دنیا کے خوبصورت ترین نقشے

0

آج سے کئی صدیوں قبل مختلف مقامات کے نقشے نہایت اہمیت رکھتے تھے۔ سفر قریب کا ہو، یا دور کا, مطلوبہ مقام کے جتنے زیادہ ممکن ہو نقشے تیار کیے جاتے تھے تاکہ منزل تک بحفاظت پہنچا جاسکے۔

ابتدا میں یہ نقشے ہاتھ سے تخلیق کیے جاتے تھے جو نہایت مشکل اور محنت طلب کام تھا اور نقشے بنانے والے کے لیے ریاضی و جغرافیہ سمیت ہر علم میں ماہر ہونا ضروری تھا۔

پھر آہستہ آہستہ اس کام کے لیے مختلف تکنیکیں ایجاد کرلی گئیں۔ آج کل کے اسکرینوں کے جدید دور میں کاغذ پر بنے ہوئے نقشوں کا رواج بہت کم ہوگیا ہے۔ اب ہر شے کی طرح مختلف مقامات کے راستے بھی ہماری ٹچ اسکرینوں پر دستیاب ہیں۔

پرانے دور کے کئی تاریخی نقشوں کو دنیا بھر کی لائبریریوں میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ آج ہم آپ کو ایسے نقشے دکھانے جارہے ہیں جو نہایت خوبصورت اور دیدہ زیب معلوم ہوتے ہیں اور انہیں دیکھ کر بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں بنانے والا کوئی مصور ہوگا۔


ایک جرمن نقشہ نویس اینڈرس سیلاریس کی جانب سے بنایا جانے والا یہ نقشہ ہماری کائنات کا ہے (جو اس وقت لوگوں کے ذہن میں تھی)۔ سنہ 1660 میں تخلیق کیے جانے والے اس نقشے میں زمین کو کائنات کا مرکز دکھایا گیا ہے جبکہ چاند، سورج اور دیگر سیارے زمین کے گرد محو گردش ہیں۔

یاد رہے کہ یہ وہی نظریہ ہے جس کو درست کرنے کی پاداش میں اطالوی ماہر طبیعات گلیلیو کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ گلیلیو نے اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم انسان یا زمین کائنات کا مرکز نہیں ہیں۔


سنہ 1803 میں بنایا جانے والا یہ نقشہ جسے سیڈڈ اٹلس کہا جاتا ہے، عالم اسلام میں جدید تکنیکوں کے ذریعہ بنایا اور چھاپا جانے والا پہلا نقشہ ہے۔

اسے سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیم 3 نے بنوایا تھا اور اس کی صرف 50 کاپیاں چھاپی گئیں۔

ماہرین کے مطابق یہ نقشہ جدید دور کی نقشہ سازی اور سمت شناسی کے تمام اصولوں پر پورا اترتا ہے۔


مشہور تاریخی شہر ثمر قند کا تصوراتی نقشہ جو اب ازبکستان کا حصہ ہے۔ یہ نقشہ ایک غیر ملکی تشریح نگار رابرٹ الٹ بیئر نے بنایا ہے۔


قدیم زمانے سے داستانوں اور دیو مالائی کہانیوں میں اپنی جگہ بنائے ہوئے پریوں کے شہر کا ایک تصوراتی نقشہ۔ اسے سنہ 1918 میں چند مصوروں نے تخلیق کیا اور اس کے لیے انہوں نے برطانوی، یونانی، اور جرمن لوک داستانوں سے مدد لی۔

یہ نقشہ لائبریری آف کانگریس میں رکھا گیا ہے۔


سنہ 1583 میں مائیکل اٹزنگر نامی ایک نقشہ نویس نے نیدر لینڈز، لکسمبرگ اور بیلجیئم کے نقشے کو ایک شیر کی شبیہہ میں پیش کیا۔ شیر اس خطے میں پایا جانے والا نہایت عام جانور ہے۔


سنہ 1800 میں کوریا میں بنائے جانے والے اس نقشے کو چیاڈو کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے جنت کا مکمل نقشہ۔

نقشے کے وسط میں میرو کے پہاڑ کو دکھایا گیا ہے جو بدھ، چین اور ہندو عقائد کے مطابق کائنات کے بالکل وسط کا مقام ہے۔


سنہ 1994 میں نورمن فسک نامی ایک ماہر جغرافیات نے اپنے ایک تحقیقی مقالے کے ساتھ امریکی ریاست مسی سپی کے دریا کی تاریخ کو پیش کیا۔

اس نقشے میں مختلف ادوار میں دریا کے بہاؤ کو دکھایا گیا ہے کہ وہ کہاں سے اور کس طرف بہتا تھا اور اس میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ یہ نقشہ دیکھنے میں انسانی جسم میں موجود رگوں کا جال اور تجریدی مصوری کا شاہکار لگتا ہے۔


سلطنت عثمانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک ایڈمرل پری رئیس نے بے شمار خوبصورت نقشے تخلیق کیے۔ ان میں سے ایک اس کی سمت شناسی کی یہ کتاب بھی ہے۔

اس کتاب میں ایڈمرل نے مختلف مقامات، جانوروں کی تصاویر اور رنگوں کے ذریعہ سمت کو متعین کیا ہے۔


سنہ 1664 میں جب انگریزوں نے نیویارک شہر کو نیدر لینڈز سے چھینا تو اس کے بعد اس شہر کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا سوچا گیا۔

نئے شہر کا یہ نقشہ جیمز، ڈیوک آف یارک کو پیش کیا گیا اور اسی کے نام پر اس شہر کی تعمیر نو کا آغاز ہوا۔


ینگ ینگ کاؤنٹی آف چائنہ کا یہ نقشہ اس مقام پر موجود دریاؤں کو واضح کرتا ہے۔ دیگر نقشوں کے برعکس اس میں جنوب کو اوپر اور شمال کو نیچے کی جانب دکھایا گیا ہے۔

مضمون و تصاویر بشکریہ: لسٹ ورس ڈاٹ کام