدود کردیا ہے‘ مجھے محسوس ہوا چیرٹی کے معاملے میں بھی ہماری اپروچ غلط ہے‘ ہم پوری دنیا کو وقت دیتے ہیں‘ ہم صدر بش کی تقریر تک کو بے تہاشہ وقت دیتے ہیں لیکن اگر ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا تو اپنے بوڑھے ماں باپ‘ چاچی چاچے‘ خالہ خالو‘ پھوپھی پھوپھا اور تائی تائے کیلئے نہیں ہوتا‘ ان لوگوں کے ساتھ ہماری محبت صرف روٹی ‘پانی ‘ کپڑے اور دوا دارو تک محدود رہتی ہے‘ ہم انہیں اپنے وقت‘ اپنی توجہ اور اپنی محبت میں شریک نہیں کرتے جبکہ فرینک اور اس کی بیوی ہفتے میں دو دن کرسٹینا سٹڈ کے بوڑھوں کے ساتھ اپنی محبت‘ توجہ اور وقت شیئر کرتے ہیں چنانچہ میں مخدوم کے سوال پر تو خاموش رہا لیکن میں نے دل میں سوچا ’’ کیا یہ لوگ ہم سے زیادہ مسلمان نہیں ہیں ؟

یورپ کی چیرٹی کا ایک منظر میں نے پیرس میں بھی دیکھا‘ مبشر شیخ مجھے دریائے سین کے کنارے لے گیا‘ دریا کے کنارے دور دور تک خوبصورت خیمے لگے تھے اور مختلف عمروں کے سینکڑوں لوگ ان خیموں کے باہر بیٹھ کر دھوپ سینک رہے تھے‘ مبشر نے بتایا ‘ یہ تمام لوگ شرابی اور نشئی ہیں‘ یہ دن رات نشے میں دھت رہتے ہیں‘ ان لوگوں کی شراب ختم ہو جائے تو یہ لوگ بوتل لے کر شہر میں نکل آتے ہیں‘ یہ لوگ ریستورانوں ‘ باروں اور دوکانوں میں چلے جاتے ہیں‘ پیرس کے زیادہ تر دوکاندار انہیں مفت شراب دے دیتے ہیں‘ یہ لوگ بوتل لے کر واپس آتے ہیں اور آپس میں ایک ایک گھونٹ شراب تقسیم کرلیتے ہیں‘ فرنچ حکومت کے مطابق اس وقت فرانس میں ان لوگوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے‘ یہ لوگ کھلی جگہوں پر رہتے ہیں اور بے کار ہوتے ہیں اور ان کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے شراب اور صرف شراب‘ یہ لوگ گرمیاں فٹ پاتھوں‘ میٹرو سٹیشنوں اور پارکوں میں گزار دیتے ہیں لیکن ان کیلئے سردیاں بڑی کٹھن اور مشکل ہوتی ہیں‘ حکومت نے ا س سال ان لوگوں کیلئے دریائے سین کے کنارے خیمے لگا دیئے ہیں‘ ان خیموں میں بڑے شاندار گدے اور کمبل ہیں‘ یہ لوگ سارا دن سڑکوں پر پھرتے ہیں لیکن رات کو ان خیموں میں آجاتے ہیں‘ حکومت نے ہر دس پندرہ خیموں کے بعد ایک ’’ڈائننگ ٹینٹ‘‘ لگا دیا ہے‘

