مسلمان عید پر کالی پٹیاں کیوں باندھیں گے؟

0

انڈيا میں حالیہ برسوں میں مسلمانوں پر ہونے والے حملوں میں اضافے سے لوگوں میں تشویش تھی لیکن دو روز پہلے چلتی ہوئی ٹرین میں جس طرح سے مسلم لڑکوں پر حملہ ہوا اور ایک مسلم نوجوان کو ہلاک کیا گيا اس سے مسلمانوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

ہلاک ہونے والے نوجوان جنید کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے سے پہلے ان پر مذہبی بنیاد پر طنز کیا گيا اور پھر لوگوں نے مارنا شروع کیا۔

اس واقعے کے بعد انڈین مسلمان سکتے میں ہیں اور احتجاج کے لیے سوشل میڈیا پر عید کے دن سیاہ پٹی باندھ کر نماز پڑھنے کے لیے مہم چلائی جا رہی ہے۔

بی بی سی ہندی کے دلنواز پاشا نے ایسے ہی کچھ لوگوں سے بات چیت کی ہے۔
نوجوان شاعر عمران پرتاپ گڑھی نے فیس بک پر لوگوں سے سیاہ پٹیاں باندھ کر نماز پڑھنے کی اپیل کی ہے۔

عمران کہتے ہیں: ‘ہمارے سامنے عید کا تہوار ہے جو خوشی کا دن ہے لیکن اس تہوار پر معاشرے نے ہمیں تحفے میں خون سے لت پت لاشیں دی ہیں۔ فرید آباد میں جنید اور سرینگر میں ایوب پنڈت کا ویڈیو دیکھنے کے بعد خاموش رہنا مشکل ہے۔ کہیں نہ کہیں اب بڑے پیمانے پر اس کی مخالفت کی ضرورت ہے۔ سیاہ پٹی باندھ کر ہم جمہوری طریقے سے اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔’

سماجی کارکن مہندی حسن قاسمی نے بی بی سی سے کہا: ‘جمہوری ملک بھارت میں ہجوم پرستی کا ناسور بڑھ رہا ہے۔ کوئی نہ کوئی آئے دن اس کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ وارداتیں نہ صرف معاشرے میں زہر گھول رہی ہیں بلکہ ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے کا آغاز بھی ہو سکتی ہیں۔’

قاسمی کہتے ہیں: ‘بھیڑ درندگی کے ساتھ لوگوں کو قتل کر رہی ہے۔ سیاہ پٹی باندھ کر نماز پڑھنا اس ہجومیت کے خلاف خاموش احتجاج ہے۔’

قاسمی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس سلسلے میں دارالعلوم دیوبند سے فتوی بھی لینا چاہا لیکن انہیں تحریری طور فتوی نہیں مل سکا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی مذہبی رہنماؤں سے فون پر بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ عید پر سیاہ پٹی باندھ کر نماز پڑھنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔

اتوار کو خلیجی ممالک میں عید منائی جا رہی ہے جہاں انڈین کمیونٹی کے لوگوں نے سیاہ پٹی باندھ کر عید منانے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔

دبئی میں رہنے والے محمد عارف نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا: ‘باہر رہنے والے مسلمان انڈيا میں مذہبی بھیڑ کے ہاتھوں ہونے والے تشدد کی مخالفت میں سیاہ پٹی باندھ کر نکل رہے ہیں۔’

دمام میں سیاہ پٹی باندھ کر عید منانے والے محمد صدام نے بی بی سی کو بتایا: ‘انڈیا میں منظم بھیڑ لوگوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے مار رہی ہے۔ ہم سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے ملک کے حالات سے دنیا کو روبرو کروانا چاہتے ہیں۔’
یہ نوجوان دلی کی جامع مسجد کے علاقے عید پر کالی پٹّی باندھنے کی مہم چلا رہے ہیں
وسیم اکرم نے فیس بک پر لکھا: ‘پہلے ہم شام اور فلسطین کے لوگوں کی حفاظت کے لیے دعا کرتے تھے، آپ ہندوستان کے لوگوں کی حفاظت کے لیے دعا کرنی پڑ رہی ہے۔’

فیس بک پر اپنے دوستوں سے سیاہ پٹی باندھنے کا اعلان کرنے والے نوید چودھری کہتے ہیں: ‘بھیڑ کے ہاتھوں قتل سے صرف متاثرہ خاندان ہی تکلیف میں نہیں ہیں بلکہ پوری قوم غم زدہ ہے۔ ہم ان کے لیے انصاف کی آواز اٹھانے کے لیے سیاہ پٹی باندھ رہے ہیں۔’

جماعت اسلامی سے منسلک ندیم خان بھی فیس بک پر لوگوں سے سیاہ پٹی باندھ کر عید کی نماز پڑھنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ ندیم لکھتے ہیں: ‘عید تو خوشی کا دن ہے، لیکن کیا نجیب، پہلو خان، منهاج، جنید جیسے مظلوموں کے گھر پر عید ہوگی؟’

محمد زاہد نے فیس بک پر لکھا ہے: ‘اگر آپ اس بات پر خاموش ہیں کہ بھیڑ صرف مسلمانوں کو مار رہی ہے تو آپ غلط فہمی کا شکار ہیں، یہی بھیڑ جمشید پور میں ایک عمردراز ہندو عورت سمیت اس کے دو پوتوں کو بھی قتل کر چکی ہے، ایسے ہی لوگوں نے ہاپوڑ میں ایک ہندو کو بھی قتل کیا تھا۔’

زاہد کہتے ہیں: ‘ہمیں ہمارا پرانا انڈيا چاہیے، جہاں ہم عید دیوالي ساتھ مل کر مناتے تھے. اب وہ بھارت کہیں دور چلا گیا، اسی کو واپس حاصل کرنے کی مہم ہے #Eidwithblackband۔’

جون پور کے رہنے والے آصف کہتے ہیں: ‘سیاہ پٹی باندھ کر احتجاج کر سکتے ہیں لیکن صرف سیاہ پٹی سے کیا ہوگا۔ مسلمانوں کو اگر اپنی بات رکھنی ہی ہے تو جنتر منتر پر دلتوں کی طرح احتجاجی مظاہرہ کرنا ہو گا۔’

مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد سے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ حملہ آوروں کو حکومت کا تحفظ حاصل ہے۔