عورت ہمبستری کرنے کیلئے کتنا ٹائم مانگتی ہے کم از کم کتنے وقت میں عورت کی تسلی ہو جاتی ہے

0

آج کل نیم حکیموں نے طرح طرح کے غلط تاثرات عوام میں پھیلا رکھے ہیں بعض پرانے نیم حکیموں کے مطابق ایک سال میں ایک بار مباشرت کرنی چاہیے- نیم حکیم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر آپ مہینے میں ایک سے زیادہ بات مباشرت کرتے ہیں تو یہ اپنی قبر کھودنے کے مترادف ہے اس بات کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے- کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کوئی انسان اس لیے مر گیا کیونکہ وہ اپنی بیوی سے ایک ہفتے میں دو بار مباشرت کرتا تھا ؟جی نہیں
تو مطلب صاف واضح ہے کے یہ سرا سر عوام کو بیوقوف بنانے اور پیسے بٹورنے کا ایک ذریعہ ہے اور کچھ نہیں- میرے اکثر کلائنٹس ایسے ہیں جو ایک دن میں دو دو بار بھی مباشرت کرتے ہیں لیکن وہ بلکل تندرست اور صحتمند ہیں نہ ہی انھے کبھی کوئی بیماری لگی ہے اور نہ ہی کوئی جنسی کمزوری نے انہیں چھوا ہے-

مغربی ممالک میں لوگ ہم سے زیادہ مباشرت کرتے ہیں لیکن وہ تو بلکل صحتمند ہوتے ہیں بلکے ہم سے زیادہ صحتمند ہوتے ہیں- جدید سائنس یہ بات ثابت کر چکی ہے جو لوگ کم از کم ایک ہفتے میں دو بار اپنی بیوی سے ہم بستری کرتے ہیں ان کو دوسرے لوگوں کی نسبت موت کا خطرہ پچاس فیصد کم ہوتا ہے جو ایک ماہ میں ایک بار مباشرت کرتے ہیں- ویسے بھی ہمارا مذہب حلال مباشرت کو سکون کا سبب بتاتا ہے تو میرا سوال یہ ہے کہ زیادہ سکون کس طرح سے قابل نقصان ہو سکتا ہے؟

اس کے علاوہ کم از کم ایک ہفتے میں دو بار اپنی بیوی سے ہم بستری کرنے سے مرد مثانے اور پراسٹیٹ کے کینسر سے بھی محفوظ رہتا ہے اور اگر وہ جوانی میں ہفتے میں ایک یا دو بار مباشرت کرنے کا عادی ہوتا ہے تو وہ بڑھاپے میں بھی مباشرت کرنے کے قابل ہوتا ہے-

وقفہ مباشرت:

ایک جماع سے دوسرے جماع میں وقفہ کتنا ہونا چاہیے جس سے قوت مردانہ میں کمی واقع نہ ہواور جب بھی جماع کیا جائے اس سے حقیقی لطف حاصل ہو حقیقی لطف حاصل ہونے سے مردکی جنسی قوت کمزور نہیں ہوتی اور عورت بھی مطمئین اور خوش رہتی ہے طبی لحاظ 3سے 7 یوم بعد جماع کرنا چاہیے 3 دن سپرمز بنتے ھیں اور 4 دن بعد تحلیل ھوکر جسم کا حصہ بن جاتے ھیں کیونکہ دن میں دو بار یا روزانہ جماعکرنے سےچند ہی روزمیں شدید کمزوری سستی اور بلڈ پریشر کا لاحق ھوسکتا ھے اور اکثر
جوڑوں کاپانی ختم ہو جاتا ہےجوانی میں گوڈے آواز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس نقصان کی کسی بھی صورت تلافی نہیں ہوسکتی خلاف ورزی کرتے رہنے سے آخرکو افسوس کرنا پڑتا ہے ذیادہ منی کا اخراج بار بار نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ چیزانسانی جسم میں وافر مقدار میں نہیں بنتی طبی لحاظ 4سے 7 یوم بعد جماع کرنےسے جسم میں کسی قسم کی کمی یاں کمزوری نہیں ہوتی اورقدرتی حقیقی لطف حاصل ہوتا ہے تمام ذندگی تک مختلف امراض سے بچا جاسکتا ہے