بلیک بیری کے موبائل فون کا منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال ہونے کا انکشاف

0

واشنگٹن:امریکی اٹارنی اور ایف بی آئی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے فینٹم سکیور نامی ادارہ معروف کمپنی بلیک بیری کے موبائل فون ڈیوائس میں تبدیلی کرکے عالمی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ کے لیے فروخت کررہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کی موبائل فون بنانے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو پریہ الزام ہے کہ ان کی کمپنی نے مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال ہونے کے لیے انتہائی محفوظ موبائل فون تیار کیے ہیں جو دنیا کے بدنام ترین منشیات فروش گروپس مختلف کارروائیوں میں استعمال کررہے ہیں۔

تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ کینیڈا سے کام کرنے والی فینٹم سکیور نے بلیک بیری کی ڈیوائس میں تبدیلیی کرنے کے بعد سینالوا کارٹل جیسے منشیات اسمگلنگ کرنے والے گروپس کو فروخت کرکے ہزاروں ارب ڈالر کماچکی ہے۔ امریکی حکام کی جانب پہلی بار اس کمپنی کو نشانہ بنایا گیا ہے جو جرائم پیشہ افراد کے لیے خفیہ ٹیکنالوجی تیار کرتی ہے۔

امریکی ایجنسیوں نے جمعرات کو امریکی شہر سیئٹل سے ونسینٹ راموس نامی شخص کو گرفتار بھی کیا ہے جس پر چار منشیات اسمگلنگ کرنے والے گروپس سے تعلق کا الزام ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارہ نے فینٹم سکیور تک رسائی کی کوشش تاہم وہ ناکام رہے۔

ایف بی آئی کے مطابق راموس گروپ کا صرف ایک فرد ہے جو ابھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں ہے۔ ونسینٹ راموس پر غیر قانونی طریقوں اور شازش سے منشیات کی تقسیم میں مدد فراہم کرنے کے الزامات ہیں، جس کے نتیجے میں ملزم کو کم از کم عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

امریکی اٹارنی ایڈم بریو مین کا برطانوی خبر رساں ادارے سے اظہار خیال کرتے  ہوئے کہنا تھا کہ فینٹم سیکیور نامی ادارے نے یہ ٹیکنالوجی عالمی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بنائی ہے۔

فینٹم سیکیور کی تیار کی گئی ڈیوائس سینالوا کارٹل کے ممبران سمیت دیگر منشیات اسمگلنگ کرنے والی تنظیموں کو منشیات کی اسمگلنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لیے سہولت فراہم کرتی ہے۔

بریومین کا کہنا تھا کہ بلیک بیری واحد ادارہ نہیں ہے جس کے تیار کردہ موبائل فون کو تبدیل کرکے غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعرات کے روز اس خفیہ ڈیوائس بنانے والی کمپنی کے حوالے سے بلیک بیری کمپنی سے رابطہ کیا گیا تھا تاہم کمپنی کے حکام نے جواب دینے سے انکار کردیا، تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ بلیک بیری اس کیس پر سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرے گی یا نہیں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

امریکی اٹارنی ایڈم بریور مین کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی اور اٹارنی آفس اس معاملے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