دنیاکےمعروف سرچ انجن گوگل کوبڑاجھٹکا۔۔اپنے ہی ملازمین نے مقدمہ کرڈالا

0

ندن ( ویب ڈیسک )انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی ’گوگل‘ پر سابق مرد و خواتین ملازموں نے الگ الگ قانونی مقدمات دائر کرتے ہوئے کمپنی پر امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا ہے۔مرد ملازموں کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں کمپنی پرسیاہ فام قدامت پسند مردوں کے خلاف امتیازی سلوک برتنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔جب کہ خواتین کی جانب سے دائر کیے

گئے مقدمے میں کمپنی پر عورتوں کے مقابلے مردوں کو زیادہ تنخواہیں دینا کا الزام لگایا گیا ہے۔ گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والے سابق مرد ملازمین میں سے ایک سافٹ ویئر انجنیئر جیمز ڈیمور ہے۔گوگل پر سیاہ فام سفید مردوں کے ساتھ صنفی تفریق کا مقدمہ دائر کرنے والا دوسرا ملازم ڈیوڈ گوئڈامن بھی ماضی میں کمپنی میں انجنیئر کی خدمات سر انجام دے چکا ہے۔دونوں سابق ملازمین نے گوگل کے خلاف امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سانتا کلارا سپیریئر کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔مرد ملازمین نے کمپنی کے خلاف سیاہ فام قدامت پسند مرد ملازمین کو سیاسی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنائے جانے جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔خیال رہے کہ گوگل پر مقدمہ دائر کرنے والے سابق ملازم جیمز ڈیمور نے اگست 2017 میں خواتین کے خلاف ایک میمو لکھا تھا، جس کے بعد اسے ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا۔دوسری جانب گوگل کے خلاف تین سابق خواتین ملازموں نے بھی الگ قانونی مقدمہ دائر کردیاسپیریئر کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔مرد ملازمین نے کمپنی کے خلاف سیاہ فام قدامت پسند مرد ملازمین کو سیاسی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنائے جانے جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔خیال رہے کہ گوگل پر مقدمہ دائر کرنے والے سابق ملازم جیمز ڈیمور نے اگست 2017 میں خواتین کے خلاف ایک میمو لکھا تھا، جس کے بعد اسے ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا۔دوسری جانب گوگل کے خلاف تین سابق خواتین ملازموں نے بھی الگ قانونی مقدمہ دائر کردیا.