انخلاء کیلئے کوشاں افغان ڈانسر زندگی سے خوفزدہ

0

طالبان کے ہاتھوں مارے جانے کے خدشے کے پیش نظر کابل سے انخلاء کے لیے کوشاں ایک افغان ہپ ہاپ ڈانسر افغانستان میں اپنی زندگی کے بارے میں خوفزدہ ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق انتقامی کارروائیوں کے خوف سے 27 سالہ استاد اور کوریوگرافر نے اپنا نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ’ہپ ہاپ مغربی ثقافت ہے اور طالبان اس سے نفرت کرتے ہیں۔‘

1996 سے 2001 تک طالبان کے افغانستان میں اقتدار کا حوالہ دیتے ہوئے افغان ڈانسر نے ویڈیو کال پر بتایا کہ ’20 سال پہلے اگر کوئی شخص اس قسم کے کاموں میں فعال پکڑا گیا تو اس کا سر قلم کر دیا گیا یا اسے گولی مار دی گئی۔‘

نہوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ ملک چھوڑنے میں کامیاب ہوجائیں اور اپنی زندگی بچاسکیں تو یہ معجزہ ہوگا‘

واضح رہے کہ طالبان کابل فتح کرنے کے بعد یہ بیان دے چکے ہیں کہ وہ خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام کریں گے لیکن اس کے باوجود بھی بہت سے افغانی شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔

دو خواتین سمیت ساتھی ڈانسرز کے ایک عملے کے ساتھ، اس افغان ڈانسر نے اسٹریٹ ڈانس سیکھا اور اس کے بعد افغانستان اور بھارت میں کئی شوز میں پرفارم کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد، جنہوں نے اپنے پہلے اقتدار کے دور میں افغانستان میں موسیقی کے آلات بجانے پر پابندی عائد کی تھی، اس طرح کے رقص کو یقینی طور پر غیر قانونی قرار دے دیا جائے گا۔

افغان ہزارہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے ڈانسر کا کہنا ہے کہ ’وہ پوری کوشش کریں گے کہ ایئرپورٹ جاکر فلائٹ لے سکیں۔‘

____________________________________________________________

امریکیوں کو پاکستانی ہوٹلوں میں بٹھادیا ،اب اسلام آباد کی طرف مارچ اور جلسے ہونگے

کابل :گاڑی سے ایئرپورٹ پر راکٹ داغے گئے

پی ڈی ایم کا کراچی میں سیاسی قوت کا مظاہرہ ، تیاریاں مکمل

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.