کلائمٹ چینج کے باعث خطرے کا شکار 5 تاریخی مقامات

0

کلائمٹ چینج یا موسمیاتی تغیر جہاں دنیا بھر کی معیشت، امن و امان اور جنگلی حیات اور انسانوں کے لیے ایک خطرہ بنتا جارہا ہے وہاں ماہرین کے مطابق تاریخ و تہذیب بھی اس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کلائمٹ چینج کے باعث جہاں ایک طرف کئی شہروں کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کا خدشہ ظاہر کیا جاچکا ہے، وہیں حال ہی میں جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کلائمٹ چینج کے باعث دنیا کے کئی تاریخی مقامات اور تہذیبی ورثے بھی معدوم ہوجائیں گے۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی تعلیم، سائنس اور تاریخ کے لیے کام کرنے والی ذیلی شاخ یونیسکو کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں ان مقامات کو لاحق مختلف بالواسطہ یا بلا واسطہ خطرات کا جائزہ لیا گیا اور ماہرین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ کلائمٹ چینج ان میں سے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ چونکہ تاریخی مقامات کو ان کی جگہ سے منتقل نہیں جاسکتا لہٰذا اس علاقہ کو لاحق موسمی خطرات جیسے قحط، سیلاب یا شدید موسم سے بچانا ناممکن ہے۔

رپورٹ میں شامل کلائمٹ چینج کے باعث خطرے کا شکار کچھ مقامات یہ ہیں۔


cc 1

یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ 225 ٹن تانبے اور لوہے سے بنے ہوئے اس مجسمے کو کسی قسم کے خطرے کا سامنا ہے مگر حقیقت یہی ہے۔ سطح سمندر میں اضافہ اور امریکا میں حالیہ چند برسوں میں آنے والے کئی طوفانوں نے اس مجسمے کو بھی خطرے کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔

سنہ 2012 میں آنے والے سینڈی طوفان کے باعث وہ جزیرہ جس پر یہ مجسمہ قائم ہے، 75 فیصد سے زائد سمندر برد ہوچکا ہے جبکہ اس کے قریب واقع ایلس جزیرہ بھی تباہی کا شکار ہوچکا ہے۔

ماہرین کے مطابق تاحال تو یہ مجسمہ کسی نقصان سے محفوظ ہے لیکن موسمی تغیرات کے باعث سطح سمندر میں اضافہ اور بڑھتے ہوئے طوفان اس کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔


cc2

کولوراڈو میں واقع تاریخی میسا وردی نیشنل پارک قحط کے باعث تباہی کے خطرے سے دوچار ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ اور بارشوں میں کمی کے باعث پارک میں واقع قدیم اور تاریخی درختوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

دوسری جانب درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث درختوں میں آگ لگنے کا خدشہ بھی ہے۔

cc3

خشک سالی کے باعث یہاں رہنے والے مقامی افراد پہلے ہی نقل مکانی کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں مٹی کے کٹاؤ کا عمل بھی جاری ہے جس کے باعث یہ پارک شدید خطرات کا شکار ہے۔


cc-4

کولمبیا میں غرب الہند کے ساحل پر واقع کارٹیجینا کا قلعہ یہاں کے طویل عسکری استعماریت کا یادگار ہے۔ یہ ملک کے تاریخی و تفریحی مقامات میں سے ایک ہے اور سطح سمندر میں اضافے کے باعث تباہی سے دوچار ہے۔

یہ قلعہ ابھی بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے تاہم اس کی بحالی کے لیے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔


cc-5

چلی کے مشرقی جزیرے میں واقع یہ نیشنل پارک کسی نامعلوم تہذیب کی یادگار ہے اور ماہرین ابھی تک مخمصہ کا شکار ہیں کہ یہاں بنائے گئے سر آخر کس چیز کی نشانی ہیں۔

cc-7

اس تہذیبی ورثے کو سمندر کی لہروں میں اضافے اور زمینی کٹاؤ کے باعث معدومی کا خطرہ ہے۔ سطح سمندر میں اضافہ اس تہذیبی یادگار اور اس کے نیچے موجود جزیرے دونوں کے لیے خطرہ ہے۔


cc-6

دس ہزار قبل مسیح کی نیولیتھک تہذیب کی یادگار پتھروں کا یہ مجموعہ جسے اسٹون ہینج بھی کہا جاتا ہے، خطرے کا شکار ہے۔ اس کی وجہ تو یہاں پائے جانے والے چھچھوندر ہیں تاہم ان کی افزائش کا سبب کلائمٹ چینج ہی ہے۔

زمین میں کھدائی کرنے والے اس جانور کی افزائش درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث بڑھ رہی ہے جس سے اس تاریخی مقام پر زمینی کٹاؤ ہوسکتا ہے۔ انگلینڈ کی بارشیں اور ان کے باعث پیدا ہونے والے سیلاب بھی اس مقام کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی یا کلائمٹ چینج اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ یعنی گلوبل وارمنگ اس وقت دنیا کی بقا کے لیے 2 اہم ترین خطرات ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق کلائمٹ چینج کئی ممالک کی معیشت پر برا اثر ڈالے گی جبکہ اس سے دنیا کو امن و امان کے حوالے سے بھی شدید خطرات لاحق ہوجائیں گے۔