اس ٹینٹ میں کھانے پینے کا سامان پڑا رہتا ہے‘ ان لوگوں کو جب بھوک لگتی ہے تو یہ لوگ ڈائننگ ٹینٹ سے اپنی مرضی کی چیزیں اٹھا کر کھا لیتے ہیں‘ پیرس میں اس وقت 13 این جی اوز ان لوگوں کیلئے کام کر رہی ہیں‘ یہ این جی اوز انہیں کمبل‘ گدے اور سلیپنگ بیگز فراہم کرتی ہیں اور ان کے کھانے پینے اور کپڑوں کا بھی خیال بھی رکھتی ہیں‘ میونسپل کارپوریشن کی گاڑیاں دن میں چار بار ان خیموں کا چکر لگا تی ہیں اور ان کے لئے کھانے پینے کا سامان چھوڑ جاتی ہیں‘ سردیوں کی راتوں میں کارپوریشن اور پولیس کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی یہاں آتے جاتے رہتے ہیں اور ان لوگوں کی ضروریات کا بندوبست کرتے رہتے ہیں‘ میں نے مبشر سے پوچھا ’’ یہ لوگ معاشرے کیلئے بیکار ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت اور عوام ان کا کیوں خیال رکھتے ہیں‘‘ مبشر کا کہنا تھا ’’فرانس کے لوگ سمجھتے ہیں ‘نشہ کرنے کے باوجود انسان انسان رہتا ہے اور شراب نوشی کسی انسان سے اس کے انسان ہونے کا حق نہیں چھینتی‘ یہ لوگ نشے کو گناہ یا جرم کی بجائے بیماری سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے بیمار کو نگہداشت ‘ حفاظت اور نرسنگ کی ضرورت ہوتی ہے چنانچہ حکومت سے لے کر عام شخص تک فرانس کا ہر شہری ان لوگوں کی نرسنگ کرتا ہے

مجھے مبشر کی بات پر بھی حیرت ہوئی کیونکہ میں کروڑوں پاکستانیوں کی طرح نشیؤں سے نفرت کرتا تھا اور میں نے آج تک کسی نشئی کی طرف ہمدردی سے نہیں دیکھا تھا‘ میں ان لوگوں کو گناہ گار‘ مجرم اور حیوان سمجھتا تھا لیکن دریائے سین کے کنارے نصب یہ خیمے دیکھ کر مجھے پہلی بار شرمندگی کا احساس ہوا اور میں نے سوچا پاکستان کے ہر شہر‘ ہر قصبے اور ہر گاؤں میں ایسے بے شمار لوگ بکھرے پڑے ہیں ‘ یہ لوگ گرمیوں‘ سردیوں اور بارشوں میں کھلے آسمان تلے پڑے رہتے ہیں‘ ان کے جسم سے بدبو کے بھبھکے اٹھتے ہیں اور انہیں دس دس دن تک روٹی نصیب نہیں ہوتی لیکن ہم میں سے کسی شخص نے آج تک ان لوگوں کے بارے میں نہیں سوچا‘ ہم نے آج تک انہیں روٹی کے دو نوالے اور پانی کے دوگھونٹ نہیں دیئے‘

ہم نے آج تک ان کے سر پرشفقت سے ہاتھ نہیں رکھا اور ہم نے انہیں اپنی دعا تک کے قابل نہیں سمجھا‘ مجھے اس وقت یورپ کے لوگوں پر خدا کے کرم اور پاکستان کی محرومی کی اصل وجہ سمجھ آئی اور مجھے محسوس ہوا اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں پر کرم کرتا ہے جو اس کے بندوں پر مہربانی کرتے ہیں‘ جوبوڑھے اور نشئی کو بھی انسان سمجھتے ہیں‘ جو انسانوں سے نفرت نہیں کرتے اور جو لوگوں کو محبت‘ توجہ اور وقت دیتے ہیں‘میں نے سوچا‘ کیا ہم 16 کروڑ مسلمانوں کے ملک میں ایک بھی ایسا شخص پیدا نہیں کرسکتے جو فرینک اور اس کی بیوی کی طرح بوڑھوں کو وقت دے اور جو پاکستان کے کسی ایک شہر میں نشئیوں کیلئے کھانے کا بندوبست کرسکے‘ آپ افسوس کا مقام دیکھئے ‘ ہم اس بے حسی کے باوجود خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور خود کو اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم بھی سمجھتے ہیں۔

Loading...
Categories
کالم

RELATED BY