میرے کپڑے پھاڑ کر مجھےگلی میں برہنہ کر ڈالا اورپھر

ڈیرہ غازی خان میں ایک معصوم لڑکی کی عزت کے ساتھ کھیلے جانے والی انسانیت سوز واردات نے ہر ذی ہوش انسان کا شرم سر سے جھکا دیا ہے...
amazing khabrain

ڈیرہ غازی خان میں ایک معصوم لڑکی کی عزت کے ساتھ کھیلے جانے والی انسانیت سوز واردات نے ہر ذی ہوش انسان کا شرم سر سے جھکا دیا ہے ۔ ہر قسم کی سیاسی اثر وسوخ سے بالاتر ہو کر ہر انسان اس بات کا مطالبہ کر رہا ہے کہ اس واقعے کے ذمے داروں کو سخت سے سخت ترین سزا دی جاۓ ۔۔۔جاری ہے۔

اس لڑکی کے مطابق وہ اپنی سہیلیوں اور رشتے داروں کے ساتھ تالاب سے پانی بھر کر اپنے گھر واپس آرہی تھی۔ جب وہ ثنااللہ کے گھر کے سامنے سے گزری تو اس گھر سے ثنا اللہ کے ہمراہ دس افراد اور نکلے اور انہوں نے اس کو دھکا دے کر گرا دیا اور قینچی سے اس کے کپڑے پھاڑ دیۓ اس دوران اس کے بازو اور گھٹنے پر شدید چوٹیں آئیں اور ان سے خون جاری ہو گیا۔ انہوں نے اسی پر اکتفانہیں کیا۔۔۔جاری ہے۔

بلکہ اس کو گھسیٹتے ہوۓ گلی میں لے کر آۓ۔ اس لڑکی کے مطابق اس نے پناہ حاصل کرنے کی کوشش میں ایک گھر میں داخل ہو کر اس کی چارپائی کے پیچھے اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔ مگر ان حیوانوں نے اس کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوۓ باہر لے آۓ۔اس لڑکی کی پھوپھی نے جب اپنے دوپٹے سے اس لڑکی کی برہنگی کو چھپانے کی کوشش کی تو ان جانوروں نے اس لڑکی کے جسم پر سے وہ دوپٹہ بھی لے کر تار تار کر دیا۔ اس کے بعد اس کو گاڑی میں بٹھا کر پورے شہر میں گھمایا۔ اور بری حالت میں شہر سے باہر جنگل میں چھوڑ کر فرار ہو گۓ ۔۔۔جاری ہے.
ذرائع کے مطابق اس لڑکی کے بھائی کے مخالف قبیلے کی کسی لڑکی سے تعلقات تھے جس کا بدلہ لینے کے لۓ یہ سارا عمل کیا گیا۔ واقعات کا سلسلہ اگر صرف یہیں تک رہتا تو شائد بات اتنی نہ بڑھتی۔ اس کے بعد بااثر افراد کے ذریعے اس سارے واقعے کے حقائق نہ صرف مسنح کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ اس واقعے کو دبانے کے لۓ سیاسی اثر وسوخ کا استعمال بھی کیا گیا۔اس لڑکی کے مطابق صوبائی وزیر صحت علی امین گنڈاپور ان ملزمان کی نہ صرف پشت پناہی کر رہے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس لڑکی پر یہ دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بیان میں مرکزی ملزم سجاول کا نام شامل نہ کرے۔۔۔جاری ہے۔

ڈیرہ غازی خان میں ہونے والا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی لڑکیاں اپنے بھائیوں کے قصور کی سزا بھگتتی رہی ہیں۔ اس کے بعد ملزمان کی پشت پناہی کے لۓ سیاسی اثر وسوخ کا استعمال کر کے ان واقعات کے ذمہ داروں کو بچا لیا جاتا ہے ۔سرحد پولیس کے مطابق اس واقعے کے تمام ذمہ داران گرفتار کۓ جا چکے ہیں۔۔جاری ہے۔

البتہ مرکزی ملزم سجاول تاہم ابھی مفرور ہے اس کی تلاش جاری ہے ۔ تحریک انصاف کے علی امین گنڈاپور کے حوالے سے ابھی تک تحقیقات جاری ہیں۔

Loading...
Categories
دلچسپ و عجیب

RELATED BY