Urdu Khabrain
Urdu Khabrain is the world most populated Urdu News website. You can find and read daily Urdu news.

چہرے سے چکناہٹ صاف کرنے کے 7 طریقے

36

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)گرمی کے چلچلاتے دن آچکے ہیں، ایسے میں ہمیں چاہیئے کہ اس شدید موسم سے بچنے کے لئے کچھ انتظامات کرلیں۔گرمی میں سب سے ذیادہ متائثر ہونے والی چیز ہمارے چہرے کی جلدہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جلد جسم کا ظاہری حصہ ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ صرف سن بلاک اور اوپری چیزیں جلد کو دھوپ اور گرمی کے اثر
سے بچانے کے لئے کافی نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات اس موسم میں چہرے پر چکناہٹ ہوجاتی ہے ، جو آپ کے مزاج اور جلد دونوں کو بگاڑ دیتا ہے۔آج ہم آپ کو چہرے سے چکناہٹ صاف کرنے کے چند ٹوٹکے بتائیں گے تاکہ آپ اس شدید موسم میں خود کو اور اپنے چہرے کو محفوظ رکھ سکے۔٭فیس واش کا استعمالاپنے چہرے سے چکناہٹ کو صاف کرنے کیلئے آپ کو چاہیے کہ آپ اپنے پیسے کسی اچھےفیش واش پر کریں اور اسے روزانہ دن میں دو بار استعمال کریں۔جلد میں موجود چکنائی آپ کے چہرے پر چھوٹے سوراخ کردیتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ فیس واش کا استعمال احتیاط سے کیا جائے۔٭میسیلر پانی کا استعمال کریںمیسیلر پانی میں تیل کے ایسے زرات موجود ہوتے ہیں جو آپ کے چہرے پر چکناہٹ کو ختم کردیتا ہے اور آپ کے چہرے کو جلدی خشک نہیں ہونے دیتا۔٭بلوٹنگ پیپر بلوٹنگ پیپر میں گلائی کولک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو آپ کے چہرے سے چکناہٹ کو ختم کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے ، اس ہر دن دو مرتبہ ضرور استعمال کریں۔٭ماسک مٹی کا ماسک چہرے سے چکناہٹ کو ختم کرنے کیلئے سب سے مفید ٹوٹکا مانا جاتا ہے جس کا استعمال آپ کو ہفتہ

میں ایک دن ضرور کرنا چاہیے۔٭ڈائٹ کا خاص خیال رکھیںایسی خوراک کا استعمال بلکل نہ کریں جن میں شوگر یا چکنائی زیادہ مقدار میں موجود ہو بلکہ ان خوراک کا استعمال کریں جو اینٹی اوکسیڈنٹ سے بھرپور ہو۔٭فیشیئل کروائیںاگر آپ سلون میں فیشیئل کروانے کے عادی ہیں تو خبردار ہوجائیں بھاپ کی مدد سے کیے جانےوالے فیشیئل کا استعمال کبھی نہ کریں کیونکہ اس سے آپ کے چہرے پر چکناہٹ کی سطح بڑھ جاتی ہے۔٭جلد کے ماہرین سے رجوع کریںبعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کی جلد، بیماری کی وجہ سے جلدی خراب ہوجاتی ہے۔ ایسے میں آپ کو جلد کے ماہرین کو دکھانا بےحد ضروری ہے۔ تاکہ اس کی دی گئی دوائیوں سے آپ کے چہرے پر چکناہٹ ختم ہوجائے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.