2013ء سے اب تک سعودی عرب میں کتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو پھانسی دی گئی؟کتنے ہزار پاکستانی مختلف جیلوں میں قید ہیں؟چونکاکدینے والے انکشافات

0

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ 2013ء سے اب تک سعودی عرب میں مختلف جرائم میں 66 پاکستانیوں کو پھانسی دی گئی، 1337 پاکستانی ریاض ،1580 جدہ کی جیلوں میں بند ہیں، پاکستانی سفارتخانہ اور قونصلیٹس تمام قیدیوں کو قونصلر کی سطح تک رسائی فراہم کرتے ہیں،قیدیوں کے تبادلے کیلئے مختلف ممالک کیساتھ معاہدوں کیلئے

اقدامات کر رہے ہیں ،افغانستان کو بھی قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تجویز دی ہے، بھارت کیساتھ قیدیوں کے تبادلے کیلئے زیادہ سے زیادہ اور کم از کم عمر کی حدمقرر کرنے پر پیشرفت کی توقع ہے،ملک میں ٹی بی کنٹرول پروگرام کے تحت تشخیص اور علاج کے 1400 مراکز میں مفت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ڈیڑھ لاکھ افراد کی ابھی تک تشخیص نہیں ہوئی، 18 ویں ترمیم کے بعد صحت کے شعبہ میں سہولیات کی فراہمی صوبوں کی ذمہ داری ہے، قومی تعلیمی اصلاحات پروگرام کا مقصد ملک میں جدید، معیاری اور میرٹ کی بنیاد پر امتحانی نظام لانا ہے، وفاقی تعلیمی بورڈ نے سکیم پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے،وزارت میری ٹائم افیئرز میں افسران کی ترقی میں کوئی کوٹہ نہیں ہوتا، جہاں پر بھی بندرگاہیں ہیں، مقامی افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹرز ثمینہ سعید، عتیق شیخ اور اعظم سواتی کے سوالات کے جواب میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ 2013ء سے اب تک سعودی عرب میں مختلف جرائم میں 66 پاکستانیوں کو پھانسی دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2013ء میں 10،

