بیوی اپنے شوہر سے ہمبستری کا اظہار کیسے کرتی ہے

0

ایک شوہر دفتر سے گھر آتا ہے اور ساتھ پھول اورگفٹ نہیں لاتا۔ بیوی مسکرا کر اس کی طرف دیکھتی ہے اور وہ ہلکی سی بد مزہ مسکراہٹ سے جواب دیتا ہے۔ جب وہ کپڑے وغیرہ بدل کر پر سکون ہوتا ہے تو بیوی کو وقت دینے کی بجائے ٹی وی پر بیٹھ کر اپنے پسندیدہ پروگرام دیکھنے لگتا ہے۔ ٹی وی میں وہ اتنا محو ہو جاتا ہے کہ اس کی بیوی کئی بار آوازیں دے کر بھی ‘ہوں’ سے زیادہ کچھ نہیں سن پاتی۔

ایک بار تھوڑا سا جواب لینے کے بعد وہ گفتگو کی کوشش کرتی ہے لیکن کامیاب نہیں ہو پاتی۔ وہ پھر وہی سوال پوچھتی ہے جو وہ کئی سو بار پوچھ چکی ہے۔ کیا آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں؟ اس کا جواب اسے ملتا ہے: جی ہاں کیوں نہیں؟ لیکن یہ جواب اطمینان بخش نہیں ہوتا۔ وہ مسکرا دیتی ہے اور یہ جانتی ہے کہ یہ رٹا رٹایا جواب ہے اور کچھ نہیں۔

یہ رویہ دنیا کی بہت سی خواتین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ خواتین اکثر شکایت کرتی ہیں کہ ان کے خاوند باقی معاملات میں تو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن بیویوں کے معاملے میں وہ کوئی دلچسپی نہیں دکھاتے اور رومانس سے دوری اختیار کیے رکھتے ہیں۔ وہ یا تو دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں یا ٹی وی دیکھ کر اور کبھی بھی اپنی بیویوں کے ساتھ کھل کر بات چیت نہیں کرتے۔ میں نے اپنے بہت سے دوستوں اور ان کی بیویوں سے اس معاملے میں گفتگو کی ہے اور کم و بیش ایک جیسا ہی جواب ملا ہے۔

کچھ خواتین یہ مانتی ہیں کہ ان کے شوہر ان کے ساتھ اچھا برتاو کرتے ہیں لیکن یہ بھی کہتی ہیں کہ ان کے ساتھ جذباتی لحاظ سے شوہروں کا رویہ تسلی بخش نہیں ہوتا۔ کچھ عورتوں نے اپنے خاوند کے سامنے شکایت کی کہ ان کے خاوند دوسری عورتوں میں اپنی بیوی کی موجودگی میں بھی زیادہ دلچسپی دکھاتے ہیں۔ میں آپ کو بتا دوں کہ یہ عورتیں کچھ غلط نہیں کہتیں۔ خاوند کے بارے میں ان کی شکایت جائز ہوتی ہے۔

مردوں کے اس رویہ کی بنیادی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟ آخر شوہر اس طرح کا رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی ہو گی کہ مردوں کا یہ رویہ ہر کلچر کے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ میرا اپنا رویہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ آج کے آرٹیکل میں یہ بتانے کی کوشش کروں گا کہ بیویوں کے ساتھ اس طرح کے رویہ کی اصل وجہ کیا ہے۔

میں اپنے یعنی شوہروں کے رویہ کو کسی بھی طرح سے صحیح قرار دینے کی کوشش نہیں کروں گا۔ یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگرچہ مرد اور عورت برابر ہیں لیکن بہت سے معاملات میں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے مردوں اور عورتوں میں تعلقات کے مختلف مزاج پائے جاتے ہیں۔ مرد زیادہ عورتوں میں دلچسپی رکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ یہ صرف مرد ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات کے نر ایک سے زیادہ ماداوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے بر عکس مادائیں ایک ہی نر میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ یہی وجہ سے کہ بہت سے مرد مختلف عورتوں کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں۔

ٹیپیکل میل ہیرو وہ شخص ہوتا ہے جو ایک کھلاڑی ہوتا ہے۔ بڑے بڑے فلمی ہیرو جن میں جیمز بونڈ جیسے بڑے اداکار شامل ہیں بھی اپنی بیویوں کے ساتھ وفادار نہیں ہوتے۔ دوسری طرف عورتوں کو ہمیشہ سے ایک ہی مرد میں دلچسپی ہوتی ہے۔ شادی ہر لحاظ سے اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ دونوں افراد ایک دوسرے کے ساتھ وفاداری سے پیش آئیں۔ اس کی بھی ایک وجہ ہے۔ شادی معاشرے کے مشترکہ اور اجتماعی نظام کا نتیجہ ہے

