نئی زمینوں کی تلاش میں ناسا کا جدید سیٹلائٹ کل روانہ ہوگا –

0

نیویارک: امریکی خلائی تحقیقی ادارہ ناسا منگل کو خلا میں نیا سیٹلائٹ بھیج رہا ہے جس کا مقصد نظام شمسی کے باہر ایسے سیاروں کی تلاش ہے جو قریب ترین اور روشن ترین ستاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔

TESS نامی خلائی جہاز فلوریڈا میں کیپ کنیورل ائیر فورس اسٹیشن سے صبح لانچ کیا جائے گا جس کے ٹیلی اسکوپس کے ذریعے ناسا مستقبل میں خلا میں گھومنے والے سیاروں پر زندگی کی تلاش کرے گا۔

ٹرانزیٹنگ ایگزوپلینٹ سروے سیٹلائٹ تقریباً پورے آسمان کا سروے کرے گا اور یہ ابتدا میں جنوبی نصف کرے پر ایک سال گزارے گا جس کے بعد ایک سال شمالی نصف کرے پر گزار کر اس کا سروے کرے گا۔

ناسا کے لانچ سروس پروگرام کے سینئر ڈائریکٹر عمر بائز کا کہنا ہے کہ ہم نے سیٹلائٹ چھوڑنے کے سلسلے میں ہر چیز کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لے لیا ہے اور تمام معاملات درست جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ ’ٹیس‘ سے قبل خلا میں بھیجے جانے والے کیپلر اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنے دورانیے میں دو ہزار چھ سو سے زائد مصدقہ ایگزوپلینٹس دریافت کیے ہیں۔

ایگزو پلینٹس ان سیاروں کو کہا جاتا ہے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ہیں اور قریب ترین ایگزوپلینٹ ’پروگزیما سینٹوری‘ زمین سے 4.2 نوری سال دوری پر واقع ہے۔ ان کی دریافت کے بعد زمین سے باہر زندگی کی تلاش میں سائنس دانوں کی دل چسپی مزید بڑھ گئی ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ کے ذریعے ان سیاروں کی کھوج کی جائے گی جو زمین کی طرح اپنے اپنے میزبان سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ یہ ان سیاروں کا میزبان ستارے سے فاصلہ، حجم اور دیگر اہم معلومات بھی فراہم کرے گا، جس سے ان سیاروں پر زندگی کے امکانات سے متعلق آگاہی ملے گی۔