لاہوت لامکاں :پاکستان کی وہ سب سے عجیب و غریب جگہ جہاں کے بارے میں بے حد پراسرارروایات قائم ہیں ۔۔ کیا یہ جگہ کائنات میں سب سے پہلے بنائی گئ�

0

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقہ وڈھ میں ایک اہم زیارت گاہ “لاہوت لا مکاں” کہلاتی ہے۔اس جگہ کے بارے میں مقامی روایات ہیں کہ کائنات میں سب سے پہلے یہی مقام تخلیق کیا گیا تھا اور کچھ اور مقامی روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کو بھی اسی جگہ اتارا گیا تھا۔جبکہ ایک روایات کے مطابق ان کو سری لنکا کے ایک

کے ایک پہار پر اتارا گیا تھا۔جہاں ان کے قدم کا نشان آج بھی موجود ہے۔(واللہ اعلم) لاہوت لامکا ں کے بارے میں عجیب وغریب روایات موجود ہیں ۔جس کی وجہ سے عجائبات عالم میں دلچسپی لینے والے ہزاروں لوگ ہر سال یہاں دشوار گزار راستہ طے کر کے آتے ہیں۔ کراچی سے حب کے راستے بلوچستان جاتے اس سلسلہ کا پہلا پڑاؤ “محبت فقیر” کے مزار پر ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں روایت ہے کہ یہ حضرت علیؓ کے غلام تھے۔ (واللہ اعلم ) پھر اگلا پڑاؤ “قدم گاہ” پر ہوتا ہے جس کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہاں حضرت علیؓ کے پاؤں کے نشانات ہیں(واللہ اعلم) ۔ شاہ بلاول نورانی کا مزار یہاں سے نزدیک ہی ہے۔اس کے نزدیک ہی ایک مسجد بھی موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو کسی نے تخلیق نہیں کیا یہ خود ہی وجود میں آئی ہے (واللہ اعلم) اس قدم گاہ سے نزدیک ہی پریوں کا باغ بھی موجود ہے ۔جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہاں ایک ظالم دیو” گوکل “کی حکومت تھی اور لوگ اس سے تنگ تھے۔ ان لوگوں نے اللہ سے دعا کی تو ایک نورانی صورت بزرگ تشریف لائے جنہوں نے اس دیو کو شکست دے کر لوگوں کو اس کے ظلم سے آزاد کروایا۔ اس پہاڑی

علاقہ پر جا بجا ایسے نشانات موجود ہیں جس سے بھاگتے قدموں کے نشانات اورخراشوں اور لڑائیوںً کے نشانات واضح ہیں۔ (واللہ اعلم) اس باغ سے اصل زیارت گاہ “لا ہوت لامکاں” کے راستے نکلتے ہیں۔پیدل چلنے والے لوگوں کے لیے سات پہاڑوں کو عبور کر کے زیارت گاہ تک پہنچنا پڑتا ہے۔اس راستے سے صرف سخت جاں لوگ ہی گزر سکتے ہیں ۔دوسرا راستہ قدرے آسان ہے۔اس راستے پر لوہے کی سیڑھیاں موجود ہیں۔ یہ سیڑھیاں بہت کمزور ہیں لیکن کئی سو من وزن آسانی سے برداشت کر لیتی ہیں۔ ہزاروں لوگ ایک ہی وقت میں چڑھتے اترتے ہیں/لوگ اسے بھی روحانیت کی قوت قرار دیتے ہیں۔ سیڑھیاں عبور کرنے کے بعد ایسے پتھروں سے سامنا ہوتا ہے جنکی شکل خونخوار جانور اور شیر سے ملتی ہے۔ ان کے بارے میں بھی روایات ہیں کہ یہ اصل درندے تھے لیکن روحانیت کی طاقت سے انکو پتھر بنا دیا گیا۔ اور یہ بھی یہ جانور اب بھی ان زیارت گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ پھر ایک غار آتا ہے جو بہت بڑے غار کی مانند ہے۔ اسی غار میں پتھر کی بنی ایک اونٹنی بھی ہے اور ایک پتھر بھی جو فرش سے بر آمد ہو کر غار کی چھت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس پتھر کے بارے میں بھی مقامی روایات ہیں کہ جس دن یہ پتھر چھت سے ٹکرا جائے گا اس دین قیامت آ جاے گی۔اس غار کے بعد ایک اور غار ہے جس میں بہت اندھیرا ہوتا ہے اور بہت زیادہ پھسلن بھی۔ اس میں انسان سیدھے رخ داخل نہیں ہو سکتا۔ غار کے آخری دہانے پر شاہ نورانی کی چلہ گاہ موجود ہے ۔ جہاں انہوں نے اللہ کی عبادت کی تھی۔اور اس کے ساتھ ایک چشمہ بھی موجود ہے۔ اس سارے علاقہ میں پتھر کے بنے عجیب عجیب جانور، پرندے پائے جاتے ہیں۔ کہیں اژدھے کے منہ سے پانی ٹپک رہا ہے تو کہیں کسی اور خونخوار جانور کی آنکھوں سے۔ایک جگہ بھینس کے تھنوں سے مشابہ پتھر ہیں جہاں سے چشمہ نکل رہا ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہاں پر بھی کوئی قدیم بت پرست قوم آباد تھی جنہوں نے یہ سب کچھ اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا ہے ۔ لیکن اس کے بارے میں تاریخ خاموش ہے صرف مقامی روایا ت ہی موجود ہیں ۔ جبکہ مقامی روایات کہ مطابق یہ کسی روحانی قوت کی وجہ سے اصل جانور بت بن گئے تھے۔