جہاں بچوں کو لمبے عرصے تک والد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شادی ایک ایسا ادارہ ہے جو بچوں کے تحفظ اور دیکھ بھال کی ضمانت دیتا ہے۔ مردوں کو ذمہ داری برتنے پر مجبور کرنے کےلیے شادی کو ایک قانونی معاہدے کی شکل دی گئی ہے۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگرچہ شادی ایک اہم ادارہ ہے لیکن یہ مردوں کی طبیعت سے میل نہیں کھاتا۔ یہی وجہ سے کہ گھر میں ٹینشن اور پریشانی کے حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہاں ٹینشن سے مراد میاں بیوی کے آپسی تعلقات کی خرابی یا معاشرے کا دباو نہیں بلکہ شادی کی وجہ سے انسان پر پڑنے والے دباو کی ٹینشن ہے۔

جدید دور میں زیادہ شادیوں کا رواج بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ اس طرح مرد اپنی بیویوں سے وفاداری برت سکیں گے۔ اس طرح شادی مردوں کے کئی عورتوں سے تعلقات کے آگے ایک بند کی صورت میں کھڑی ہو جاتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگرچہ ہم شادی کے وقت تو بہت پر جوش نظر آتے ہیں لیکن کچھ عرصہ بعد ہی شادی شدہ زندگی سے دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور مرد دوسری عورتوں کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اظہار ہم اپنی بیویوں کی موجودگی میں نہیں کرتے۔ ہم دوسری عورتوں کے بارے میں اس وقت بھی سوچتے ہیں

جب ہم اپنی بیوی کی قربت میں مشغول ہوں اور اپنی بیوی کی محبت میں گرفتار ہونے کے باوجود ہمارے خیالات میں دوسری عورتیں گھوم رہی ہوتی ہیں۔ تو اس صورت حال میں جب ہم اپنی بیویوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ہم ان سے پیار کرتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی بیویوں سے محبت تو کرتے ہیں لیکن اس کی نوعیت مختلف ہو جاتی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہم بیوی کے بارے میں فکر اور خیال کرنے لگتے ہیں لیکن یہ دلچسپی جنسی اور رومانوی نہیں ہوتی ۔ بیوی سے محبت تو رہتی ہے لیکن یہ سپورٹ اور ہمدردی کی صورت اختیار کر جاتی ہے اور رومانس سے اس کا تعلق نہیں رہتا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرد ایک ہی بیوی کے ساتھ زندگی بھر کیسے گزارا کر لیتے ہیں۔

ہم میں سے زیادہ نسوانیت پرست ایکسٹرا میریٹل افئیر بنا لیتے ہیں اور ساتھ ہی بیویوں کی دیکھ بھال بھی کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات ان خاندانوں میں بھی دیکھنے کوملتے ہیں جہاں ظاہری طور پر ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جوڑا خوشحال شادی شدہ زندگی گزار رہا ہے۔ ایسے گھروں کے خاوند بھی دوسری عورتوں سے تعلقات قائم رکھتے ہیں ۔

سچ یہ ہے کہ عورتوں کے مقابلے میں شادی کے رشتہ میں مرد زیادہ دھوکہ باز ثابت ہوتے ہیں اس لیے یہ کہاوت سچ ثابت ہوتی ہے کہ عورتوں کو غیر مردوں سے تعلقات کے لیے وجہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن مردوں کو صرف ایک عورت کی۔ دوسری طرف جب عورتوں کو ان کی پسند کا شوہر مل جاتا ہے تو وہ گھر میں آباد ہونے کو ترجیح دیتی ہیں۔

عام عورت کے لیے کامیاب شادی ہی اس کی زندگی کی آبادی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر عورتیں کوشش کرتی ہیں کہ کسی بھی طرح ان کی شادی نہ ٹوٹنے پائے چاہے انہیں اس کے لیے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینا پڑیں۔ اس لحاظ سے مردوں اور عورتوں میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے جو ان کے مختلف رویہ کی وجہ بنتا ہے ۔ شادی کے بعد یہ مرد عورت کے رویہ کا فرق پوری طرح نمایاں ہونے لگتا ہے۔

رویہ اور سوچ میں اس تضاد کی وجہ سے زیادہ قربانی مردوں کو دینی ہوتی ہے۔ انہیں اپنے آپ کو باشعور بنا کر اپنی بیویوں کی طرف متوجہ رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر مرد ایسے برتاو کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی کے تعلق کو جاری رکھنے کے لیے زیادہ محنت عورتیں کرتی ہیں اس لیے عورتوں کی شکایات بھی جائز ہوتی ہیں۔

مردوں کو چاہیے کہ شادی کے معاملے میں زیادہ بہتر طریقے سے اپنا کردار ادا کریں اور اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی کوشش کریں۔ شادی کا رشتہ صرف اسی صورت میں کامیاب رہ سکتا ہے جب میاں بیوی قربانی کے لیے تیار ہوں اور ایک دوسرے کو اس کےحقوق دینے میں کوتاہی نہ کریں۔