ریلوے میں 60 ارب کی کرپشن‘ چیف جسٹس برہم –

0

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے محکمہ ریلوے میں 60 ارب روپے کے نقصان پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ریلوے افسران کو لاہور رجسٹری میں طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس نے ریلوے میں بے قاعدگیوں کے باعث اربوں روپے کے نقصان پرازخود نوٹس لے کر سیکریٹری ریلوے اور ریلوے بورڈ کے ارکان کو آڈٹ رپورٹس کے ساتھ طلب کرلیا۔

انھوں نے افسران کو عدالت میں طلب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر عدالت کو ریلوے میں ہونے والے 60 ارب کے بڑے نقصان کی وجوہات بتائی جائیں۔ چیف جسٹس نے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جلسوں میں ریلوے کے منافع بخش ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن محکمے کی اصل صورت حال بالکل مختلف ہے۔

ثاقب نثار نے محکمہ ریلوے کی خراب حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ اس سلسلے میں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو عدالت میں طلب کرلیا جائے۔ چیف جسٹس نے بھارتی محکمہ ریلوے کے وزیر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ لالو پرشاد یادیو ایک ان پڑھ وزیر تھا لیکن اس نے ادارے کو منافع بخش بنایا۔

انھوں نے کہا کہ لالو پرشاد نے ریلوے کو منافع بخش بنانے کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی اب اس کی تھیوری ہاورڈ یونی ورسٹی میں پڑھائی جاتی ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بادشاہت تھوڑی ہے کہ جس کا جو جی چاہے وہ کرتا پھرے، کیوں نا وفاقی وزیر ریلوے کو بھی عدالت میں طلب کرلیا جائے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ریلوے محکمے کی بہتری کے دعوے کرتے رہے ہیں اور انھوں نے اپنی کارکردگی کے حوالے سے میڈیا کو بتایا تھا کہ سی پیک کے تحت ریلوے میں تبدیلیوں کی بنیاد رکھ دی گئی ہے تاہم محکمے کی حالت تاحال بہت ابتر ہے۔