برہموس: ایشیا کی میزائل دوڑ میں انڈیا آگے؟

0

انڈیا کا سوپر سونک میزائل برہموس۔
انڈیا نے بدھ کو سُوپر سانک میزائل برہموس کا سُکھوئی جنگی جہاز سے کامیاب تجربہ کیا۔

انڈیا اور روس کے اشتراک سے تیار ہونے والے اس میزائل کے زمین اور سمندر سے پہلے ہی کامیاب تجربے کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اب ایک ایسا میزائل بن گیا ہے جسے زمین، سمندر اور فضا سے داغا جا سکتا ہے۔ اس صلاحیت کو ‘ٹرائی آڈ’ کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے اس طرح کے میزائل صرف روس، امریکہ اور کسی حد تک فرانس کے پاس تھے۔

برہموس کو دنیا کا سب سے تیز سُوپر سانک میزائل تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کی رفتار 2.8 میک (1 میک کا مطلب ہوتا ہے آواز کی رفتار کے برابر) ہے۔ اس میزائل کی رینج 290 کلومیٹر ہے اور یہ 300 کلوگرام بھاری جنگی مواد فائر کر سکتا ہے۔

تو کیا انڈیا کے ہمسایہ ممالک پاکستان اور چین کے پاس ایسی صلاحیت ہے؟

پاکستان کا بابر

پاکستان نے جنوری 2017 میں بابر – 3 میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ کروز میزائل آبدوز سے داغا جا سکتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی سے لیس کروز میزائل بابر تھری 450 کلو میٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم آبدوز سے داغے جانے والے میزائل کافی خطرناک تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کے بارے میں جب تک پتہ چلتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔

چین کا ڈانگ فینگ میزائل

ڈانگ فنگ 1

ڈانگ فینگ (DF) AG31 بین البراعظمی بیلِسٹک میزائل ہے جو دس ہزار کلومیٹر دور تک مار کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چین کے پاس درمیانی فاصلے تک وار کرنے والا بیلسٹک میزائل DF-21D بھی ہے۔ اسے ’کیرئیر کِلر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اس فہرست میں بیلِسٹک میزائل DF-26 اور DF-16G بھی شامل ہیں۔

اس کے ساتھ چین نے اگلے سال تک اپنے اسلحے میں ایک ایسا بین البراعظمی میزائل شامل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو جوہری ہتھیار ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ اس کی رفتار دس میک سے بھی زیادہ ہوگی اور یہ دشمن کے وارنِنگ اور دفاع کے نظام کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

جون 2017 میں چین نے ہائپر سانک ریم جیٹ انجن والے میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔ تاہم اب بھی چین کے پاس ایسا میزائل نہیں ہے جو زمین، سمندر اور آسمان تینوں سے داغا جا سکتا ہو۔