انسانوں کی وجہ سے بھورے بھالوؤں کی جبلت تبدیل

0

قدرت نے ہر جاندار کے اندر ایک نظام مرتب کر رکھا ہے اور اسی نظام کے تحت جاندار وہ غذا کھاتا ہے جو اس کی بقا کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ تاہم اب قدرت کا یہ نظام انسانوں کی وجہ سے بگڑ رہا ہے۔

چند ایشیائی، یورپی اور شمالی امریکی برفانی علاقوں میں پائے جانے والے بھورے بھالو یا بھورے برفانی ریچھ کی غذا یوں تو سالمن مچھلی ہے تاہم انسانوں کے پیدا کردہ موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج کے باعث اب یہ بھالو پھل کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
دنیا بھر میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت یعنی گلوبل وارمنگ کی وجہ سے موسم گرما کا دورانیہ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے درختوں پر لگے پھل جلدی پک جاتے ہیں۔

دوسری جانب سمندروں کی بڑھتی آلودگی کی وجہ سے مچھلیوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہورہی ہے جو آلودہ پانی میں زندہ نہیں رہ پاتیں۔

امریکا کی مونٹانا یونیورسٹی اور امریکی جنگلی و آبی حیات سروس کی جانب سے مشترکہ طور پر کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق بھورے بھالوؤں میں رجحان دیکھا جارہا ہے کہ وہ ندیوں میں مچھلی کی تلاش چھوڑ کر درختوں کی طرف چلے جاتے ہیں جہاں سے وہ بیریز توڑ کر کھاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کا پیدا کردہ کلائمٹ چینج اب قدرت کے حیاتیاتی نظام میں بھی مداخلت کر رہا ہے جس کا حالیہ ثبوت یہ تحقیق ہے۔


ان کے مطابق بھالوؤں کی غذا تبدیل ہونے سے ان کے مزاج و عادات اور رویوں میں بھی تبدیلی آئے گی جن پر تحقیق کی جانی ضروری ہے۔