اگر گلے میں ڈھکن پھنسنے کے بعد جلد طبی امداد حاصل نہ کی جائے توجسم کے اندر موجود مواد اس ننھے سوراخ کو بند کردیتے ہیں

مرد ہو یا عورت اور بچے، ہر کسی کو روزانہ کام کاج کرتے ہوئے عموماً بال پین کی ضرورت پڑ جاتی ہے لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ...
Health Tips

مرد ہو یا عورت اور بچے، ہر کسی کو روزانہ کام کاج کرتے ہوئے عموماً بال پین کی ضرورت پڑ جاتی ہے لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ بال پین پر لگے ڈھکن کے اوپری حصے میں ایک چھوٹا سا سوراخ کیوں ہوتا ہے؟ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ یہ سوراخ معمولی شے نہیں کیونکہ یہ آپ کی جان بچانے کے بھی کام آتا ہے۔ یہ 1991ء کی بات ہے

جب بال پین بنانے والی ایک فرانسیسی کمپنی نے اپنے بال پینوں کے ڈھکن میں یہ سوراخ ڈالنا شروع کیے۔اْس وقت کمپنی کا کہنا تھا کہ سوراخ پین کے اندر کے دبائو کو اُس وقت مساوی حالت میں ایسے وقت برقرار رکھتا ہے جب آپ اس پر ڈھکن لگاتے ہیں۔ اسی طرح یہ سوراخ پین سے سیاہی چھلکنے سے بھی روکتے ہیں۔مگر یہ ننھے سوراخ بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں اور زندگیاں بچانے کا کام بھی کرتے ہیں۔اگر کسی پین کا ڈھکن کسی وجہ سے منہ کے اندر جاکر گلے میں پھنس جائے تو یہ ننھا سوراخ آپ کی سانس کی آمد و رفت بحال رکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے، کم از کم کچھ وقت تک کے لیے تاکہ طبی امداد پہنچنے تک آپ زندہ رہ سکیں۔اگر گلے میں ڈھکن پھنسنے کے بعد جلد طبی امداد حاصل نہ کی جائے تو جسم کے اندر موجود مواد اس ننھے سوراخ کو بند کردیتے ہیں۔عام طور پرچھ سے پندرہ سال کے بچوں میں پین کے ڈھکن کو نگلنے کے حادثات پیش آتے ہیں۔صرف امریکا میں ہی 2000 ء سے 2010 ء کے دوران دس ہزار ایسے کیس سامنے آئے جن میں لوگوں نے پین کے ڈھکن کو نگل لیا۔فرانسیسی کمپنی کے اس انقلابی ڈیزائن کے بعد دیگر کمپنیوں نے بھی اس کی اہمیت سمجھتے ہوئے اسے اپنا لیا۔

Loading...
Categories
صحت

RELATED BY