بیوی زندہ مگر شوہر قتل کے الزام میں جیل میں

کسی کے قتل کا معاملہ ہی اگر جھوٹا نکلے تو آپ کو اس خبر پر حیرانی ضرور ہوگی۔ آج آپ کو ملواتے ہیں ایسے ہی کچھ لوگوں سے جنہوں...
India news

کسی کے قتل کا معاملہ ہی اگر جھوٹا نکلے تو آپ کو اس خبر پر حیرانی ضرور ہوگی۔ آج آپ کو ملواتے ہیں ایسے ہی کچھ لوگوں سے جنہوں نے زندہ شخص کے قتل کے جرم میں پریشانیاں جھیلیں اور جیل کاٹی۔
انڈیا کی ریاست بہار میں گزشتہ تین ماہ میں ایسے تین کیس سامنے آئے ہیں جن میں وہ خواتین زندہ ملیں جن کے قتل کا الزام ان ہی کے شوہر پر تھا۔ ان واقعات میں قتل کے ملزم یا تو جیل میں تھے یا ضمانت پر یا مفرور۔

شادی کے ایک سال بعد بیوی غائب

یہ پہلا واقعہ رواں سال مئی میں سامنے آیا۔ مظفر پور ضلعے کے جگن ناتھ ڈوكرا گاؤں کے 28 برس کے منوج کمار اپنی بیوی رنکی کے قتل کے الزام میں تقریباً ایک سال سے جیل میں تھے۔

اپریل 2015 میں شادی کے تقریباً ایک سال بعد رنکی ایک دن گھر سے غائب ہو گئیں۔ اس کے بعد رنکی کے میکے والوں نے منوج سمیت چھ افراد پر جہیز کے لیے قتل کرنے کا مقدمہ درج کرایا۔

منوج اور ان کے اہل خانہ نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے رنکی کی تلاش جاری رکھی۔ منوج تو جیل میں تھے لیکن ان کے والدین نے اس کام کو انجام تک پہنچایا۔

رنکی کے سرٹیفکیٹ منوج کے پاس ہی تھے جن پر جبل پور کا پتہ درج تھا جہاں سے رنکی نے تعلیم حاصل کی تھی۔ جبل پور میں رنکی کی تلاش کرتے کرتے آخر انہوں نے اسی شہر سے رنکی کو ڈھونڈ نکالا۔
اپریل 2015 میں شادی کے تقریباً ایک سال بعد رنکی (درمیان میں) ایک دن گھر سے غائب ہو گئیں
پھر رواں سال مئی میں مظفر پور ضلعے کی پولیس نے رنکی کو جبل پور سے برآمد کیا اور اس کے بعد منوج جیل سے رہا ہوئے۔

منوج اپنے کیس کی سب سے حیران کن بات بتاتے ہیں: ‘ایف آئی آر کے ایک ہفتے بعد تھانے میں رنکی کے والد اور بھائی نے ایک لاوارث لاش کی نشاندہی رنکی کے طور پر کی۔ یہاں تک کہ انھوں نے سر منڈوا کر اس کی آخری رسومات بھی ادا کیں۔’

رنکی کی زندہ برآمدگی کے بعد پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ اپنی شادی سے خوش نہیں تھیں۔ ایک دن وہ سسرال چھوڑ کر اپنے محبوب کے پاس جبل پور چلی گئیں اور وہیں اس کے ساتھ چھپ کر رہنے لگیں۔

رنکی دیوی کیس کے تفتیشی افسر شتروگھن شرما نے بتایا کہ مدھیہ پردیش کے جبل پور سے گرفتار کیے جانے کے بعد انہیں بہار لایا گیا۔ اس کے بعد مظفرپور ضلعے کی پولیس نے انہیں ریمانڈ پر بھی لیا جس کے بعد رنکی کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔ فی الحال وہ ضمانت پر جیل سے باہر ہیں۔

سریش یادو 20 سال تک پولیس کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کا قتل نہیں کیا

20 سال تک مجرم سمجھا گیا

بھاگلپور ضلع کے امڑہا گاؤں کے سریش یادو گزشتہ دو دہائی سے زیادہ عرصے سے پولیس کو یہ سمجھانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے کہ انہوں نے اپنی بیوی پرتیما کا قتل نہیں کیا۔

ان کی محنت آخرکار رواں برس 15 جون کو تب رنگ لائی جب ان کی نشاندہی پر پولیس نے پرتیما کو ان کے میکے میں زندہ پایا۔ معلومات کے مطابق وہ اب میرٹھ میں شادی شدہ زندگی بسر کر رہی تھیں۔

پرتیما کو مئی 1996 میں مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔ 40 برس کے سریش بتاتے ہیں ‘یہ 20 سال انہوں نے بہت پریشانی میں کاٹے ہیں۔ جیل کاٹنی پڑی اور مقدمہ لڑنے کے لیے زمین فروخت کرنی پڑی۔’

سریش کہتے ہیں ‘کیا پتہ وہ (پرتیما) کیوں گھر چھوڑ کر میکے چلی گئی تھی۔ پھر اس کے والدین نے اس کی دوسری شادی کرا دی اور مجھے پھنسا دیا۔‘

سریش نے بتایا کہ ان کی بہن نے چند روز پہلے پرتیما کو اس کے میکے میں دیکھا اور انھیں بتایا، پھر انھوں نے خود پولیس کو اس بارے میں بتایا۔

قتل کے یہ تمام جھوٹے معاملے جہیز کے خلاف قانون کے تحت درج کیے گئے تھے

چھ برس تک مفرور

قتل کے جھوٹے الزام کا سب سے تازہ معاملہ ویشالی ضلعے کا ہے۔ تارا دیوی کے قتل کے الزام میں ان کے شوہر سوندر رائے سمیت چھ افراد گزشتہ چھ سال سے فرار تھے۔ تارا کو 11 جولائی کو گرفتار کیا گیا۔

اس معاملے کے بارے میں ویشالی ضلعے کے تھانہ انچارج راجیو رنجن شریواستو نے بتایا ‘تارا کے والد شنکر رائے نے نومبر 2011 میں جہیز کے لیے اپنی بیٹی کے قتل کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ لیکن تارا کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ کسی دوسرے لڑکے سے شادی کر کے مظفر پور میں رہ رہی تھیں۔ اس کے بعد پولیس نے شنکر پر دباؤ ڈالا اور ان کی نشاندہی پر تارا کو برآمد کیا گیا‘۔

معلومات کے مطابق تارا نے عدالت کو بتایا کہ سسرال کے برے سلوک کی وجہ سے وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ معاملہ محبت کا تھا اور تارا شوہر کو چھوڑ کر اپنے محبوب کے پاس چلی گئی تھیں۔

تارا فی الحال عدالت کے حکم پر اپنے والد کے پاس رہ رہی ہیں۔

قتل کے یہ تمام جھوٹے معاملے جہیز کے خلاف قانون کے تحت درج کیے گئے تھے۔ اس قانون کے غلط استعمال پر انڈیا کی سپریم کورٹ نے بھی سال 2014 میں اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔

Loading...
Categories
انڈیا

RELATED BY