بولی وڈ میں کوئی مذہبی تفریق نہیں، سلمان خان

بولی وڈ میں مرد و خواتین کے درمیان معاوضوں کے فرق کا بحث تو کافی پرانا ہے، بلکہ ترقی کے باوجود یہ اس فرق میں اضافہ ہوتا جا رہا...

بولی وڈ میں مرد و خواتین کے درمیان معاوضوں کے فرق کا بحث تو کافی پرانا ہے، بلکہ ترقی کے باوجود یہ اس فرق میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
فلم انڈسٹری میں ہیرو کے مقابلے ہیروئننز کو ملنے والے کم معاوضے سے لے کرخواتین کی اہمیت میں اضافہ کرنے والے کرداروں کو تخلیق نہ کرنے جیسے موضوعات پربولی وڈ میں بحث ہوتی رہی ہے۔ مگر ان بحث و مباحثوں سے ہٹ کربولی وڈ میں تقریبا تمام مذاہب کے لوگ ایک ساتھ کام کرتے ہیں، کبھی کوئی مسلم ہیروئن کسی ہندو ہیرو سے رومانس کرتی نظر آتی ہیں، تو کبھی کوئی مسلم ہیرو عیسائی ہیروئن سے عشق کرتا نظر آتا ہے۔ بولی وڈ میں مذہبی تفریق کے حوالے سے اگرچہ کوئی بحث نہیں کی جاتی اور نہ ہی کبھی اس حوالے سے کوئی ناخوشگوار خبر سامنے آئی ہے، تاہم لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال موجود ہے کہ بولی وڈ میں مذہبی تفریق ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بولی وڈ سلطان سلمان خان کا کہنا ہے کہ بولی وڈ میں کوئی بھی مذہبی تفریق نہیں، یہاں ہندو، مسلم، عیسائی و سکھ ایک ساتھ کام کرتے ہیں، اور ہر کوئی ایک دوسرے کی عزت کرتا ہے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی ’لیڈرز کانفرنس 2017‘ کے ایک سیشن میں بات کرتے ہوئے سلمان خان نے کہا کہ بولی وڈ میں جہاں ہیرو مسلمان ہوتا ہے تو وہیں ڈرائیور ہندو اور اسپاٹ بوائے عیسائی ہوتا ہے، اور سب مل کر کام کرتے ہیں، کسی میں کوئی مذہبی تفریق نہیں ہوتی۔
سلمان خان نے بتایا کہ اگر اسپاٹ بوائے ہندو ہوگا تو بھی اسے ’دادا‘ کہ کر بلایا جاتا ہے، جب کہ اگر کوئی میک اپ آرٹسٹ مسلمان ہوگا تو بھی اسے ’دادا‘ کہ کر بلایا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کی والدہ ہندو، والد مسلمان ہیں اور وہ ایک انسان ہیں‘۔
اسی سیشن میں سلمان خان نے اپنی فلموں کے ڈائلاگز مشہور ہونے کے حوالے سے کہا کہ کئی بار ان کے ڈائلاگ اتنے مشہور ہوجاتے ہیں کہ ان کی وجہ سے انہیں وہ کام بھی کرنے پڑتے ہیں جو اس وقت ممکن نہیں ہوتے۔

Loading...
Categories
شوبز

RELATED BY