2014ء میں 13، 2015ء میں 14، 2016ء میں 7، 2017ء میں 14 اور 2018ء میں 8 پاکستانیوں کو منشیات سے متعلق جرائم، عصمت دری اور قتل کے جرائم میں پھانسی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 1337 پاکستانی ریاض اور 1580 جدہ کی جیلوں میں قید ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانہ اور قونصلیٹس سعودی جیلوں میں قید تمام قیدیوں کو قونصلر کی سطح تکرسائی فراہم کرتے ہیں تاہم ہمارے مشن کی قانونی خدمات، تراجم، مقدمات کی تیاری میں سہولت اور مختلف ایجنسیوں کے ساتھ معاملات طے کرنے تک محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی قواعد و ضوابط کے مطابق صرف پریکٹس کرنے والے سعودی وکلاء کو ہی مقامی عدالتوں میں پیش ہونے کی اجازت ہے۔سینیٹر اعظم سواتی، سینیٹر سعدیہ عباسی اور سینیٹر سراج الحق کے سوالات کے جواب میں وزیرداخلہ نے بتایا کہ بھارت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لئے پاکستان نے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد60 سال اور کم از کم 16 سال کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ بھارت کی طرف سے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 70 سال اور کم از کم عمر کی حد 18 سال کی تجویز آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ افغانستان کے ساتھ بھی ہم نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا معاملہ اٹھایا ہے اور وزیراعظم کے حالیہ دورہ میں بھی اس پر بات ہوئی ہے۔انہوں نے کہاک ہ افغانستان خلیجی ریاستوں اور یورپی ممالک کے ساتھ بھی قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میںہم نے تجویز دی ہے کہ جن ممالک میں پاکستانی قیدیوں کو سزا ہو چکی ہے انہیں سزا کی باقی مدت پوری کرنے کیلئے پاکستان منتقل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے کہا ہے کہ اس کے جو شہری پاکستان میں اپنی قید کاٹ رہے ہیں انہیں بھی معاہدے کے تحت باقی سزا پوری کرنے کیلئے واپس بھجوایا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ اس سلسلے میں مزید پیشرفت ہوگی۔سینیٹر ثمینہ سعید، سینیٹر عتیق شیخ اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر نیشنل ہیلتھ سروسز،ریگولیشنز اینڈ کوآرڈنیشن سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ دنیا میں ٹی بی عوامی صحت کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور بھارت، چین، انڈونیشیا اور فلپائن کے بعد پاکستان کا اس میں پانچواں نمبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی پروگرام کے نتیجے میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے اور 125 این جی اوز، 35 نجی ہسپتالوں اور 2 ہزار فارمیسیوں کو بھی ٹی بی کی روک تھام کے پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹی بی کنٹرول پروگرام کے تحت تشخیص اور علاج کے 1400 مراکز میں مفت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ڈیڑھ لاکھ افراد کی ابھی تک تشخیص نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ 18 ویں ترمیم کے بعد صحت کے شعبہ میں سہولیات کی فراہمی صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین صوبائی اسمبلیوں سے لازمی ٹی بی نوٹیفیکیشن بل منظور ہو چکا ہے تاہم بلوچستان اور وفاق کی سطح پر یہ بل ابھی منظور نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں لیبیا کے سوا کسی بھی ملک میں صحت کا محکمہ وفاق کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق کا کردار صرف عالمی اداروں کیساتھ رابطے کا ہے۔ صوبائی حکومتوں نے بھی اپنے پی سی ون بنائے ہوئے ہیں اور ہم اس حوالے سے معاملات کو حتمی شکل دینے کیلئے مشترکہ مفادات کونسل میں سمری لے کر جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اس کے بعد سندھ اور دیگر صوبے آتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم (کل) جمعہ کو ٹی بی کی روک تھام کے لئے ایمرجنسی نافذ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 84 ممالک جہاں پر تمباکو نوشی کی جاتی ہے ان میں پاکستان کا 54 واں نمبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک تمباکو نوشی کے خلاف سخت اقدامات کا تعلق ہے، موجودہ حکومت نے جتنے اقدامات کئے ہیں پہلے نہیں ہوئے تاہم اصل مسئلہ ان پر اس حوالے سے عمل درآمد کا ہے۔ اس سلسلے میں چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کو پارلیمنٹ سے اس کا آغاز کرنا چاہئے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہر سال ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوتے ہیں۔ سینیٹر طلحہ محمود اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیتانجینئر بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ قومی تعلیمی اصلاحات پروگرام کا مقصد ملک میں جدید، معیاری اور میرٹ کی بنیاد پر امتحانی نظام لانا ہے۔حکومت نے وزارت وفاقی تعلیم کو قومی تعلیمی اصلاحات اقدامات کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کئے ہیں اس مقصد کیلئے ملک کے 29 بورڈز میں امتحانی نظام کا معیار بڑھانے کیلئے شعبے قائم کئے جائیں گے تاکہ شراکت داروں کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی تعلیمی بورڈ نے سکیم پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے، منصوبے کی سٹیئرنگ کمیٹی تمام صوبائی اور مقامی حکومتوں کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز میر حاصل بزنجو نے سینیٹ کو بتایا کہ وزارت میری ٹائم افیئرز میں افسران کی ترقی میں کوئی کوٹہ نہیں ہوتاجبکہ بھرتیوں کے لئے باقاعدہ کوٹہ مقرر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پر بھی بندرگاہیں ہیں وہاں مقامی افراد کی تعیناتی کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کی تعداد 308، پورٹ قاسم اتھارٹی میں 200، نیشنل شپنگ کارپوریشن میں 44، گوادر پورٹ اتھارٹی میں 55، پاکستان میرین اکیڈمی میں 12، وزارت میری ٹائم افیئرز میں 17، بندرگاہیں و جہاز رانی میں 13، میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ میں 7 اور مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ میں افسران کی تعداد 4 ہے