3 ہلاکتوں کے بعد ڈینگی بخار کی ویکسین پر سوالات اٹھ گئے

فلپائن میں ڈینگی بخار کے مدافعتی ویکسین کے غیر معیاری ہونے کے شکوک سامنے آئے ہیں۔ اس شک و شبے کی وجہ ویکسین لگانے کے بعد 3 افراد کی...

فلپائن میں ڈینگی بخار کے مدافعتی ویکسین کے غیر معیاری ہونے کے شکوک سامنے آئے ہیں۔ اس شک و شبے کی وجہ ویکسین لگانے کے بعد 3 افراد کی موت بتائی گئی ہے۔

فلپائنی حکومت کی قائم کردہ ماہرین کی انکوائری رپورٹ میں اس شبے کا اظہار کیا ہے کہ حال ہی میں ڈینگی بخار سے مرنے والے 3 افراد کی موت ویکسین لگانے کے بعد ہوئی ہے لیکن ان کی موت کو ویکسین کے غیر مؤثر ہونے سے براہ راست طور پر وابستہ نہيں کیا جاسکتا ہے۔

ویکسین بین الاقوامی دواساز ادارے سنوفی کی تیار کردہ ’ڈینگی ویکسیا‘ بتائی گئی ہے۔ منیلا حکومت کی خصوصی انکوائری کمیٹی نے 3 ہلاکتوں میں براہ راست سنوفی کی تیار کردہ ویکسین کا کوئی تعلق واضح نہیں کیا ہے۔

صرف اندازہ لگایا گیا ہے لیکن حکومتی رپورٹ کے تناظر میں اس ویکسین یعنی ڈینگی ویکسیا کے استعمال کو فوری طور پر ترک کر دیا گیا ہے۔

فلپائن کے محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ اہلکار اینریک ڈومینگو کا کہنا ہے کہ تینوں کو ڈینگی ویکسیا کی مناسب خوراک دی جاچکی تھی اور ان میں سے دو پر تو اس ویکسین نے کوئی اثر ظاہر نہیں کیا تھا جبکہ ایک ڈینگی بخار میں مبتلا تھا اور اُس کی شدت کی وجہ سے دم توڑ گیا۔

ڈومینگو نے یہ بھی کہا کہ دوسرے علاقوں میں ڈینگی بخار کی وجہ سے 9 افراد کے مرنے کی رپورٹيں موصول ہوئی ہیں اور انہیں بھی ڈینگی ویکسیا دی جاچکی تھی۔ فلپائن میں لاکھوں افراد کو ویکسین لگائی جاچکی ہے لیکن ڈینگی بخار سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

یہ انکوائری کمیٹی گزشتہ برس نومبر میں اس وقت تشکیل دی گئی تھی جب ڈینگی ویکسیا لگانے کے بعد بھی 14 بچے اس جان لیوا بخار کی لپیٹ میں آکر دم توڑ گئے تھے۔

اس انکوائری کمیٹی کو اس کا تعین کرنا تھا کہ ویکسین میں مدافعت پیدا کرنے کا فقدان ہے یا اس کے کسی ممکنہ ردعمل سے ایک درجن سے زائد بچوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ویکسین بعض بچوں کے اندر مدافعت پیدا کرنے میں ناکام رہی تھی۔ فلپائن میں 2016 اور 2017 میں سوا 8 لاکھ سے زائد افراد کو سنوفی کی تیار کردہ ویکسین کی تجویز کردہ خوراک دی گئی تھی۔

لاکھوں فلپائنی افراد کو ویکسین دینے کا یہ سلسلہ ڈینگی بخار کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کے ايک پروگرام کا حصہ تھا۔ فلپائن ایک ایسا ملک ہے جہاں ڈینگی بخار سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔

یہ دوسرے ملکوں کے مقابلے میں 60 فیصد زیادہ ہے۔ 2017 میں فلپائن میں 732 انسان اس بخار کی وجہ سے زندگی ہار بیٹھے تھے۔

Loading...
Categories
صحت

RELATED BY