بابا فرید گنج شکر کا بوقت ولادت دودھ نا پینا

0

 بابا فرید گنج شکرؒ کا بوقت ولادت دودھ نا پینا
بابا فرید گنج شکرؒ رحمتہ اللہ 29 شعبان المعظم کو پیدا ہوئے اور لوگوں کے چاند کے مسائل کی وجہ سے اختلاف
پیدا ہوگیا تھا کیونکہ اس وقت آسمان پر بادل چھاہے ہوے تھے اور چاند دیکھنا محال تھا ۔ لوگوں نے آپ رحمتہ علیہ کےوالد کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا ہم بادلوں کی وجہ سے چاند نہیں دیکھ پارہے تھے اور اس پریشانی میں مبتلا ہیں کہ آ یا ہم روزہ رکھیں یا نہ رکھیں؟ آپ رحمتہ للہ علیہ کے والد  نے فرمایا کہ فتوی کے مطابق چاند کی 29 تاریخ کو مطلع ابر آلود ہو تو 30 دن پورے کرنے لازم ہیں اور میرا کہنا یہی ہے کہ تم 30 دن پورے کرو۔ لوگ حضرت قاضی جمال الدین رحمتہ اللہ علیہ کے جواب سے مطمئن نہ ہوئے اور لوگ کوٹھیوال میں مقیم ایک مجذوب کے پاس گئے اور اس رمضان المبارک کے چاند کا مسئلہ دریافت کیا ۔ مجذوب نے کہا اس وقت قاضی جمال الدین سلیمان رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں جو بچہ ہوا ہے وہ اگر ماں کا دودھ پیی لے تو جان لینا کہ کل روزہ نہیں ہے اور اگر دودھ نہ پئے توجان لینا کہ کل روزہ ہوگا ۔ لوگ دوبارہ حضرت جمال الدین سلیمان رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نومولود کے دودھ پینے کے متعلق دریافت کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بچہ نے دودھ نہیں پیا چناچہ لوگ

جان گئے آج یکم رمضان المبارک ہوچکی ہے۔

ڈاکو کو قطب کس ولی نے بنایا؟

صحابہ کرم کی شان میں گستاخی ڈاکٹر طاہر القادری

تیرہ 13 رجب جشن ولادت مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ ،علامہ مظہر حسین علوی

جان بوجھ کر روزہ توڑنے کا کفارہ کیا ہوگا، علامہ مولانا مفتی مشتاق احمد نورانی

روزہ کن کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور کن چیزوں سے نہیں جانیے علامہ مولانا مفتی اشتیاق احمد نورانی سے

طلوع سحر ہے شام قلندر (قلندری دھمال) نعت خواں ظہیر قادری

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.